ایک کروڑ ڈالر کا چیک - ریاض علی خٹک

ہنستے مسکراتے ہالی وڈ کے بہترین کامیڈین جم کیری نے ایک کروڑ ڈالر کا چیک لکھا اور اپنے بٹوے میں رکھ لیا. یہ چیک اُس نے ہی کاٹا تھا اور کمال یہ تھا کہ یہ چیک اُس کے ہی نام تھا. لیکن اس چیک میں ایک مسئلہ تھا کہ جم کیری کے بنک اکاؤنٹ میں اُس وقت صرف چند ڈالر ہی تھے. اور اُس سے کئی گنا زیادہ تو وہ مقروض تھا. یہ چیک پھر بھی کیش ہوگیا.

لیکن سات سال کے بعد.

میراتھن ریس میں اپنے محصوص تیز چلنے کے انداز میں اتھلیٹس دوڑ رہے تھے. یہ 42 کلومیٹر کی ریس ہوتی ہے. کروڑوں لوگ ان کی ٹی وی پر کچھ یہاں کچھ وہاں جھلکیاں دیکھ رہے تھے. اُس علاقے کے لوگ بھی اپنے علاقے سے گزرتے وقت ان اتھلیٹس کے لیے تالیاں بجا دیتے. اور آخرکار یہ ریس ختم ہوگئی. فوٹو سیشن ہوا. تالیاں بجیں، پہلی پوزیشن پر آنے والے کو سونے کا تمغہ ملا، دوسری پوزیشن والے کو چاندی اور تیسری والے کو کانسی کا تمغہ پہنایا گیا.

اس ریس کے شروع ہونے سے پہلے بھی ہر اتھلیٹ کی اس سے منسلک داستان ہوتی ہے. یہ سالوں کی مشقت روز اِس ایک دن کے لیے محنت اور دوڑنے کی مشق کی داستان ہوتی ہے. اور اس ریس کے بعد بھی داستان ہوتی ہے. ہارنے والا اگلی ریس کے لیے اپنے انداز و محنت میں بہتری لاتا ہے. جیتنے والا اپنی پچھلی کامیابی کو شکست دے کر نئی کامیابی کا نیا ریکارڈ بنانا چاہتا ہے.

لیکن ایک کہانی اس طویل ریس کے دوران کی بھی ہوتی ہے. جسے ہم تالیاں بجاتے دیکھ سکتے ہیں. جیتنے والے کی تعریف کر سکتے ہیں. لیکن ان کچھ گھنٹوں میں یہ اتھلیٹ ہمت و برداشت کی کس جدوجہد سے گزرے ہوتے ہیں. یہ محسوس نہیں کرسکتے. کیونکہ محسوس کرنے کے لیے ہمھیں اس کیفیت سے گزرنا ہوگا.

جم کیری ایک غریب گھرانے سے تھا، غربت نے تعلیم چھڑوا دی تھی. صرف پندرہ سال کی عمر میں چوکیداری کی نوکری کرنے لگا تھا. اُس کا خواب کامیڈین بننا تھا. لیکن یہ ایک طویل جدوجہد تھی. اپنی ابتدائی ناکامیوں اور چھوٹی کامیابیوں کی اس مسلسل محنت میں جم کیری کو سات سال لگے. جب Dumb and Dumber ریلیز ہوئی تو جم کیری نے اپنا چیک کیش کرا لیا.

ہم اس پر تالیاں بجا سکتے ہیں. ہم اس پر خوش ہوسکتے ہیں. لیکن اس کیفیت کو پانے کے لیے اسے محسوس کرنے کے لیے ہمیں بھی آج اپنے ٹارگٹ کا چیک کاٹ کر یا اسے الفاظ دے کر اپنے بٹوے میں رکھنا ہوگا.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.