اللہ تعالی کی محبت کے عوامل، اعمال اور علامات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے25 جمادی الثانی 1438 ھ کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ’’اللہ تعالی کی محبت کے عوامل، اعمال اور علامات‘‘ کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ حب الہی اس کائنات کا جوہر اور ایمان کا بنیادی رکن ہے، شرک محبت میں خلل سے پیدا ہوتا ہے، نیز حبِ الہی کے عوامل میں: اسمائے حسنی کی معرفت، ذکرِ الہی کی کثرت، حقیقی مُنعم کی معرفت، آسمان و زمین پر غور و فکر، اخلاص اور صدق دل سے عبادت، قرآن کی تلاوت، دعا، شبہات اور خواہش پرستی سے دوری، نبی ﷺ کی اطاعت، رحمتِ الہی کی امید اور اللہ کے فیصلوں پر یقین شامل ہے۔ یہ بھی کہا کہ: حب الہی ایمان کی مٹھاس، روزِ قیامت کے لیے بہترین زادِ راہ، بلند درجات کے لیے کسوٹی، اللہ تعالی کے ساتھ یکسوئی کا سبب ہے، پھر کہا کہ: اللہ تعالی دینِ اسلام، وقت پر نماز، کثرت سے نوافل، حمد و ثنا، اذکار، والدین سے حسن سلوک، نرمی، حلم، سمجھداری، حیا، عیب پوشی، خوبصورتی، معاف کرنا، حصولِ رزقِ حلال، شرعی رخصتوں پر عمل، مستقل مزاجی پر مبنی نیکیاں، مساجد، انبیائے کرام اور صالحین سے محبت کرتا ہے، اسی طرح توکل، تابعداری، عدل، استقامت، زہد، شہرت سے دوری، طاقتور مؤمن، دین کے حامی و ناصر افراد، نیک لوگوں سے محبت، توبہ اور ظاہری و باطنی طہارت اپنانے والوں سے محبت فرماتا ہے اور آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں فتنوں سے تحفظ، لوگوں میں مقبولیت اور حسن خاتمہ اللہ تعالی کے محبوب ہونے کی علامات ہیں۔

پہلا خطبہ:
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! کما حقہ اللہ سے ڈرو اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔
مسلمانو!
اللہ تعالی نے مخلوق کو اپنی ایسی عبادت کے لیے پیدا فرمایا جو کہ محبت، امید اور خشیت پر مبنی ہو، حقیقت میں انھی تین چیزوں پر عبادت کی بنیاد ہوتی ہے، ان میں سے محبت عظیم ترین رکن ہے؛ اس کائنات میں کسی بھی چیز میں پائی جانے والی حرکت اور کارکردگی اسی محبت اور ارادۂ الہی کی وجہ سے ہے، اللہ تعالی کی محبت ایمان کے عظیم ترین واجبات اور اعلی ترین دینی اصولوں میں سے ہے، بلکہ محبت ہی تخلیقِ کائنات اور احکاماتِ الہی سمیت دینی اور ایمانی ہر عمل کی بنیاد بھی ہے، نیز بندگی کا ہدف بھی اللہ تعالی کے لیے کمال درجے کی محبت اور انتہا درجے کی انکساری کا اظہار ہے۔ اسی محبت کی بنا پر مسابقتی فضا میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، سلیم الفطرت دلوں کے ہاں اپنے خالق اور عدم سے وجود بخشنے والے سے بڑھ کر کسی سے محبت نہیں ہوتی۔

صرف ایک اللہ کے لیے خالص محبت؛ وحدانیت کی بنیاد اور اس کی روح ہے، چنانچہ بندے کا عقیدہ توحید اس وقت تک مکمل ہی نہیں ہوتا جب تک بندے کی محبت اللہ تعالی کے لیے خالص نہ ہو اور اللہ تعالی سے محبت سب سے زیادہ ہو۔ دین کی بنیاد خالص حُبِ الہی پر ہے؛ شرک کا آغاز اسی محبت میں کسی اور کو شریک کرنے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے خالص محبت کرنے پر مؤمنوں کی مدح سرائی جبکہ مشرکین کی ملاوٹی محبت پر مذمت فرمائی: کچھ لوگ ایسے ہیں جو غیر اللہ کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ وہ ان شریکوں کو اللہ کی طرح اپنا محبوب بناتے ہیں، لیکن جو ایماندار ہیں وہ تو سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں [البقرۃ: 165] بلکہ خالص محبت کو اللہ تعالی نے اپنے خاص ولیوں کی علامت قرار دیا: تو اللہ ایسی قوم کو لائےگا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اُسی سے محبت کریں گے۔ [المائدۃ: 54]

