میرے نبی ﷺ سے میرا رشتہ - سعدیہ نعمان

عبداللہ امی سے کہانی سنتا ہے، روز رات کو جب وہ سونے کے لیے بستر پہ جاتا ہے۔
آج امی نے اسے کالے پتھر کی کہانی سنائی. اللہ کا گھر دوبارہ سے بنایا جا رہا تھا اور مقدس کالے پتھر پہ سب قبیلے لڑائی کر رہے تھے کہ خانہ کعبہ کی دیوار میں اسے نصب کرنے کی سعادت کسے ملے گی؟
پھر کیا ہوا؟ یہ لڑائی کیسے ختم ہوئی؟ عبداللہ کا اضطراب بڑھنے لگا۔
آپ کو پتہ ہے پھر کیا ہوا؟ سب نے سوچا کہ صبح سب سے پہلے جو بھی حرم میں داخل ہوگا، وہ جو فیصلہ کرے گا، اسی کو سب مان لیں گے۔
ہممم ۔۔۔ عبداللہ الرٹ ہوا۔ ہونٹوں میں مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک بڑھ گئی۔
پھر کون آیا مما حرم میں سب سے پہلے ۔۔۔ بس جلدی سے بتائیں۔
صبح سب انتظار میں تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ کوئی حرم میں داخل ہو رہا ہے۔
سب کی نظریں ادھر گئیں اور پتہ ہے کون آیا حرم میں۔
ہمارے پیارے نبی ص ۔۔❤️?⭐️
سب چیخ اٹھے کہ یہ تو محمد ہیں۔ بس ہمیں منظور ہوگا جو بھی یہ فیصلہ کریں گے، اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ سب سے اچھے اور سب سے سچے تھے نا۔ اور بہت ذہین بھی۔
پھر لڑائی کیسے ختم ہوئی۔
عبداللہ بہت متجسس تھا۔
پھر پیارے نبی ﷺ نے ایک چادر منگوائی، اس پہ حجر اسود رکھا، اور سب سرداروں سے کہا کہ اسے کونوں سے پکڑ کے اٹھا لیں، اور خانہ کعبہ کی دیوار کے پاس رکھ دیں۔ وہاں سے آپ ﷺ نے پتھر اٹھا کے دیوار میں لگا دیا۔
واؤ۔۔۔ سو سمپل (so simple) نا۔ یہ بات کسی کے ذہن میں نہیں آئی۔ کتنے عقلمند اور ذہین تھے ہمارے نبی ﷺ۔
عبداللہ کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
مما پھر جب پیارے نبی بڑے ہوئے تو مدینہ آ گئے نا.
جی! مدینہ آگئے تھے.
اچھا اب میں حرم جاؤں گا، تو ان سے ملوں گا۔ ٹھیک؟
عبداللہ جب پیارے نبی 63 سال کے ہوئے تو اللہ تعالی کے پاس چلے گئے تھے۔
کیسے؟ مما کیا ہوا تھا انہیں؟ عبداللہ کی آواز بیٹھ گئی۔
بخار ہوا تھا۔۔
عبداللہ کی آنکھوں میں پانی سا تیرنے لگا۔
اس کا چہرہ اداس ہو گیا تھا۔
اُس نے کروٹ لی اور منہ دوسری جانب کر لیا۔
عبداللہ کہانی پوری نہیں سنو گے.
نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا۔
عبداللہ اور مما دونوں ہی پیارے نبی ﷺ کو یاد کر رہے تھے اور آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خانہ کعبہ اور مقام ِ ابراہیم ؑ - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

زندگی کے اجالوں کی ہو آرزو تب اُنہیں سوچنا

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں