‏قانون ہی مجرم ہے - محمد بلال خان

پاکستان کا قانون ایسا مظلوم ہے کہ اسے غریب بھی کوستا ہے، امیر بھی گالی دیتا ہے، قانون کا رکھوالا بھی اس پر برہم ہے تو قانون شکن بھی اسے ہی دوش دیتا ہے، یہاں جب تک کسی کے ہاتھ میں قانون ہوتا ہے تو اس کا جی بھر کر کا بےدریغ ناجائز استعمال کیا جاتا ہے، اور جب قانون ہاتھ میں نہ ہو، اختیارات چھن جائیں تو تب بھی قانون کو مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔

وطن عزیز میں سب سے زیادہ قانون شکنی خود قانون بنالے والے مقتدر طبقے کے ہاتھوں ہوتی ہے، غریب یا نچلے طبقے کا فرد تو قانون شکنی پر شکنجے میں آجاتا ہے، لیکن اشرافیہ اور حکمران طبقہ قانون کو کھلونا سمجھ کر دھجیاں بکھیرتا ہے، قومی خزانوں پر ہاتھ ساف کرکے اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث افراد بھی عدالتوں میں پیش ہو کر فتح کا نشان بلند کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ ملک و ملت کے ساتھ غداری کرنے والے کرسی چھوڑنے کے بعد بیرون ملک فرار ہو کر ڈھٹائی کے ساتھ اپنی غداری کا نہ صرف اعتراف کرتے ہیں، بلکہ اس کا دفاع کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

اسی قانون سے سابق صدر کی چہیتی ماڈل اربوں ڈالرز کا کالا دھن کرتے ہوئے گرفتار ہوتی ہے، اور کچھ عرصے بعد قانون کو ٹھوکر سے اڑا کر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے وطن کی خاک کو شرمندہ کرتی ہے، اسی دھرتی کے لوگوں پر حکمرانی کرنے والا صوبائی وزیر عوامی خزانہ لوٹ کر سالہا سال تک بیرون ملک فرار ہونے والا سابق وزیر اور رکن اسمبلی وطن واپس آکر اسی قانون سے حفاظتی ضمانت پاتا ہے، اور پھر قانون کو ’’جنگل کا قانون‘‘ کہہ دیتا ہے۔
اسی قانون کو اپنی ڈائری کا ورق سمجھنے والے قانون شکن آمر اپنا حکمرانی کا کوٹہ پورا کرنے کے بعد اس قانون کو ناکام قرار دیتے ہوئے اپنے جرم کا سبب بھی قانون کو ٹھہراتے ہیں۔ اور تو اور عشروں تک انصاف کی سب سے اونچی مسند پر براجمان رہنے والا منصف بھی اپنا وقت گزارنے کے بعد قانون کو ظالم کہتے ہوئے انصاف کی عدم دستیابی کا رونا روتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

ملک وملت کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگانے والا، دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کو اپنے وی آئی پی ہسپتال میں پالنے پوسنے والا، صرف 50 لاکھ مچلکے جمع کروا کر عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے اسے ’’قانون کی فتح‘‘ کہتا ہے، حالانکہ یہی وہ فرد تھا، جو کل تک جیل میں تھا تو قانون کو ’’جنگل راج‘‘ اور ظلم کہتا تھا، کل تک جن کے ہاتھوں میں گرفتار ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا، آج انھی گرفتار کرنے والوں کو بطور محافظ اپنے ساتھ لیکر فاتحانہ انداز اپنائے ہوئے تھا.

پوری قوم کے کا سر شرم سے اس وقت جھک جاتا ہے، جب ایک لٹیرے ، چور اور قومی کو مجرم کو تو سونے کی تاج پوشی کی جاتی ہے، ملک کو لوٹنے والوں کو تو کھلی فضاؤں میں آزاد چھوڑا جاتا ہے، لیکن اپنے ہی ہاتھوں اپنی عزت اغیار کے ہاتھوں میں دیے 14 سال مکمل ہورہے ہیں، لیکن آج بھی قوم کی غیرت و حمیت عافیہ صدیقی قیدِ تنہائی میں اغیار کے ستم سہہ رہی ہے، چند ڈالرز کے عوض اپنی عزت بیچنے والے بھی قانون کے رکھوالے کہلاتے ہیں، اسی عافیہ کو قانونی آزادی دلوانے کے وعدے کرنے والے عافیہ کی ماں کے پیر چھو کر وعدے کرکے ووٹ بٹورتے رہے، لیکن برسراقتدار ہونے کے باوجود عافیہ کے لیے ایک ’’قانونی خط‘‘ نہ لکھ سکے، انھی سورماؤں کا دعویٰ رہا کہ یہ پاکستان میں قانون کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، لیکن یہی وہ لوگ ہیں، جو اپنی چوریاں چھپانے کے لیے شاہانِ جہاں سے خطوط کا ڈھیر لکھوا لائے، اور اسے مستند قانونی جواز بنا کر پیش کرتے رہے۔

ظلم تو اس قدر یہ ہے کہ یہاں حکمرانوں اور اشرافیہ کی کرپشن کیخلاف قانون حرکت میں آئے تو مخالف کے لیے قانون کا انصاف مانگا جاتا ہے، لیکن وہی قانون اپنے خلاف فیصلہ کردے تو قانون منصف نہیں۔ کیا پاکستان میں قانون ہی مجرم ہے، یا آئین کی وہ کتاب مجرم ہے کہ جس کے اوراق پر ہر جرم کی سزا اور اس کا حل درج ہے، یا پھر مجرم ہر وہ ذہن ہے، وہ فکر، وہ سوچ اور وہ کردار ہے، جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جہاں موقع پاتا ہے قانون کو پیروں تلے روندتا ہے، اور جب قانون کی گرفت میں آتا ہے تو شکوہ کناں بھی قانون سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا نیا چینل واقعی اسلام کو پیش کرے گا - حامد کمال الدین

پاکستانی عوام کو اب قانون کے ساتھ کھیلنے والوں کی پہچان رکھنی چاہیے کہ جو قوم کے لیے قانون بناتے ہیں، لیکن وہ انھی قوانین کو خود پر لاگو کرتے ہوئے انہیں اپنا تابع بناتے ہیں۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.