جس وقت بندہ اللہ تعالی کی محبت میں مخلص ہو جائے تو ایمان کی مٹھاس پاتا ہے، فرمانِ نبوی ہے: جس شخص میں تین چیزیں ہوں وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور ذائقہ پا لیتا ہے: اللہ اور اس کا رسول دیگر تمام سے زیادہ محبوب ہوں، کسی سے محبت ہو تو صرف اللہ کے لیے اور کفر میں واپس لوٹ جانا اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں پھینکے جانے کو ناپسند کرتا ہے. (متفق علیہ) سچی محبت روزِ قیامت کے لیے بہترین زادِ راہ ہے، یہی اللہ تعالی سے ملنے کی بہترین تیاری بھی ہے، ایک شخص نے نبی ﷺ سے استفسار کیا: قیامت کب ہے؟ تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: تم نے اس کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ تو اس نے جواب دیا:" میں نے اس کے لیے زیادہ [نفل] نمازیں، روزے اور صدقات تو تیار نہیں کیے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے محبوب کے ساتھ ہوگے. (بخاری)
لوگوں کا مقام و مرتبہ بھی ان کی اللہ تعالی سے محبت کے برابر ہوتا ہے، چنانچہ بکرمزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ [نفل] نمازوں اور روزوں کی وجہ سے بلند درجے پر فائز نہیں ہوئے، بلکہ یہ تو ان کے دل میں کچھ تھا [جس کی وجہ سے انہیں بلند درجہ ملا]. ابن عُلَیّہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں اللہ کی محبت اور خلقِ الہی کے لیے خیر خواہی تھی. جسے اللہ تعالی کی خالص محبت مل جائے تو اس کی توجہ دیگر تمام محبتوں سے ہٹ جاتی ہے اور اس کا دل اپنے پروردگار کے ساتھ ہی لگتا ہے، وہ ہمیشہ اللہ کے علاوہ کسی سے تعلق نہیں بناتا۔ اللہ تعالی نے اپنی محبت سے اعراض کرنے والوں کو دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں اپنے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، کنبے والے ،تمہارے کمائے ہوئے مال و دولت، تجارت کہ جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات؛ اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔[التوبۃ: 24]

اس محبت کا حصول اللہ تعالی کے بتلائے ہوئے طریقے اور شریعت سے ہی ممکن ہوگا، چنانچہ حبِ الہی کا موجب بننے والا سب سے عظیم ذریعہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا علم حاصل کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی ذاتی طور پر اور کامل صفات کی وجہ سے اپنے بندوں کا محبوب ہے، اللہ تعالی کا جمال، کمال، اسمائے حسنی اور اس کی اعلی صفات کا بندوں سے یہ تقاضا ہے کہ اس کے سامنے انتہا درجے کی محبت، عاجزی اور تابعداری کا اظہار کریں۔ اللہ تعالی کا کوئی بھی ایک نام یا صفت ہو تو صرف اس ایک نام یا صفت میں بندوں کی محبت کا صرف اللہ تعالی کو حقدار ثابت کرنے کے لیے وافر دلائل موجود ہیں، اسی بنا پر اللہ تعالی نے مخلوق کو اپنے اسما و صفات کا تعارف کروایا، اپنی کتاب اور نبی ﷺ کی احادیث میں ان کا تذکرہ کیا؛ تاکہ اللہ تعالی کی پہچان ہونے پر اللہ تعالی کا زیادہ سے زیادہ ذکر اور شکر ہو۔ کون اللہ تعالی سے کتنی محبت کرتا ہے؟ یہ اس کی معرفتِ الہی سے معلوم ہو سکتا ہے، چنانچہ سب سے زیادہ معرفتِ الہی رکھنے والا محبت بھی سب سے زیادہ کرے گا، ذکر الہی کی کثرت محبت کی موجب ہے، اس لیے دائمی طور پر ذکر کرنے سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔

یہ قانونِ الہی ہے کہ جس چیز کا ذکر زیادہ ہو تو اس سے محبت ہو جاتی ہے، چنانچہ جس شخص سے محبت ہو اس کا تذکرہ زیادہ ہوتا ہے؛ لہذا محبت اور یاد میں اللہ تعالی کا حق سب سے زیادہ ہے۔ انسان بھلائی کرنے والے سے محبت کرنے لگتا ہے، چنانچہ بندوں پر حقیقی انعام کرنے والا تو اللہ ہے، وہی تمام نعمتیں عطا کرتا ہے، اگر کوئی نعمت بالواسطہ بھی ملتی ہے تو اس کا مسبب الاسباب بھی صرف وہی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: لوگو ! اپنے آپ پر اللہ کے احسان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے ، اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، پھر تم کہاں دھوکا کھائے جا رہے ہو! [فاطر: 3]

آسمان اور زمین کی بادشاہت میں غور و فکر کرنے سے دل میں اللہ تعالی کی محبت اور عظمت پیدا ہوتی ہے؛ کیونکہ کامل ذات سے محبت دلوں کی فطرت ہے، اور حقیقی کمال کا مالک تو اللہ تعالی ہی ہے۔ سچے دل اور اخلاص سے بھر پور اطاعت بندے پر اللہ تعالی کے ڈھیروں فضل کی موجب ہے، اللہ تعالی بندے کو اس پر اپنی محبت کی لذت اور مناجات کا لطف عطا فرماتا ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت اور آیاتِ قرآنیہ پر تدبّر سے دلوں کو جلا ملتی ہے اور تزکیۂ نفس ہوتا ہے، قرآن سراپا: ذکر، ہدایت، نصیحت اور شفا ہے، قرآن پر عمل پیرا ہر کوئی یکسو ہو کر پروردگار سے محبت کرنے لگتا ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر ہمارے دل پاک صاف ہوں تو کبھی بھی کلامِ الہی سے سیر نہ ہوں.

یہ بھی پڑھیں:   سیدنا بلال اور ہمارے حالات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

اللہ تعالی کی محبت اور قربت اللہ تعالی کے سامنے دلی طور پر عاجزی کے اظہار سے ملتی ہے، اس کے لیے بہترین ذریعہ دعا ہے۔ شبہات اور خواہش پرستی سے دوری بہتری اور استقامت کی راہ ہے، اچھی دوستی اللہ تعالی کے پسندیدہ اور محبوب اعمال کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے، جنت کے تذکروں ،وہاں ملنے والی نعمتوں کے ذکر سے جن میں دیدارِ الہی سب سے اعلی نعمت ہے. اللہ تعالی اور اس سے ملنے کی محبت پیدا ہوتی ہے، اور جو اللہ تعالی سے ملنا پسند کرے تو اللہ تعالی اس سے ملنا پسند فرماتا ہے۔

