کنویں کے مینڈک - محسن حدید

جب ہم نویں یا دسویں جماعت میں تھے تو ہمارا محبوب مشغلہ کتابیں یا شاعری وغیرہ پڑھنا ہوتا تھا. کچھ میرے جیسے آدھے پونے شاعر ٹوٹے پھوٹے اشعار بھی کہہ لیتے تھے. ہماری کتابوں کے صفحات بھی اشعار/ اقوال سے بھرے ہوتے تھے. پھر ہم کالج میں پہنچے تو تبدیلی آنا شروع ہوگئی لیکن یہ وہ دن تھے جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوچکا تھا. ملک کی فضا میں ایک عجیب طرح کا تناؤ تھا. تقریریں تو میں بچپن سے کرتا آیا تھا لیکن پرنسپل صاحب تھوڑے مذہبی ٹائپ تھے. ایک دن مجھے دفتر میں بلایا اور کہا ہم بزم ادب کا ایک پروگرام کرنا چاہتے ہیں، اس میں تقریر تمھاری ہوگی. میں نے کہا ٹھیک ہے. اس دن کالج اور سکول میں چھٹی تھی، تقریر ہوئی، لکھی میں نے خود ہی تھی. ان دنوں عرفان صدیقی صاحب کا نقش خیال زیر مطالعہ تھا، سو مشرف کی امریکہ نوازی کی خوب کلاس لی. مجھے آج بھی یاد ہے کہ نسیم حجازی کے ناولوں سے حوالے دے دے کر جس طرح مشرف کو للکارا تھا، وہ میری پہلی مجمع گیری کی واردات تھی. کالج کے بالکل سامنے ہی پولیس سٹیشن تھا، بعد میں پرنسپل صاحب کو وضاحت بھی دینا پڑی تھی شاید۔ اگر مجھے ان کا اعتماد حاصل نہ ہوتا تو کبھی میرے اندر اتنا حوصلہ نہ جاگتا. یہ میرے بچپنے کا ایک طرح سے اختتام تھا، اس کے بعد سوچ ایسی بدلی کہ کتابوں میں شعر لکھنا بھول ہی گئے. انھی دنوں میں ہمجولیوں سے بھی تقریبا ناطہ ٹوٹ سا گی.ا کتابوں اور شاعری کی جگہ بہت حد تک کرکٹ، ٹینس اور فٹ بال نے لے لی لیکن یہ سب چونکہ بتدریج ہوا، سو گزارہ چل گیا.

گذشتہ دنوں گاؤں گیا تو ایک کزن کی میٹرک کی کتاب اٹھا لی، حیرت کا پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب پوری کتاب پر ایک بھی شعر نہیں لکھا تھا. میں نے سوچا شاید اس کی طبیعت ادھر نہیں جاتی ہوگی، دو تین اور جاننے والے بچوں کی کتابیں دیکھیں تو حیرت مستقل ہوگئی. کسی کتاب پر کوئی شعر نہیں، کوئی قول نہیں، کسی بھی قسم کی لطیف بات نظر نہ آئی، ایک دو کو کریدا تو پتا چلا سارا دن سکول میں کھپ کر آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور پھر ٹیوشن پڑھنے نکل جاتے ہیں، حس لطافت کہاں سے پھڑکے، ایک آدھ کی پھڑک بھی جائے تو ماسٹر یا استانی اس کی لتریشن ہی ایسی کرتے ہیں کہ دوبارہ ایسا نشہ چڑھتا ہی نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   ہر ایک ریلیشن شپ میں ہے - نیر تاباں

مجھے افسوس ہوا کہ ہم کس طرف نکل گئے ہیں، جن بچوں کی کوئی ہم نصابی سرگرمی ہی نہیں وہ کہاں جائیں گے. نمبروں کی دوڑ میں بھاگتے ہانپتے اعتماد سے محروم بچے اس قوم کو کیسے اٹھائیں گے؟ جو نسل آگے آرہی ہے وہ کتنی پریکٹیکل ہوگی؟ سوچ کر ہی لرز گیا ہوں. جب ہمارا بچپن تھا تو 23 مارچ، 14 اگست اور عید میلاد النبی جیسے مواقع پر سکولوں میں باقاعدہ بزم ادب ہوتی تھی، اساتذہ ذاتی دلچسپی لیتے تھے، اب ذہین بچے (یا جن کا رٹا کمال ہو) جنھیں سکول والے اپنے لیے سونے کی چڑیا سمجھتے ہیں، جس طرح قربانی والے بیل کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، اسے بچا کے رکھا جاتا ہے، ایسا ہی ان بچوں کے ساتھ برتاؤ ہوتا ہے کہ رزلٹ کے بعد ان کا نام جو بیچنا ہوتا ہے.

یہ رویہ ایک صحت مند قوم کی تعمیر میں باقاعدہ ایک رکاوٹ بنتا جارہا ہے. ہمیں اس حوالے سے کچھ خاص کرنا ہوگا تاکہ کل کو یہ بچے اس قوم کو آگے لے کر جا سکیں. یہ نہ ہو کہ یہ کتابی کیڑے ہمارے اجتماعی جمود پر ایک مہر ثبت کر دیں. کھیلوں کے گراؤنڈز کی ویرانی اس کے سوا ہے. سکول کرکٹ، ہاکی، بیڈمنٹن، باسکٹ بال وغیرہ کی ٹیمیں اکثر جگہ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، حالانکہ ہمارے زمانے میں یہ بہت زیادہ دلچسپی کی سرگرمی ہوتی تھی. اپنی سکول ٹیم کے کرکٹ، کبڈی اور فٹبال کے میچز دیکھنے تو دوسرے شہروں میں بھی جایا کرتے تھے. بسوں کی چھتوں پر بیٹھے نعرے لگاتے، جھومتےگاتے بچے اب خواب و خیال ہی ہوگئے. سوچ لیں، دیکھ لیں، ذہنی طور پر تروتازہ بچے اس معاشرے کی بہت اہم ضرورت ہیں، ورنہ معاشرتی زندگی کی تباہی کے لیے تیار رہیں.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.