صد سالہ تاسیس جمعیت - آصف محمود

جمعیت کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں اضاخیل میں جمعیت علمائے اسلام کا سہ روزہ اجتماع ہونے جا رہا ہے جس میں جہاں دارالعلوم دیوبند بھارت سے اکابرین دیوبند آ رہے ہیں وہیں امام کعبہ بھی تشریف لا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں آج سہ پہر جناب مولانا فضل الرحمن نے کچھ کالم نگاروں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا تھا۔ برادر مکرم مفتی ابرار صاحب سے وعدہ بھی کیا کہ ضرور حاضر ہوں گا لیکن وکالتی مصروفیات نے ایسے آ لیا کہ مفتی صاحب سے معذرت کرنا پڑی، تاہم میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں اور ان شاء اللہ اضاخیل کے اجتماع میں شرکت کا مصمم ارادہ ہے۔

دیوبند، برصغیر کی تاریخ کا ایک روشن نام ہے۔ میں نے اپنے بچپن، لڑکپن اور جوانی میں انسانی وجود میں مجسم کردار کے جو ہمالے دیکھے، وہ اسی دیوبند کے فارغ التحصیل تھے. ہمارے خاندان کے بزرگ حضرت مولانا غلام نقشبند، جماعت اسلامی کے مقامی امیر تھے اور کردار ایسا تھا کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ سیاسی مخالفین بھی ان کا نام احترام سے لیتے تھے۔ مجھ سے کوئی سوال کرے کہ انسان کا کردار، اس کی خودی، اس کی خود داری، اور اس کی حریت فکر اپنے کمال پر ہو تو وہ کیا ہوتا ہے؟ میں جواب دوں گا وہ مولانا غلام نقشبند ہوتا ہے۔ آج بھی ان خوبیوں کا کہیں ذکر ہو تو ان کی تصویر آنکھوں میں اتر آتی ہے۔ تصویر وہ نہیں بنواتے تھے اور رعب کا یہ عالم تھا کہ کسی کی جرات نہ تھی کوئی تصویر اتار سکے۔ ایک روز میں نے کیمرہ لیا اور کہا کہ یہ کون سی بات ہے، میں تصویر بنا کے لاتا ہوں۔ وہ چارپائی پر آرام کر رہے تھے، میں گیا اور ان کے سامنے کھڑا ہو کر تصویر بنا لی۔ انہوں نے ایک نظر دیکھا، دایاں ہاتھ اٹھا کر اسے دائیں سے بائیں جانب گھمایا، گویا کہہ رہے ہوں کیا فضول کام کر رہے ہو۔ بس اتنا ہی کیا۔ کہا کچھ نہیں۔ گذشتہ ہفتے والدین سے ملنے سرگودھا گیا تو والدہ نے وہی تصویر دکھائی کہ یہ دیکھو تم نے بنائی تھی، بس یہی ایک تصویر موجود ہے۔ تصویر میں ان کا ہاتھ ہوا میں معلق تھا۔ یوں لگا تصویر بول رہی ہو کہ کن فضول کاموں میں پڑے ہوئے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

حضرت مولانا شہاب الدین سرگودھوی۔ علم، تقوی، متانت، وقار، کردار آپ میں مجسم تھا۔ دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ بہت رعب تھا ان کا۔ خلق خدا بشمول میرے والد محترم کے وہ مرشد تھے، لیکن میرے دوست تھے۔ دوستی کی شروعات اسی فوٹو گرافی سے ہوئیں۔ معلوم ہوا حضرت صاحب کی کوئی تصویر نہیں ہے۔ میں نے کہا لو جی یہ کون سا کام ہے، کیمرہ دو، میں بنا لاتا ہوں۔ میں کیمرہ لے کر مسجد پہنچا، حضرت صاحب نفل پڑھ رہے تھے، میں نے ٹھک سے جا کر تصویر بنا ڈالی، لیکن برا ہو کیمرے کی فلیش کا. اس کی چمک ایسی تھی کہ انہیں معلوم ہوگیا۔ نماز توڑ دی اور میرے ہاتھ سے کیمرہ لے لیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے مسکرا پڑے اور ہماری دوستی ہو گئی۔ آج مجھ سے کوئی پوچھے داعی کیا ہوتا ہے اور کیسا ہوتا ہے تو میں کہوں گا حضرت شہاب الدین جیسا ہوتا ہے۔ انہیں ایک لمحے میں معلوم ہو گیا کہ سختی کی تو بندہ گیا، چنانچہ دوستی کر لی اور ہمیشہ شفقت و محبت سے پیش آئے۔ یہ ہوتا ہے داعی کا ظرف۔

