املتاس، امید کا پھول - ثناء اللہ خان احسن

املتاس کے درخت ہوتے ہیں، جن میں زرد مہکتے پھولوں کے گچھے کے گچھے لٹکتے ہیں کہ پورا درخت لگتا ہے زرد سہرا پہنے ہو۔ پیلے رنگ کے پھول توگیندے کے پھول کے بھی ہوتے ہیں جو اکثر شادی بیاہ باالخصوص مہندی کی تقریبات اور بسنت کے تہوار پر خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں مگر املتاس کے پھول صرف درختوں پر لٹکتے ہی اچھے لگتے ہیں۔ ان سے بناوٹ، سجاوٹ کا کام نہیں لیا جاتا حالانکہ یہ پھول مقدار میں زیادہ، سائز میں کافی بڑے اور اس کے درخت پر پتے نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ دل کے نہاں خانوں سے آواز آتی ہے کہ اس کی پیلی زلفوں کے نیچے بیٹھ جائیں، جانے پھر کب موقع ملے گا؟ خوبصورت منظر، نظارے دل و دماغ کو اور بھی مسخر کر دیتے ہیں۔ دور دور تک اس کے پھولوں کی مسحور کن مہک پھیلی رہتی ہے۔ ایسی خوشبو کہ سبحان اللہ۔ پھر پھلیاں لگتی ہیں جو ایک سے دو فٹ لمبی ہوتی ہیں۔ اسی لیے شاید نیپالی میں اس درخت کو بندر لاٹھی کہا جاتا ہے۔ ان پر سخت چھلکا ہوتا ہے۔ پکنے پر یہ گہرے براؤن بلکہ کتھئی رنگ کی ہو جاتی ہیں۔ جب ہوا چلتی ہے تو یہ پھلیاں آپس میں ٹکرا کر تالیاں بجاتی ہیں۔ بالکل چائنیز ووڈن چائم جیسی مدھر آواز۔

یہ پھلیاں دیمک بھگانے کی تاثیر بھی رکھتی ہیں۔ املتاس کی پھلی جو پکنے کے بعد ڈارک براؤن ہو جاتی ہے، کسی پنساری سے لے لیں یا کراچی میں تو عام پارکوں میں لگی ہوتی ہے، اس کے تقریبا چھ انچ کے ٹکڑے جگہ جگہ ہر کمر ے میں رکھ دیجیے، مگر پھلی ثابت نہیں بلکہ توڑ کر رکھیے اور ہر سال بعد بدل دیجیے۔

یہ درخت اپنے آس پاس ایک ایسا ماحول بناتا ہے جو زندگی کی ناقابل فراموش یاد بن جاتا ہے۔ اس کی پھلیوں کا گودہ مغز خیار شنبر کہلاتا ہے اور بے شمار ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اس کی پھلیاں اکٹھی کر کے پنساریوں کو فروخت کرتے ہیں۔ اس کے پھولوں کا گل قند بھی بنتا ہے۔ لیکن اس کی پھولوں کی خوشبو کی تو بات ہی کیا ہے۔ ایسی بھینی بھینی اور دلفریب مہک ہوتی ہے کہ دل کرتا ہے آنکھیں بند کر کے گہرے گہرے سانس لیتے رہو۔ ولیم ورڈس ورتھ کے ڈیفوڈلس کی طرح اس کے پھول اور خوشبو بھی ہمیشہ کے لیے آپ کے ذہن میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اس کا پرفیوم بھی دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   معدے میں تیزابیت کا علاج آپ کے کچن میں

املتاس کے بےشمار طبی فوائد بھی ہیں۔ تپ دق یا ٹی بی کے مرض میں جدید تحقیقات میں بہت ہی مفید ثابت ہوا ہے۔ بھوک اور وزن میں لگاتار کمی، ہلکا بخار، بہت جلد تھکاوٹ ہونا، خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہو، اور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں درد وغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ طب یونانی میں بھی اس مرض کا مؤثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدید ادویات تیار کی جا رہی ہیں ۔

املتاس کا سنسکرت نام ارگ وادھا ہے یعنی بیماریوں کو مارنے والا اور اس کے اسم بمسمی ہونے کی گواہی وہ طبی نسخہ جات دیتے ہیں جو برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں صدیوں سے رائج ہیں اور بےشمار امراض میں ان گنت مریضوں کو شفایاب کر چکے ہیں۔ دنیا کے بہت سے جاگے ہوئے ممالک میں ان نسخہ جات کی جدید علوم کی روشنی میں نہ صرف توثیق کی جا رہی ہے بلکہ ان میں بہتری بھی لائی جا رہی ہے۔ ہم بھی نجانے ایسی کتنی ہی ادویات استعمال کر رہے ہوں گے جن میں وہ اجزا موجود ہوں گے جو املتاس یا ہمارے دوسرے نباتاتی ورثےسے لیے گئے ہوں گے۔

