لمبی جُدائی - نورین تبسم

شادی مرد اور عورت کے زندگی کے آخری سانس تک ساتھ رہنے کا سماجی مُعاہدہ ہے۔ عورت مرد کا یہ تعلق دیکھنے میں بہت پُرکشش اور دلفریب ہے، مگر درحقیقت اس میں اتنے پیچ و خم اور ایسی گہری کھائیاں ہوتی ہیں کہ انسان ایک گرداب سے بچتا ہے تو دوسرے میں جا نکلتا ہے۔ مرد یا عورت کی تخصیص سے قطع نظر کسی بھی انسان کے لیے ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گذارنا خصوصاً اپنے جذبات اور احساسات کے حوالے سے دنیا کی زندگی میں سب سے بڑی آزمائش ہے تو اس بندھن کو آخری سانس تک نبھاتے رہنا اس سے کئی گنا زیادہ کڑا امتحان ہے۔ اپنی فطری جبلت کی انسان کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اس رشتے میں بندھنے کے بعد ایک نامعلوم سا حساب کتاب کا کھاتہ کھل جاتا ہے، دن اور رات کا ہر لمحہ دوسرے کے سامنے عیاں کرنا پڑتا ہے۔ عورت کی زندگی کا محور اگر نئے بننے والے رشتوں اور ان سے وابستہ مسائل کو سمجھتے، سلجھاتے اور اپنے اندر بری طرح الجھتے گذرتا ہے تو دنیا میں بےفکری کی سیٹیاں بجاتے معصوم سے مرد کو گھریلو ذمہ داریوں اور روٹی روزی کے جھنجھٹ کان پکڑ کر کولہو کا بیل بنا دیتے ہیں۔ اس تعلق کی کامیابی یا ناکامی بیرونی سے زیادہ اندرونی عوامل کی مرہونِ منت ہوتی ہے اور یہ فیصلہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں میں سے کوئی ایک اس دُنیا سے رخصت نہ ہو جائے۔ احساس کی پھوار اورسمجھوتے کے گریس سے پنپتی ایک لمبی رفاقت کے بعد جب کوئی فریق جُدا ہوتا ہے تو مرد عورت دونوں کے احساسات مُختلف ہوتے ہیں۔

شادی شدہ زندگی گزارنے اور ماں بننے سے قطع نظر ماں یا مامتا عورت کا ایک ایسا رویہ ہے جس کی جھلک عمر کے ہر دور میں نظر آتی ہے تو زندگی کے ہر کردار میں بحسن و خوبی پورا اترنے کے لیے اس کی فطرت میں لکھ دیا گیا ہے۔ عورت کی قربت میں جب تک ممتا کی آغوش کی نرمی نہ ملے، وہ بھرپور نہیں ہوتی۔ مرد کے اندر کا چھوٹا بچہ کبھی بڑا نہیں ہو پاتا، وہ ہر رشتے، ہر تعلق میں پہلے اپنے اندر کے چھوٹے بچے کومطمئن کرتا ہے، پھر آگے بڑھتا ہے۔

اِس رشتے کے حصار میں آنے والا مرد زندگی کے میلے میں گھومنے والے اُس چھوٹے سے بچے کی طرح سے ہے جو اپنے بڑوں کا ہاتھ پکڑ کر میلے میں جاتا ہے، مختلف اقسام کی رنگ برنگی اشیاء اُسے اپنی جانب کھینچتی ہیں، وہ ہاتھ چُھڑا کر بھاگنا چاہتا ہے تاکہ اپنی مرضی سے ہرطرف گھوم پھر سکے، ہر شے کو حسرت بھری نگاہ سےدیکھتا ہے۔ لے جانے والے اُسے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اُس کی خواہشات کا ہر ممکن خیال رکھا جاتا ہے، کسی شے کی کمی نہیں ہونے دی جاتی لیکن اُس کا ضدی دل لڑتے جھگڑتے اپنی چاہ پر اڑا رہتا ہے، خیرخواہ دشمن دِکھتے ہیں جو زندگی کا بھرپور لُطف نہیں اُٹھانے دیتے۔ کبھی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ فرار ناممکن ہو جاتا ہے. اچانک ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ گرفت کمزور پڑ جائے یا پھر کسی خواہش یا ہوس کی حدّت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سب راکھ ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے نفع نقصان کی پرواہ کیے بنا ہاتھ چُھڑا لیتا ہے تو کبھی بغیر کسی خواہش کے بھی ہاتھ چھوٹ جاتا ہے۔ یہ ایک نئی کہانی کا نقطۂ آغاز ہے۔ اب وہ اپنی مرضی سے ہر جگہ جانے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے طور پر گھومنا چاہتا ہے تو کہیں اونچے دروازے اُس کی راہ میں رُکاوٹ بنتے ہیں، کبھی اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ اسے ہر قدم پر سہارے کی عادت جو تھی۔ وہ مہربان ساتھ جو اُس کی خواہشات کی تکمیل میں ہر گھڑی اس کے ہم قدم تھا، اب زندگی کے میلے میں کھو چُکا۔ وہ ننھا سا بچہ ہر شکل میں اُس کو ڈھونڈتا ہے اور کسی کو ظاہر بھی نہیں ہونے دیتا مبادا کسی کو اُس کے اکیلے پن کا پتہ چل جائے۔ وہ راستے کی بُھول بُھلیوں میں بھٹک کر بھی سر اونچا کر کے چلےجاتا ہے اپنے خول میں بند، اندر سے غیر محفوظ۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کی عریانی اور مرد - ابویحیی