والد صاحب صبح کی نماز کے لیے بھی مسجد لے کر جاتے تھے۔ یہ کام سب سے زیادہ مشکل ہوتا تھا۔ اب ہوتا یہ کہ والد صاحب مسجد کی طرف نکلتے تو میں پیچھے سو جاتا۔ مولانا نے غیر حاضری محسوس کر لی۔ ایک روز پکڑ لیا۔ ایڈیٹر صبح کی نماز میں کیوں نہیں آتے۔ میں ان دنوں مقامی اخبارات میں لکھتا رہتا تھا اور وہ مجھے ایڈیٹر کہہ کر بلاتے تھے. میں نے کہا جی میں صبح واک پر جاتا ہوں تو وہیں نماز پڑھتا ہوں۔ اس وقت میرے ذہن میں یہی بہانہ آیا تھا۔ مسکرائے اور کہا کہ واک پہ مجھے بھی لے جایا کرو۔ کل سے یہاں نماز پڑھیں گے اور اکٹھے چلیں گے واک پر۔ اب میرے پاس فجر کی نماز سے غیر حاضری کا کوئی بہانہ نہ تھا۔ اگلے روز نہ میں نے ان سے کہا کہ جانا ہے واک پر یا نہیں، نہ ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ وہ جو چاہتے تھے وہ ہو چکا تھا اور میں نماز کے بعد واک پر جا کر مزید نیند کی قربانی نہیں دے سکتا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

ان کے ہاں ذکر اور درود کی محفلیں ہوتی تھیں۔ ایک روز کوئی بہت بڑا اجتماع ہونے والا تھا۔ مریدین کے ہجوم میں تشریف فرما تھے۔ مجھے بلایا اور کہا کہ کل کے اجتماع میں تم نے ضرور آنا ہے۔ میں نے کہا کل تو مشکل ہے، کل کرکٹ میچ ہے اور میں نے میچ دیکھنا ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے ان کی خدمت میں موجود علماء اور طلبہ نے کس خوفناک نگاہوں سے مجھ گستاخ کی طرف دیکھا تھا۔ کہنے لگے واہ! یہ تو بہت اچھا ہوگیا۔ تم گھر میں میچ ہی دیکھو لیکن یوں کرو، بیچ میں ایک دو دفعہ مجھے بھی آ کر بتا دینا کہ میچ کی صورت حال کیا ہے۔ اب میں تو یہاں مصروف ہوں گا، میچ دیکھ نہیں سکوں گا۔ حضرت صاحب کی بلا جانے کرکٹ کیا ہوتی تھی لیکن انہیں یہ معلوم تھا کہ داعی کیا ہوتا ہے۔ اگلے روز میں میچ کی صورت حال بتا کر جب واپس جا رہا تھا تو درود پاک کی ایک تسبیح پڑھ چکا تھا۔ آج جب کنپٹیاں سفید ہو چکی ہیں، سمجھ آنا شروع ہوا ہے کہ ہزاروں لوگوں کے حضرت صاحب اس گستاخ کے دوست کیوں بنے۔ آج سمجھ آ رہی ہے کہ دعوت کا اسلوب کیا ہوتا ہے۔

حضرت مولانا عبدالغفور وجھوکوی، کردار کا ایک بہت بڑا حوالہ، وہ بھی دارالعلوم دیوبند کے تعلیم یافتہ تھے۔ میں اگر غلط نہیں تو مختلف علاقوں میں علمی وجاہت اور کردار کے حوالے سے جو بزرگ معروف تھے، اکثریت کا تعلق دارالعلوم دیوبند سے تھا۔

تو اگر اس علمی نسبت سے کوئی پروگرام اضاخیل میں ہو رہا ہے تو یہ طالب علم وہاں کیسے نہ جائے؟ ضرور حاضر ہوں گا اور ایک سوال بھی میرے ہمراہ ہوگا: وہ جو اکابرین دیوبند کا کردار تھا، وہ کیا ہوا؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.