سچی محبت کے اثرات اعضا پر واضح عیاں ہوتے ہیں، یہ اُسی شخص کے لیے ہو سکتا ہے جو اللہ کی بندگی میں مخلص ہو اور رسول اللہ ﷺ کا تابعدار ہو، حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے اللہ تعالی سے محبت کا دعوی کیا تو اللہ تعالی نے ان کا امتحان لینے کے لیے فرمایا: آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ تعالی سے محبت [کا دعوی ] کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ [آل عمران: 31]
محبت سچی ہو تو اس کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں؛ لہذا بندہ اللہ کے لیے ہی محبت کرتا ہے اور اللہ کے لیے ہی بغض رکھتا ہے۔ اللہ جن سے محبت فرماتا ہے ان کے اوصاف بیان فرمائے: مومنوں کے حق میں نرم دل اور کافروں کے حق میں سخت ہیں۔[المائدۃ: 54] اللہ کے محبوب سے محبت حقیقت میں اللہ سے محبت ہے۔ جس کی محبت میں صداقت ہو وہ محبوب کی اطاعت پسند کرتا ہے اور اس کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی معصیت سے بچتا اور دور رہتا ہے، اپنے اوقات محبوب کے ذکر سے سرشار رکھتا ہے، اللہ سے محبت کرنے والا کلامِ الہی سے محبت بھی کرتا ہے، وہ کلامِ الہی سے شرح صدر حاصل کرتا ہے، اور کبھی بھی اس کی تلاوت سے اس کا دل نہیں اکتاتا، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اپنے دل میں محبتِ الہی کا موازنہ کسی اور کے دل سے کرنا چاہتے ہیں تو پھر اپنے دل میں قرآن کی محبت پرکھیں کہ تمہیں تلاوت سننے سے کتنی محبت ہے اور کتنی لذت ملتی ہے.

دل پر محبت ِالہی کا تسلط ہو جائے تو اللہ تعالی سے رحمت کی امید پختہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی کی ناراضی کا خدشہ لگا رہتا ہے، اس طرح سارا جسم صحیح کام کرتا ہے، اطاعت گزاری اور بندگی سے اکتاہٹ یا کوفت پیدا نہیں ہوتی، انسان اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی رہتے ہوئے یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ کے فیصلے بندے کے اپنے فیصلوں سے بہتر ہوتے ہیں، اسی یقین کے نتیجے میں انسان احسان کے زینے عبور کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ اوجھل چیزیں بھی اسے عیاں نظر آنے لگتی ہیں۔

اللہ تعالی صفاتِ جلال و جمال سے موصوف ہے: اس کی صفات والا کوئی نہیں، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ [الشورى: 11]
محبت اللہ تعالی کی صفات میں سے ہے، چنانچہ اللہ تعالی اطاعت گزاروں سے اس طرح محبت فرماتا ہے جس طرح اس کی عظمت اور جلال کے لائق ہے۔ بندے کو ایسے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جنہیں اللہ تعالی پسند فرماتا ہے، چنانچہ تمام ادیان میں سے اللہ تعالی نے دین اسلام پسند فرمایا، ہمارے لیے اسی کو دین منتخب کیا، اللہ تعالی اس کے علاوہ کسی دین کو قبول نہیں کرے گا، فرمانِ الہی ہے: اور جو بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا نیز وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ [آل عمران: 85]

اللہ سبحانہ و تعالی بندوں کی طاق اور بلا شرکتِ غیرے عبادات پسند فرماتا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور اللہ تعالی نماز کی وقت پر ادائیگی پسند فرماتا ہے، اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین نفل نمازیں اور روزے داود علیہ السلام کے ہیں: آپ ایک دن کے ناغے سے یومیہ روزہ رکھتے تھے. متفق علیہ. آپ آدھی رات آرام کرتے پھر ایک تہائی قیام کے بعد چھٹا حصہ آرام فرماتے تھے. متفق علیہ
اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ ترین حالت بندے کی عاجزی اور انکساری والی حالت ہے، آپ ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا: مجھے اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین عمل بتلائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالی کے لیے کثرت سے سجدے کیا کرو [یعنی نوافل پڑھا کرو]. مسلم
سب سے بہترین مدح، ثنا اور بزرگی کے کلمات وہ ہیں جو اللہ تعالی کے لیے بیان کیے جائیں، نیز یہ اللہ تعالی کو بھی محبوب ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: اللہ تعالی سے بڑھ کر کسی کو اپنی ثنا پسند نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے اپنی ثنا خود بھی بیان فرمائی. مسلم
چار کلمے اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین ہیں: سُبْحَانَ اللہ وَالحَمْد لِلَّہ وَلَا الَہ الَّا اللہ وَاللہ أَكْبَرُ. مسلم
اللہ تعالی کے ہاں تمہارے پسندیدہ ترین نام: عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں. ابوداؤد

حسن سلوک کے لیے والدین کا حق سب سے زیادہ ہے، یہ عمل اللہ تعالی کو بھی محبوب ہے، آپ ﷺ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ تعالی کے ہاں کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بر وقت نماز، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس کے بعد" تو آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک. متفق علیہ
رفق اور نرمی سراپا خیر ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: تمام معاملات میں اللہ تعالی کو نرمی محبوب ہے. متفق علیہ
حلم اور سمجھداری اچھی صفات ہیں اور یہ اللہ تعالی کو محبوب بھی ہیں، آپ ﷺ نے: اشج عبد القیس کو فرمایا تھا: تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں وہ اللہ تعالی کو محبوب ہیں: حلم اور سمجھداری. مسلم

گناہوں کے ارتکاب سے حیا کرنا اور پردہ پوشی کے مستحق گناہگار کی پردہ پوشی بھی اللہ تعالی کو محبوب ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی حیا دار اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، حیا اور پردہ پوشی اسے محبوب ہیں. ابوداؤد
اللہ سبحانہ و تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے. مسلم
اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے اور اس کی مخلوق کا معاف کرنا بھی اسے محبوب ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: یا اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے ، تو معافی پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف فرما دے. احمد
کسی کو اللہ سے بڑھ کر اتمام حجت کرنا پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے کتابیں نازل کیں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا. متفق علیہ
اسلام نے محنت کر کے کمانے اور حصولِ رزق حلال کی ترغیب دی، اسی لیے فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں کوئی بھی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ محبوب کھانا نہیں کھاتا. احمد
شریعت کی جانب سے ملنے والی رخصتوں اور ٹھوس احکامات پر عمل مومن کا شیوہ ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: بیشک اللہ تعالی کی دی ہوئی رخصتوں پر عمل بھی اللہ تعالی کو اسی طرح محبوب ہے جیسے اس کی نافرمانی کرنا اسے ناپسند ہے. احمد
مستقل مزاجی والی نیکی چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو، حقیقی توفیق اور ثابت قدمی ہے: کسی نیکی پر مستقل مزاجی چاہے وہ نیکی معمولی ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین اعمال میں سے ہے. بخاری
دنیا کی زندگی چار دن کی ہے، اللہ تعالی کو اس کے آخری لمحات میں بھی زبان پر اپنا ذکر محبوب ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: اللہ تعالی کے ہاں محبوب مشغلہ یہ ہے کہ جب تمہاری موت آئے تو تمہاری زبان ذکر الہی سے تر ہو. ابن حبان

ہر جگہ فضیلت میں برابر نہیں ہوتی؛ چنانچہ عبادت گاہیں اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہوتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: مساجد اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین جگہیں ہیں. مسلم
جس طرح اللہ تعالی کو اطاعت گزاری اور نیکی پسند ہے بالکل اسی طرح اللہ تعالی اطاعت گزار اور نیکو کار سے بھی محبت فرماتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کو اپنے انبیائے کرام، رسولوں اور نیک بندوں سے محبت ہے، اللہ تعالی اپنے انبیائے کرام، رسولوں اور نیک بندوں سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالی اپنے اولیا اور مومن بندوں سے انتہائی زیادہ محبت کرنے والا ہے، جو ان سے دشمنی رکھے اللہ تعالی نے اس کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔
اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا محمد ﷺ کو اپنا خلیل بنایا جو کہ محبت کا اعلی ترین درجہ ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: بیشک اللہ تعالی نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا. مسلم
اللہ تعالی نے اپنی محبت موسی علیہ السلام پر نازل فرمائی: میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی۔ [طہ: 39]
اللہ تعالی قدردان ہے، چنانچہ جسے اللہ تعالی کے اسما و صفات سے محبت ہو ، اللہ اس سے محبت فرماتا ہے: ایک شخص اپنے ساتھیوں کی جماعت کرواتے ہوئے ہر رکعت میں سورہ اخلاص بھی پڑھتا تھا، جب وہ واپس ہوئے تو انہوں ماجرا رسول اللہ ﷺ کو بتلایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے پوچھو وہ ایسے کیوں کرتا ہے؟، تو ان کے پوچھنے پر اس نے کہا: یہ رحمن کی صفت بیان کرتی ہے، اور مجھے اس سورت سے محبت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے بتلا دو کہ اللہ تعالی بھی اس سے محبت کرتا ہے. متفق علیہ