عورت پہلے زندگی کی بازی ہارجائے تو وہ مرد کے لیے ایسے دانت کے مانند ہوتی ہے جس کی موجودگی کا اُسے قطعاً کوئی احساس نہیں ہوتا۔ لذتِ کام و دہن کے لیے اس دانت کو وہ ایک اوزار سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اُسے کبھی خیال نہیں آتا کہ کسی سخت ترین چیز کو توڑنے کے لیے اس دانت کو کتنی اذیّت برداشت کرنا پڑتی ہے؟ وہ اپنی زندگی جیتا ہے، اُسےصرف اپنے ٹھنڈے گرم سےغرض ہوتی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ شدید ٹھنڈا یا تیز گرم اس دانت کے لیے کس قدر نُقصان دہ ہے؟ صبح شام بُرش کر کے سمجھتا ہے کہ اپنا فرض پورا کر دیا۔ اُس نے کبھی اُس کی رگوں میں اُتر کر نہیں دیکھا کہ وہاں کس چیز کی کمی ہو رہی ہے؟ بالآخر جیسے ہی وہ سخت جان جُدا ہوتا ہے، عین اُس لمحے مرد پر آگہی کے در وا ہو جاتے ہیں۔ جس چیزکی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے، ایک خالی جگہ اُسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ وہ اپنے آپ کومضبُوط جان کر اس کمی پر قابو پانے کے لیے زور لگاتا ہے لیکن وہ مزا، وہ لذّت اُسے کبھی نہیں ملتی۔ یہ احساس کچوکے دیتا رہتا ہے کہ اگر ذرا احتیاط کرتا تو میرا ہی فائدہ تھا۔ پھر یہ احساس بھی ہر کسی کا مُقدر نہیں، کُچھ نادان یا بےحس پتھروں سے بھی گئے گُزرے ہوتے ہیں۔

اگر مرد پہلے داغِ مفارقت دے جائے تو وہ عورت کے لیے ایسے آکسیجن سلنڈر کی طرح ہوتا ہے جسے وہ اپنی پیٹھ پر اُٹھائے اپنی عمر کے بند کمرے کے دائروں میں سفرکرتی ہے، بالکُل کولہو کے بیل کی طرح۔ جُدائی کی گھڑی میں جہاں وزن ہٹنے سے ایک ہلکے پن کا احساس ہوتا ہےگویا کششِ ثقل ختم ہو گئی ہو، وہیں آکسیجن کے حصول کے لیے کھڑکی بھی کھولنا پڑتی ہے۔ ایسی کھڑکیاں جن پر مُدتوں ہوا دستکیں دیتی رہی لیکن کبھی گُھٹن محسوس ہی نہ ہوئی۔ اب خود آگے بڑھ کر کھڑکی کھولی تو پتہ چلا کہ وہ دستکیں تو خواب و خیال ہوئیں۔ اب تو تازہ ہوا کے جھونکوں کے ساتھ آلودہ فضا اور گرم لُو ہی مُقدر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت، مرد، گھر اور انٹرنیٹ - نورین تبسم

مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی دُنیا کے بادشاہ ہیں۔ مرد کی بادشاہی اُس وقت تک ہے جب تک عورت کا وجود اُس کی زندگی میں جی حضوری کی صورت قائم رہے جبکہ عورت کی بادشاہی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب مرد کا وجود ہمیشہ کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو جائے۔ عورت کی بادشاہی جنگل کے اُس بڈھے شیر کی طرح ہے جو اپنا شکار بھی خود تلاش نہیں کر سکتا، اور انا کے خول میں بھوکا پیاسا اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔

حرف ِآخر!
دنیا کی ہر چیز، ہر رشتہ اور ہر تعلق صرف برتنے اور پھر چھوڑنے کے لیے ہے۔ کبھی ہم برتنے کے بعد اسے سمیٹنے کی جستجو میں خوار ہوتے ہیں تو کبھی اپنی گرفت میں سنبھالے رکھنے کی جدوجہد میں اسے کھو دیتے ہیں۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم اس کی موجودگی اور اہمیت کے احساس سے ہمیشہ بےخبر رہتے ہیں تاوقتیکہ وہ ہماری نظروں سے ہمیشہ کے لیے دور نہ ہو جائے۔ وقت کو تھام لو، اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!