کزن میرج سے اجتناب کیوں ضروری ہے؟ فارینہ الماس

ثمرہ کا دکھ بہت گہرا تھا۔ شاید اب کوئی ڈھارس کوئی تسلی اس کے دکھ کو سہلا نہ پائے گی۔ وہ ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی تھی کیونکہ ان کے خاندان میں شادیاں خاندان سے باہر کرنے کا رواج نہ تھا۔ سو اس کے والدین نے اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی اس کے فرسٹ کزن سے طے کر دی۔ اس رشتے کو طے کرتے ہوئے بہت سی تاویلیں اور جواز پیش کیے گئے۔ خاندان سے باہر شادی کے مسائل اور الجھنیں بیان کی گئیں، لیکن یہ بات صرف ثمرہ کے ذہن میں ایک شدید تشویش کی مانند جاگزیں تھی کہ کزن میرج کے نتیجے میں جنم لینے والی اولاد میں شدید قسم کے دماغی و جسمانی عارضوں کے لاحق ہونے کے امکانات و خطرات خاندان سے باہر شادیوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں، اور اس صورت میں تو اور بھی بڑھ جاتے ہیں جب لڑکی کے والدین میں دونوں ہی لڑکے کے والدین سے قریبی رشتہ رکھتے ہوں۔ ثمرہ کی تشویش کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے خاندان میں پہلے سے ہی ایسے بچے موجود تھے لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی۔ اس کے تمام تر خدشات کے باوجود اس کی رائے کو ذرہ برابر اہمیت نہ دی گئی۔ بلآخر یہ شادی انجام پا گئی۔ اسے تقدیر کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور کہ ثمرہ کے خدشات درست ثابت ہوئے اور ان کے ہاں پیدا ہونے والی پہلی اولاد ہی ذہنی عارضہ لے کر پیدا ہوئی۔ بچے کے دماغ کی نشوونما تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا تھا کہ ان کے ہاں پیدا ہونے والے مزید بچے بھی اسی عارضے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اب ان کے پاس دو ہی راستے رہ گئے تھے یا تو وہ باہمی رضامندی سے علیحدہ ہو جاتے یا وہ مزید اولاد پیدا ہی نہ کرتے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ثمرہ کی ایک نہ سنی گئی اور یکے بعد دیگر مزید دو اولادیں پیدا کرنے کا چانس لیا گیا، لیکن بدقسمتی سے وہ دونوں بچے بھی ایسا ہی ذہنی عارضہ لے کر دنیا میں آئے۔ آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ اس سب کے لیے ثمرہ ہی کو قصور وار ٹھہرایا گیا۔ اسے الزام دیا گیا کہ وہی نارمل بچے پیدا کرنے کی اہل نہیں۔ اس الزام کو جب ثمرہ نے قبول نہ کیا تو اسے طلاق دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ اس کے شوہر نے تو دوبارہ دھوم دھام سے اپنا گھر آباد کر لیا لیکن ہمیشہ کی طرح آج بھی ثمرہ کے پاس سیکنڈ چوائس نہ تھی ماسوائے اس کے کہ وہ ملازمت کرے اور تن تنہا اپنی تین معذور اولادوں کی پرورش کرے۔ ایک ماں ہی کا حوصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بنا کسی سہارے کے پال سکے اور اپنی اولاد کی ہر طرح کی خدمت کو بھی کبھی آزار نہ گردانے۔ لیکن اپنے جگر گوشوں کی ایسی بےبس حالت پر وہ دن بھر کتنی بار خون کے آنسو روتی ہے اور کتنی بار اپنی کوکھ کو کوستی ہے، یہ وہ ہی جانتی ہے۔ دن بھر کے کتنے ہزار پل ایسے تھے جو اس پر صدیوں سے بھی بھاری تھے، اس کا کوئی حساب نہ تھا اس کے پاس۔ ثمرہ جیسی ماؤں کا نصیب شاید ایسی ہی تکلیف اور کرب ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں ایسی ماؤں کی کمی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مُحَرَّم و صفر میں شادی کرنا - نیاز فاطمہ

