بانو قدسیہ کا عورت پن - افشاں نوید

کیا بات اتنی ہی ہے کہ محبت پا کر تو کوئی بھی عورت اپنی ہستی اسی طرح تج سکتی ہے یا بات اس سے آگے ہے کہ محبت پانے کے لیے بھی اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے اور اس '' میں '' کو پنجرے میں قید کرنا پڑتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اشفاق احمد کے خیال کو بانو قدسیہ نے دیوتا بنا کر دل کے سنگھاسن پر سجا لیا تھا۔ ذات کی نفی سے شاید دونوں ہی گزرے مگر بانو آپا سبقت لے گئیں۔ بقول ممتاز مفتی ’’اشفاق برہمن ہے قدسیہ شودر ہے، قدسیہ پروانہ ہے اشفاق بھڑ ہے، قدسی دل ہے اشفاق ذہن ہے۔ اشفاق کے لیے ذات منزل ہے، قدسی کی شخصیت کا جزو اعظم ہی ’پتی بھگتی‘ ہے۔ اگر آپ پتی بھگتی کا مفہوم سمجھنا چاہتے ہیں تو چند روز اشفاق کے گھر میں قیام کیجیے۔ اگر اشفاق احمد قدسی کی موجودگی میں برسبیل تذکرہ آپ سے کہے کہ اس گھر میں تو سامان کے انبار لگے ہوئے ہیں، میرا تو دم رکنے لگا ہے تو اگلے دن گھر میں چٹائیاں بچھی ہوں گی اور پیڑھیاں دھری ہوں گی، اگر کسی روز Loud thinking کرتے ہوئے اشفاق کہے بھئی چینی کھانوں کی کیابات ہے تو چند دنوں میں کھانے کی میز پر چینی کھانے یوں ہوں گے جیسے ہانگ کانگ کے کسی ریستوران کا میز ہو۔ ایک دن اشفاق کھانا کھاتے ہوئے کہے کہ کھانے کا مزہ تو تب آتا تھا جب اماں مٹی کی ہانڈی میں پکاتی تھیں، اگلے روز قدسی کے باورچی خانے میں مٹی کی ہنڈیا چولہے پر دھری ہوگی۔‘‘

حقیقت اتنی ہی ہے کہ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی محبت میں ارادہ اور شعور شامل تھا۔ ان کا عشق جذباتی کے بجائے روحانی دانش پر قائم تھا۔ اور بانو آپا نے شوہر کی رضا کو احساس بنا کر اس ردا سے خود کو تمام عمر ڈھانپے رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دل کو خوف، دکھ، شک یا بےیقینی کی کیفیت کا کبھی سامنا ہی نہ کرنا پڑا۔ پچاس برس یعنی نصف صدی ساتھ رہنا اور اسے وار فتگی سے مثالی بنائے رکھنا کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں ہے۔ جو دنیا میں آیا ہے اس کو چلے ہی جانا ہے مگر ایک مثالی، بھرپور اور کامیاب زندگی گزار کر رخصت ہونا جس پر لوگ رشک کریں کم ہی لوگوں کے نصیب میں لکھا ہے۔

وہ ویڈیو کلپ آپ میں سے کئی نے دیکھا ہوگا جس میں بانو قدسیہ کو ان کے شوہر کی وفات کے بعد ایک تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ جہاں میڈیا کی شخصیات اور کچھ دانشور نظر آ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے نے سہارا دے کر انھیں اٹھایا، وہ ہر قدم پر سفید دوپٹہ سر پرٹکانے میں مصروف رہیں کہ سر نہ کھل جائے۔ جتنی دیر انہوں نے گفتگو کی، سامنے بیٹھے افراد سے نظر ملانے کی کوشش نہ کی۔ روسٹرم کو دیکھتیں یا خلا میں، اور کوئی تحریر ان کے ہاتھ میں نہ تھی۔ ہاں! وہ دل کی تحریر پڑھ رہی تھیں، سیدھے سچے لفظوں میں۔ بار بار اس کو ویڈیو کلپ کو میں دیکھتی ہوں اور آئینہ میرے سامنے آ جاتا ہے تو میں چہرہ ہٹا لیتی ہوں کہ آئینہ سچ بولتا ہے مگر اتنے داغ دھبے تو یوں پہلی بار میں نے دیکھے ہیں شاید۔ وہ بولتی جاتی ہیں، آواز ٹوٹنے لگتی ہے، لہجہ ڈوبنے لگتا ہے، الفاظ ساتھ چھوڑ کر فرار کی راہ تلاش کرنے لگتے ہیں، آنکھیں خشک ہیں مگر حلق میں گرنے والے آنسو سامعین اپنی سماعتوں میں محسوس کر رہے ہیں۔ پھر لہجہ پر گرفت پاتی ہیں، الفاظ کو تھپکی دیتی ہیں، لڑی میں پروتی ہیں اور بات جا ری رکھتی ہیں۔ ان کے سامعین ان کے سامنے دائروں میں کرسیوں پر بیٹھے ہیں، میں اپنے گھر میں بستر پر ٹیک لگائے بیٹھی ہوں، وہ بھی آنکھوں کے گوشوں کو ہتھیلیوں سے رگڑ رہے ہیں، کوئی بار بار ٹشو اٹھا رہا ہے اور میں بھی اسی کیفیت سے دو چار ہوں۔ یقیناً ان کے سچے لفظوں نے ہر دل کے تاروں کو یونہی جھنجھوڑا ہوگا۔

وہ کہہ رہی ہیں:
’’میں آپ کے سامنے کچھ اعترافات کرنا چاہتی ہوں، اشفاق میری چادر بھی تھے چار دیواری بھی تھے۔ انہوں نے مجھے لوگوں کے مابین حجاب کی طرح رکھا۔ انہوں نے رشتہ داروں کے ساتھ ایسے مابین رکھا کہ شرم وحیا دونوں طرفین کی قائم رہی۔ دوستوں اور بہی خواہوں کے حلقے میں وہ میرے اور ان کے درمیان ریشمی پردہ بن جاتے تھے۔ مجھے کئی باتیں ان کے دنیا سے جانے کے بعد سمجھ میں آئی ہیں۔ اب میرے سامنے ہٹو بچو، باادب، باملاحظہ ، ہوشیار کہتا ہوا کوئی شخص جو مجھ سے ڈھائی قدم آگے چلتا تھا، موجود نہیں ہے۔ اب میں ٹھوکر کھا جاؤں، گر جاؤں، کسی کے کندھے سے ٹکرا جاؤں، وہ نہیں ہے جو مجھ سے آگے چلتا تھا اور مجھے بچاتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد زندگی بہت دشوار ہو گئی ہے۔ اب رات کو کوئی کھڑکی بھی کھلی رہ جائے اور ہوا کا کوئی جھونکا اندر داخل ہو جائے تو مجھے لگتا ہے کہ طوفان آگیا۔ مجھے چیک لکھنا نہیں آتا، مجھے نہیں معلوم paying slip کیا ہوتی ہے، اب ٹیکس کے کاغذات آتے ہیں، بجلی کے زائد بل آتے ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ زندگی کا ڈیڑھ گنا بوجھ تو انھوں نے خود اپنے کندھوں پر اٹھایا، میرے لیے تو آدھا کام ہی چھوڑتے تھے۔ باہر کے سب کام خود ہی کرتے تھے کہ تم نہیں جاؤ گی، میں ہوں ناں۔ میری زندگی اس حفاظت اور چار دیواری میں گزری ہے۔ وہ ایسا حجاب تھے جو غیرت مند لوگ ہی کرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   کون ہے جسے اس گارنٹی پر یقین ہے؟ زبیر منصوری

وہ اشفاق احمد کی خوبیاں بیان کرتی جا رہی تھیں، لہجے پر قابو پانے کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے قطرہ قطرہ سامعین پر انڈیل رہی تھیں، جو قطرے جو ان کی پیشانیوں پر بھی ندامت بن کر چمک رہے تھے اور آنکھوں کے گوشے بھی بھگو رہے تھے۔ کہہ رہی تھیں:
’’خوبیاں فرد میں بھی ہوتی ہیں اور معاشروں میں بھی۔ اور بہت سوں میں بہت ممتاز ہوتی ہیں صلاحیتیں، مگر اپنی خوبی کا احساس جب فخر پیدا کرنے لگے اور تکبر میں داخل ہونے لگے، جب انسان خود پرنازاں ہونے لگے، تو وہ نفع سے گر کر نقصان کی کھائی میں چلا جاتا ہے۔ ’تلقین شاہ‘ میں وہ تلقین خود کو کرتے تھے، تختہ مشق خود کو بناتے تھے، کبھی کسی کی کمر میں مکا مار کر نہیں کہا کہ یہ تیری وجہ سے ہوا ہے۔‘‘

ان کے لفظوں کی نرم پھوار سننے والوں پر پڑ رہی ہے۔ میری طرح شاید اور بھی دل رشک کر رہے ہوں کہ کتنا پیارا تھا وہ آشیانہ جو دونوں نے تنکے جوڑ جوڑ کر بنایا تھا، جہاں وہ ایک دوسرے کو داستانیں سناتے تھے، پھر معاشرے کو شامل کرلیا اور ’داستان سرائے‘ کی دہلیز پار کر کے کوئی بھی اپنے دکھ شیئر کرنے آ سکتا تھا۔ درجنوں لوگ احوال لکھ رہے ہیں کہ داستان سرائے میں وہ شفیق کندھے ہمہ وقت موجود رہتے تھے جن پر سر رکھ کر لوگ اپنا بوجھ ہلکا کر لیا کرتے تھے۔ وہ صحن جہاں محبت کی خوشبو بکھیرنے اور سکھ کی چھاؤں بانٹنے والی پنیری لگائی تھی۔ ان درختوں کی چھائوں گھر کے مکینوں کے علاوہ سماج کے لئے بھی گھنی ہوتی رہی۔ زندگی کے میلے سے دونوں نے اپنی افتاد طبع کے مطابق لطف اٹھایا مگر دونوں ہاتھ پکڑے ایک بھی اسٹال پر نہ ٹھہرتے۔ دونوں مختلف اسٹالوں سے فیض اٹھا تے ہوئے برابر آگے بڑھتے رہے۔

بہت کم لوگ ایسے خوش بخت ہوتے ہیں جن کی جدائی کو سماج محسوس کرتا ہے۔ جن کے بچھڑنے کا دکھ ہر ایک کا ذاتی دکھ ہوتا ہے جس کو شاید وہ شیئر کرنا بھی پسند نہیں کرتا اس لیے کہ یہ دکھ بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ وہ تو گلیمر کی دنیا کا کوئی فرد بھی نہ تھیں، وہ تو ٹی وی اسکرین کی بھی زینت نہ بنتی تھیں۔ جب سے ہوش سنبھالا، ان کو سفید بالوں والا ہی دیکھا، اربوں روپے کی فیشن انڈسٹری ان کا بال بیکا نہ کر سکی، ان کو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکی۔ بڑھاپا چھپانے کی کوشش کی نہ نمایاں ہونے۔ الفاظ تو بہت سے لوگ ہیں جو سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں مگر ان کو جب جب دیکھنے کا اتفاق ہوا، محسوس یہی ہوا کہ وہ تو نظریں بھی بہت سوچ سمجھ کر اٹھاتی ہیں۔ معروف لکھاری نور الہدیٰ شاہ اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ سب اس پروگرام میں اپنی تخلیقات پڑھ رہے تھے۔ میری باری آئی تو میں نے اپنا اسکرپٹ پڑھنا شروع کیا۔ انہوں نے جھکی جھکی نظروں سے ایک آدھ بار ہی دیکھا۔ اوروں نے تعریف کی، انہوں نے دوران میں تعریف کی نہ بعد میں۔ میرا دل ان سے ایک توصیفی جملہ سننے کی خواہش میں مچل رہا تھا۔ وہ جہاں بیٹھی تھیں، میں ان سے کچھ فاصلے پر تنہا بیٹھی تھی کہ نظریں اٹھائیں گی تو شاید مجھ سے نظریں ٹکرا جائیں اور مجھے اپنے قریب بلا لیں۔ اچانک ان کی نظر اٹھی۔ مجھے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا تو میرے دل کی کلی کھل گئی۔ میرے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوط تھاما اور بولیں ’’تعریف بڑی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ تعریف انسان کو پستی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ انسان خود اپنا محاسب ہوتا ہے۔ اپنی غلطیوں، کمزوریوں پر نظر رکھو۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ جتنی تعریف میری اس محفل میں ہوئی تھی، ان کے یہ الفاظ ان سب پر بھاری تھے کہ واقعی تعریف کرنے والے ہمیشہ خیر خواہ بھی نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   "اپنے حصے کی شمع" - خدیجہ افضل مبشرہ

اب جبکہ وہ شفیق سراپا ہمارے درمیان نہیں، لوگ ان کی باتیں کر کے خود کو تسلی دے رہے ہیں، اخبارات و رسائل اپنے لیے اعزاز سمجھ رہے ہیں، ان پر لکھنا، ان کی یادیں، ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت دہرانا، ان کی زندگی، ان کا عمل، سب بیان کیا جا رہا ہے مگر ان کی زندگی کا جو سب سے مضبوط پہلو تھا، اپنے شوہر کو اپنی زندگی میں جو مقام دے کر انھوں نے دکھایا، شریعت کے پیغام کو جس طرح انھوں نے سمجھا، ان کی جدائی، ان کی یادیں، ہم میں سے کس کو وہ پیغام یاد دلا رہی ہیں؟ اپنے حقیقی منصب کی طرف پلٹا رہی ہیں۔ ان کے ڈراموں میں عورت کی روح کے نہاں خانوں میں چھپے وہ معاملات اپنی گہرائیوں کے ساتھ ان کے قلم سے اسکرین پر آتے جن سے خود عورت بھی بے خبر تھی۔ انہوں نے کردار کی کہانی میں اترنے کا فن سکھایا۔ وہ آج کی عورت کو جو عملی درس دے کر گئی ہیں، اس کو بہت مؤثر لفظوں میں اوریا مقبول جان نے بیان کیا ہے۔
’’ٹیلی وژن پروگرام کے لیے میں نے ان سے جو انٹرویو لیا، ان کی ساری گفتگو ان کی زندگی کے اس فلسفے کے گرد گھومتی رہی کہ مرد بنیادی طور پر عورت کی ڈھال ہے، ایک عورت اس کی پناہ میں پر سکون اور بےخوف رہتی ہے۔ میرا عورت کا وہی تصور ہے جو سید الانبیا کا تصور ہے۔ اسے حیا کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے اور حیا مشروط ہے کسی کی پناہ سے۔ ماڈرن عورت پر سو طرح کے الزامات لگتے ہیں جن کا وہ تنہا سامنا کرتی ہے جبکہ گھریلو عورت کو الزامات سے بچانے والی ڈھال اس کا شوہر ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ شکر عورت کو اپنے خاوند کا کرنا چاہیے جس کے گھر میں رہتی ہے، جس کی سواری میں سفر کرتی ہے، جس کی زیر کفالت ہے۔ جو عورتیں شوہروں کی پناہ کھو دیتی ہیں، وہ کس قدر قابل رحم ہیں۔ جس گھر میں باپ نہیں ہوتا، اس بیٹی کا حشر سب کو معلوم ہے۔ میں تو دعا کرتی ہوں کہ جیسا تیسا ہو، ہر عورت کو ایک مرد ضرور ملے تاکہ رات کو چین کی نیند سو سکے۔ اللہ کے دو دو، تین تین ، چار چار نکاحوں کی اجازت کے پیچھے بڑی حکمت ہے، معاشرے کی عورت کو ظلم سے بچانے کی، مگر آج کی عورت کو یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ مرد کا خوف نہیں اس کی محبت ہوتی ہے جو عورت کو ایک پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ کہنے لگیں گھروں میں رائے کا اختلاف اس وقت آتا ہے جب عورتیں خاوند کی رائے کا احترام نہیں کرتیں۔ جس گھر میں باپ کی رائے کااحترام نہیں ہوتا، وہ گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ گھر میاں بیوی کی برابری سے نہیں چلتے۔ میاں بیوی گاڑی کے ایسے دو پہیے ہیں جس میں ایک پہیہ جو مرد کا ہے وہ بڑا ہے، وہ بڑا نہ ہوا تو گاڑی چل نہیں سکے گی، کاش یہ بات آج کی عورت کو سمجھ میں آجائے تو گھر سدھر جائیں، معاشرے سدھر جائیں!‘‘

امجد اسلام امجدکے گداز لفظ سینے:
درگزر کے حلقے میں مسئلے نہیں چلتے
دو دلوں کی قربت میں تیسرا نہیں ہوتا واسطے نہیں چلتے
بخت ساتھ چلتا ہے تابع آزمائوں کے
وقت رام کرنے میں تجزیوں کے داؤ کیا تجربے نہیں چلتے
عشق کے علاقے میں حکم یار چلتا ہے ضابطے نہیں چلتے
حسن کی عدالت میں عاجزی تو چلتی ہے مرتبے نہیںچلتے
دوستی کے رشتوں کی پرورش ضروری ہے
سلسلے تعلق کے خود سے بن تو جاتے ہیں
لیکن ان شگوفوںکوٹوٹنے بکھرنے سے روکنا بھی پڑتا ہے
چاہتوں کی مٹی کو آرزو کے پودے کو سینچنا بھی پڑتا ہے
رنجشوں کی باتوں کو بھولنا بھی پڑتا ہے

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں