کوئی مانے یا نہ مانے، ہم تو مانتے ہیں - علی عمران

اسلام کو دور جدید میں دو بڑے خطرے درپیش ہیں؛ اندرونی خطرہ، جو تجدد کی شکل میں ہے اور بیرونی خطرہ، جو الحاد کی شکل میں ہے. ہمارے خیال میں عسکری خطرہ اس اعتبار سے اتنا بڑا اس وجہ سے نہیں کہ وہ زیادہ بھی ہوا، تو کسی ملک یا شہر پر قبضہ جمانے سے زیادہ کچھ نہیں. الحاد اور تجدد کا دیو مگر ایسا ہے، جو دین ومذہب کی دیواروں کو ڈھاتا چلا آ رہا ہے. اور طرفہ تماشا یہ کہ دونوں آپس میں مربوط ہیں کہ تجدد ہی عموماً الحاد کا رستہ کھولتا ہے.

الحاد بظاہر پچھلے لوگوں کا اہم ترین مسئلہ کبھی نہیں رہا ہے. دراصل خداوند نے اپنے وجود کی نشانیاں آفاق اور انفس میں اتنی کھول کر رکھی ہیں کہ ان کا انکار کوئی شپرہ چشم بھی نہ کرے. مگر انسان کی آنکھوں سے حیاء اور دل سے آخرت کے احتساب کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے اور خواہشات کی بھٹی میں پک کر وہ محض اہوائے نفس کی تکمیل کو ہی زندگی کا مطمح نظر سمجھنے لگتا ہے، تو یہ شخص پاؤں ٹھنڈا کرنے کے لیے الحاد کے سوا کسی جگہ کو دار پناہ نہیں دیکھتا، جہاں وہ نفس کے کچوکوں سے بھی محفوظ رہے اور دوسری طرف تمام لذتوں کی انتہا سے بھی لطف اندوز ہو. یہاں سے الحاد کا آغاز ہوتا ہے.

الحاد کے بارے میں ہمارے ہاں کام بہت کم ہے. وجہ یہ ہے انسانی ذہن کے لیے یہ نسبتاﹰ ایک بالکل ہی غیر معقول اور سمجھ نہ آنے والا فنامنا ہے. ایک کتا بھی اس در کو چھوڑنے سے کتراتا ہے، جہاں سے چند دن اسے روٹی ملتی ہے، تو وہ مالک، جس کے دیے سے ہم کھاتے پیتے اور پھلتے پھولتے ہیں، اس کے احسانات اور احسانات سے بڑھ کر اس کی ذات کو ہی ماننے سے انکار کردے.! یہ تصور ہی ایک معقول انسان کے لیے ناقابل قبول ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مکالموں و بحث مباحثوں والوں سے اہم گزارش - انس اسلام

اس اعتبار سے زمانہ قدیم کا انسان زیادہ خوش نصیب رہا ہے کہ اسے عموماً انسانوں کے کسی گروہ سے ایسی نمک حرامی کا سامنا کم ہی کرنا پڑا ہے. سچ تو مگر یہ ہے کہ آج کے زمانے میں جبکہ یہ فتنہ امڈ امڈ کر آرہا ہے اور ہمارے گھروں کے دروازے کھٹکھٹکا رہا ہے، ہم ہنوز اس فتنے کو پوری توجہ نہیں دے رہے. چند سال پہلے تو اس بارے میں اردو زبان میں کوئی علم ہی نہیں تھا. پھر کچھ نوجوان اٹھے..یہ کوئی مولوی نہیں تھے، کسی مدرسے کے فاضل نہیں تھے، کالجز اور یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے تھے..ان کے دلوں میں بس غم تھا کہ دین اسلام پر چیختے چلاتے ان کمینہ صفت انسانوں کی بولتی خاموش کر دی جائے.

پھر کیا ہوا؟ ان کی محنت نے کیا پھل دیا.
ہم آپ کو بھینسا اور ایاز نظامی کا نہیں کہتے.
کمانے والوں کو اس پر نام کمانے دیں.
ہم تو آپ کو ان کا علمی کارنامہ متعارف کرانا چاہتے ہیں.
الحاد ڈاٹ کام (http://ilhaad.com) کے نام سے الحاد کا اتنا بہترین محاکمہ شاذ ہی آپ کی نظر سے گذرا ہوگا. اتنی جامع ویب سائٹ ہے کہ ایک بار آپ اسے کھولیں گے، تو بند کرنا بھول جائیں گے. مزے کی بات یہ ہے کہ ’’امت اخبار‘‘ نےاسے الحاد کے حق میں کام کرنے والی سائٹس میں سے گردانا ہے. ’’سرچ اور ریسرچ‘‘ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے. ہماری طرف سے ان بےلوث نوجوانوں کے لیے یہ تحریر ایک حقیر سا تحفہ ہے.
گر قبول افتد، زہے عز وشرف

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.