ماضی میں دنیا میں ہونے والی شادیوں میں تقریباً 80 فیصد شادیاں کزن میرج کے زمرے میں آتی تھیں۔ قدیم امراء اور شاہی خاندانوں میں عموماً ایسی ہی شادیاں ہوا کرتی تھیں۔ چارلس ڈارون، روز ویلٹ، ایچ جی ویلز اور آئن سٹائن جیسے لوگوں نے بھی کزن میرج ہی کی۔ اس دور میں جینیاتی عوارض پر زیادہ تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے مغربی معاشرہ بھی اس سے لاعلم تھا۔ انیسویں صدی میں یہ رواج رفتہ رفتہ کم ہونے لگا۔ تعلیم اور آگہی کے ساتھ ساتھ ڈی این اے اور بلڈ ٹیسٹ کا طریق کار دریافت ہونے سے تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ بہت سے ایسے عوارض مثلاً دماغ کی نامناسب نشوونما، ہڈیوں کا ٹیڑھا پن، تھیلیسیمیا، نابینا پن، سماعت سے محرومی، جلد اور دل کے مسائل وغیرہ لاحق ہونے کی وجہ وراثتی نظام کے ساتھ ساتھ کزن میرج بھی بن سکتی ہے۔ ان نقائص کی 2 سے 3 فیصد وجہ دوسرے عوامل بنتے ہیں تو فرسٹ کزن میرج میں ان کا رسک 4 سے7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ پوری دنیا میں کزن میرج کا تناسب اب محض 20 فیصد تک رہ گیا ہے، اس کے باوجود دنیا میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے تقریباً چھ فیصد بچے یعنی آٹھ ملین بچے ایسے لاتعداد جینیاتی امراض لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ 3.3 ملین بچے 5 سال سے کم عمری میں ہی ان امراض کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ ایسے عوارض میں سے تقریباً 48 فیصد عوارض کزن میرج کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ دنیا نے تعلیم اور شعور کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس حقیقت اور اس سے وابستہ دکھ اور تکلیف کو سمجھتے ہوئے اس سے اجتناب کا راستہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کی 50 میں سے 25 ریاستوں نے مکمل طور پر کزن میرج کی ممانعت کی راہ اپنا رکھی ہے۔ اس کے علاوہ ساؤتھ کوریا، تائیوان، فلپائن حتیٰ کہ ایتھوپیا جیسے ملکوں نے بھی کزن میرج پر پابندی لگا رکھی ہے۔

2006ء کی ایک عالمی رپورٹ کے مطابق ایسے جینیاتی بیمار بچوں کا زیادہ تر تعلق اسلامی ملکوں سے ہے جن میں سعودی عرب، افغانستان، اور پاکستان سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں 70 فیصد شادیاں کزن میرج کے زمرے میں آتی ہیں جس کی بڑی وجہ جہالت، جاگیردارانہ نظام اور ذات برادری کا نظام ہیں۔ خاندان میں شادیاں کرنے کی بڑی وجہ جائیداد کو خاندان میں ہی رکھنا ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ لاتعداد بچے ان فرسودہ روایات کی بھینٹ چڑھ کر اپنی تمام عمر تکلیف اور محرومی میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور ان کے والدین ان کی اس محرومی کے روگ میں مبتلا ہو کر اپنی نارمل زندگیوں کو بھی ایک بیماری کی طرح سلگتے اور سسکتے گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسے کئی امراض ناقابل علاج ہوتے ہیں۔ اور جن کا علاج ممکن ہوتا ہے ان کے اخراجات والدین کی استطاعت سے بہت باہر ہوتے ہیں۔

تھیلیسیمیا ایک ایسا مرض ہے جو تیزی سے پاکستان میں پھیل رہا ہے. تقریباً ہر سال پاکستان میں چھ ہزار بچے یہ مرض لے کر دنیا پر آتے ہیں۔ کئی دیہاتوں میں جنم لینے والے بچے تو بلا تشخیص ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اور ایسے بچے جن کے مرض کی تشخیص ہو جاتی ہے، ان کا علاج تا عمر چلتا ہے اور تاعمر ہی والدین کو اس علاج کے اخراجات خیرات سے، فلاحی اداروں کے تعاون سے یا اپنا آپ بیچ کر ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی یوں تو اہم وجہ والدین میں سے دونوں کا تھیلیسیمیا مائنر ہونا یا کسی ایک کا تھیلیسیمیا میجر ہونا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں بچے کا تھیلیسیمیا میجر ہونے کے چانسس 25 فیصد ہوتے ہیں۔ والدین کا عموماً اس کے شکار ہونے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ باہمی طور پر فرسٹ کزن ہوتے ہیں اور یہ بیماری اپنے ہی خاندان سے لیتے ہیں. 2001ء سے 2011ء کے دوران بریڈ فورڈ میں 11 ہزار بچوں نے جنم لیا اور ان میں سے 2000 بچے کزن میرج سے لاحق ہونے والے عارضوں کا شکار تھے، اس میں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان میں سے37 فیصد بچے پاکستانی خاندانوں میں پیدا ہوئے۔ اس کی وجہ پاکستانی کمیونٹی کا وہ رواج ہے جس کے مطابق وہ عموماً اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے پاکستان میں موجود اپنے خاندان کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر کزن میرج سے ابنارمل بچے ہی جنم لیں لیکن یہ ضرور ہے کہ کزن میرج میں ایسے بچوں کی پیدائش کے چانسز دوہرے ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً ایسے خاندان جن میں کزن میرج کا رواج نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ یا پھر اگر لڑکی اور لڑکے کے والدین میں سے دونوں باہمی کزن ہوں، ایسے میں اگر دونوں ماں باپ ابنارمل جین carry کر رہے ہوں تو اولاد اس ابنارمیلٹی کا شکار ہو سکتی ہے لیکن اگر ماں باپ میں سے دونوں الگ الگ جین مطلب ایک نارمل اور دوسرا ایبنارمل جین carry کر رہا ہو تو بیماری کے اولاد میں آنے کے چانسز عموماً نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت وقت کی بات - مولانا محمد جہان یعقوب

اس فعل کو جواز بخشنے کے لیے بالعموم اسلام کی آڑ لی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام میں کزن میرج کی کوئی ممانعت نہیں پائی جاتی اور پھر اسلامی ہسٹری سے مثالیں بھی پیش کی جاتی ہیں، یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ اسلام نے دنیا پر غور و فکر کرنے اور اسے مسخر کرنے کی تلقین کی۔ ہمیں اپنی عقل و فہم کو استعمال کرنے کا بھی حکم ہے، اور یہ بھی فرمایا گیا کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ایسی بہت سی حقیقتیں ہیں جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے دریافت کیا، بہت سے راز منکشف اور مسخر ہوئے۔ بہت سی ایجادات کو انسان نے اپنی زندگی میں شامل کیا تاکہ اپنی زندگیوں کو سہل بنایا جا سکے تو یہ بھی ایک ایسی ہی حقیقت ہے جسے انسان نے اپنی عقل اور علم و فہم سے دریافت کیا۔ آج ان حقیقتوں سے نپٹنے کے لیے ہمیں اپنے حواس اور علم کو استعمال کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سوچ کو مثبت دھارے دے کر نہ صرف اسے خود اپنے لیے بہتر اور کار آمد بنانا ہوگا بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس سے فیض یاب کرنا ہوگا ۔اگر شادی سے پہلے چند ضروری ٹیسٹ کروا لیے جائیں تو بھی شاید ایسے عوارض سے اپنی آنے والی نسل کو بچایا جا سکنا ممکن ہو سکے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.