‎املتاس کا گودا
اس کے پھل کا گودا جلاب کے لیے استعمال ہوتا ہے، ورم کو گھلاتا ہے اور کھانسی میں فائدہ دیتا ہے۔ منہ پکنے، حلق سوجنے اور گلے کی نالی کے زخم، خراش اور ورم کے لیے اس کا گودا دودھ میں جوش دے کر اس سے غرارہ کریں۔ بچوں کے اپھارے میں یہ گودا سونف کے عرق میں پیس کر بچے کی ناف کے ارد گرد لیپ کریں۔ فوری تسکین ہو جاتی ہے۔

املتاس کاگل قند
‎املتاس کے پھول قبض کشا ہیں اور کھانسی کے لیے مفید ہیں۔ پھول صاف کر کے ان سے دگنا وزن شکر ملائیں۔ کسی مرتبان (شیشہ کا بند ڈھکنے والا برتن) میں ڈال کر 4 یا 5 دن دھوپ میں رکھیں۔ روزانہ 10 سے 40 گرام تک استعمال کرنے سے ہائی بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ دائمی قبض کے لیے اس کے پھول گوشت میں پکا کر کچھ دن تک کھائیں۔ قبض دور اور آنتوں کا فعل ان شاء اللہ العزیز درست ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   معدے میں تیزابیت کا علاج آپ کے کچن میں

ٹانسلز کا علاج:
سیاہ پھلیوں کا گودا ہی ’’مغز املتاس‘‘ کہلاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ دوا کو ’’لعوق خیارشنبر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے دو چمچے ایک پیالی گرم پانی میں ملا کر سوتے وقت اور صبح پیئں۔ یہ کھانسی اور قبض میں بھی مفید ہے۔ مغز املتاس سے غرارے بھی کرائے جاتے ہیں۔ 25 گرام مغز کو ایک پیالی دودھ اور ایک پیالی پانی میں ملا کر ہلکا جوش دیجیے۔ جب ایک جوش آ جائے تو چھان کر نیم گرم پانی سے غرارے کیجیے۔ مرض کے آغاز میں ہی معالج سے مشورہ کرنے سے مزید پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوتیں اور جلد آرام آ جاتا ہے۔

خناق کا علاج:
‎تعریف مرض: یہ ایک مسلسل متعدی وبائی بخار ہے جس سے گلے میں شدید درد ہو جاتا ہے۔
علامات: تالو، حلق اور حنجرے کے اندر شدید ورم ہو جاتا ہے جس سے کھانا پینا حتی کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے، منہ سے رال ٹپکتی ہے اور ہلکا یا تیز بخار ہو جاتا ہے، یہ مرض عام طور پر دو سے پندرہ برس کی عمر میں زیادہ ہوا کرتی ہے، چھوت لگنے سے ایک سے چھ دن کے اندر علامات مرض ظاہر ہو جاتی ہیں، شروع میں سستی ، کاہلی، قے اور درد سر کی شکایت ہوتی ہے، پھر حلق میں شدید ورم ہو جاتا ہے۔ اس مرض کی خاص تشخیص یہ ہے کہ حلق کے اندر ایک خاکستری یا زردی مائل فاسد جھلی پیداہو جاتی ہے اور شدید درد گلو ہوتا ہے۔ یہ جھلی تیزی سے پھیل کر دوسرے اعضاء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اس لیے علامت ظاہر ہوتے ہی فورا علاج کی طرف متوجہ ہوں۔
وجوہات: اس مرض کا باعث ایک خوردبینی کیڑا ہے جس کو ’’ڈفتھیر یا بیسی لس‘‘ کہتے ہیں جو مریض کی ناک اور حلق کی رطوبت میں پایا جاتا ہے۔
علاج: دیسی طور پر املتاس کے غرغراے کرنا مفید ہے۔ مغز املتاس چار تولہ پانی میں بھگو کر روغن بادام خالص چھ ماشہ، مصری تین تولہ ڈال کر پلائیں اور مغز املتاس کو گرم پانی میں گھوٹ کر گلے پر باندھیں یا مکوہ اور املتاس کا گودا تلوں کے تیل میں پلٹس بنا کر نیم گرم گلے پر باندھیں، گلے کے و رم اور خناق کے لیے یونانی طب میں 90٪ علاج ہے.