ہمارے نبی ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے اس لیے مبعوث ہوئے کہ ان کی اطاعت کی جائے، چنانچہ جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے تو اللہ تعالی اس سے محبت فرماتا ہے: آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ کی محبت کے دعویدار ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا۔ [آل عمران: 31]
اللہ تعالی متقی لوگوں سے محبت فرماتا ہے، نیز ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو اپنی عبادات اور معاملات انتہائی اعلی انداز [یعنی احسان] سے مکمل کرتے ہیں۔
اللہ تعالی اتنا عظیم ہے کہ توکل کرتے ہوئے اپنے معاملات اللہ تعالی کے سپرد کرنے والے سے بھی محبت فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: بیشک اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔[آل عمران: 159]
اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی عادل نہیں، اس کے احکامات، شریعت اور جزا و سزا تمام مبنی بر عدل ہیں، عدل کرنے والا اللہ کا محبوب ہے: عدل کرو، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ [الحجرات: 9]
اللہ تعالی ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ [الصف: 4]
اطاعت پر ثابت قدمی، نافرمانی سے دوری اور مصیبت میں صبر کرنے والے سے بھی اللہ تعالی محبت فرماتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو صبر کرنے والوں سے محبت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مجیب السائلین - عالیہ حسین

فرائض کے بعد نوافل کا اہتمام ایمان کی علامت ہے اور یہ بھی اللہ تعالی کی محبوب صفت ہے، حدیث قدسی ہے: میرا بندہ میرے فرض کردہ فرائض سے بڑھ کر کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں. بخاری
آخرت میں غیر مفید دنیاوی اشیا سے کنارہ کش لوگ اللہ تعالی کے محبوب ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا. ابن ماجہ
جن نیکیوں کو شرعی طور پر مخفی رکھنا جائز ہے، انہیں مخفی رکھنا اخلاص کی علامت ہے، اور اللہ تعالی اپنے بندے کی یہ عادت پسند فرماتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: بیشک اللہ تعالی متقی، بےنیاز اور بےنام رہنے والوں سے محبت کرتا ہے. مسلم

اللہ تعالی طاقتور ہے اور اللہ تعالی کے ہاں کمزور مومن سے طاقتور مومن بہتر اور محبوب ہے. مسلم
دین کے حامی اور ناصرین سے اللہ تعالی محبت فرماتا ہے، اور چونکہ انصار صحابہ نے اپنی ذمہ داری خوب انداز میں نبھائی تو نبی ﷺ نے ان سے محبت کی اور ان کا خیال رکھنے کی وصیت بھی فرمائی: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، انصار سے مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ان سے نفرت کرتا ہے، انصار سے محبت کرنے والوں سے اللہ تعالی محبت فرماتا ہے. متفق علیہ
نیک لوگوں سے محبت؛ دین اور اللہ تعالی سے محبت ہے، اور محبانِ صالحین اللہ تعالی کے بھی محبوب ہیں، ایک حدیث میں ہے: ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے دوسرے گاؤں گیا تو اللہ تعالی نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ اس کے انتظار کے لیے بھیج دیا، چنانچہ جب اس آدمی کا وہاں سے گزر ہوا تو فرشتہ کہنے لگا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس آدمی نے کہا: اس گاؤں میں میرا بھائی ہے میں اس سے ملنے جا رہا ہوں، فرشتے نے کہا: کیا اس نے تم پر کوئی احسان کیا ہے؟ تو جس کا بدلہ دینا چاہتا ہے؟ اس آدمی نے کہا: نہیں میں تو اس سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں، اس پر فرشتے نے کہا: میں تمہاری جانب اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ تعالی بھی تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے کہ جس طرح تو اس آدمی سے محبت کرتا ہے. مسلم
توبہ اور ظاہری و معنوی طہارت کا اہتمام کرنے والے سے اللہ تعالی محبت فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے [البقرة: 222]
اللہ تعالی انتہائی کرم کرنے والا ہے، اس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، چنانچہ جو اللہ تعالی سے ملاقات اور دیدارِ الہی پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات پسند فرماتا ہے۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!
اللہ تعالی اپنی کمال صفات اور عظیم احسانات کی وجہ سے محبت کا حقدار اور مستحق ہے، اللہ تعالی اطاعت اور اطاعت گزار بندوں سے ایسے محبت فرماتا ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔ بندے سے اللہ تعالی محبت فرمائے تو یہ بہت بلند مقام ہے، یہ مقام عقیدے سمیت قولی اور عملی ہر اعتبار سے اطاعت الہی اور اطاعت رسول ﷺ کرنے سے حاصل ہوتا ہے، اور جس سے اللہ تعالی محبت کرنے لگے تو اس سے ہمہ قسم کی بلائیں اور خطرات ٹال دیتا ہے، اس کی رہنمائی فرماتا ہے، اسے کامیاب کرتا ہے اور اس کی دعائیں بھی قبول فرماتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حدیث قدسی ہے: اگر میرا [محبوب بندہ] مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں. بخاری ۔
راہِ راست پر گامزن شخص اللہ کی محبت حاصل کرنے کیلیے ہر قسم کی نیکی کرتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نیکی کو پسند کرتا ہے۔ نیز بندہ تمام برائیوں سے پہلوتہی اختیار کرتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی انہیں پسند نہیں فرماتا۔ ارشاد باری تعالی ہے: تم اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو اور اسی کی جانب رجوع کرو، بیشک میرا پروردگار نہایت رحم کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے[ہود: 90]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی ان پر، ان کی آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!
بندے سے اللہ تعالی محبت فرمائے، یہ ہر شخص کی چاہت ہے، اس کی وجہ سے دل خوف اور امید سے معمور رہتے ہیں۔
یہ اللہ تعالی کی رحمت ہے کہ اس نے دنیا میں حب الہی کی علامات بتلا دی ہیں جو مؤمن کے لیے مسرت کا باعث ہوتی ہے، مؤمن ان پر گھمنڈ نہیں کرتا؛ اور ہدایت اسی کو ملتی ہے جس سے اللہ تعالی محبت فرمائے۔
دنیا میں فتنوں سے بچے رہنا بھی محبت اور عزت افزائی کی بات ہے، دھرتی پر مقبولیت اور لوگوں کی محبت بھی حب الہی کی علامت ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت فرمائے تو جبریل کو لازمی طور پر بلا کر مخاطب فرماتا ہے: اللہ تعالی فلاں شخص سے محبت کرتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبریل اس سے محبت کرنے لگتا ہے، پھر جبریل اہل آسمان کو مخاطب کر کے کہتا ہے: اللہ تعالی فلاں شخص سے محبت فرماتا ہے؛ لہذا تم بھی اس سے محبت کرو، تو اس شخص سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، اور پوری زمین پر اس کی مقبولیت پھیل جاتی ہے. بخاری

حسن خاتمہ اللہ تعالی کی طرف سے عظیم عنایت ہے، یہ اسی کو ملتی ہے جس سے اللہ تعالی محبت فرمائے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ خیر خواہی کا ارادہ فرمائے تو اسے نیک عمل کی توفیق عطا کرتا ہے اور پھر اس کی روح قبض فرما لیتا ہے. احمد

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الاحزاب: 56]
اللھم صل وسلم وبارك على نبينا محمد،
یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!
یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
یا اللہ! ساری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! ان کے خون کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کے علاقوں کو امن و امان والا بنا، یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنی رضا کے لیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! ہماری سرحدوں کو پر امن بنا، ہمارے ملک کی حفاظت فرما، ہمارے فوجیوں کو ثابت قدم بنا، اور ان کی دشمنوں کے خلاف مدد فرما، یا قوی! یا عزیز!
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]
تم عظیم و جلیل اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں