تحریر و کاتب - ریاض علی خٹک

لفظ جب زبان سے ادا ہوتا ہے، تو مفہوم میں لغت اور چہرے کا تاثر اس کی تفسیر بنتے ہیں. لفظ جب تحریر ہو جائیں، تب لغت ہی اس کا مفہوم بتاتی ہے.

لکھے ہوئے یہ لفظ بہت عجیب ہوتے ہیں. جب ہنسانے پر آتے ہیں تو لفظ لفظ مسکرانے لگتا ہے. مٹھاس سے لبریز ہو جاتے ہیں. قہقہے لگاتے ہیں. ایک شیر خوار کے معصوم ہونٹوں کے دلکش زاویے بن جاتے ہیں، ان کی شکل اُس کی معصوم نگاہیں بن جاتی ہیں. تب کاتب کا لرزتا میلا ہاتھ، اور پُرسوچ خالی آنکھیں اپنے شکن زدہ چہرے کے ساتھ اس کے پیچھے ایسے چھپ جاتا ہے، جیسے پڑھنے والا کسی گلستان میں ہو اور باغ کی رعنائی کو دیکھ کر مالی کو بھول جاتا ہے.

یہی لفظ جب رلاتے ہیں، تو آنسو بن جاتے ہیں. ماتم کدے کی دھیمی آگ میں جذبوں کی دھونی سے آنکھیں نم کردیتے ہیں. اور پیچھے کسی ہنستی آنکھوں کی شرارت چھپ جاتی ہے.

یہ لفظ جب راہ دکھاتے ہیں، تو راہنما بن جاتے ہیں، منزل کو نقشے میں پرو کر مسافر کے ہمراہی بن جاتے ہیں. یہی لفظ جب ساتھ دیتے ہیں تو راہ کے ہر نشیب و فراز سے آگاہ کر دیتے ہیں. یہ لفظ کسی عمل کے لیے پڑھنے والے کی ہمت بن سکتے ہیں، اور بے عملی کے لیے اُس کے ضمیر کی افیوم.

ہاں یہی لفظ جب منافق بن جائیں، تو منافقت کا سراب بنا دیتے ہیں. دشت میں بھٹکے مسافر کو بھٹکا کر پیاسا کر دیتے ہیں. منافقت کی آگ برسا کر اسے مایوس کر دیتے ہیں. اور اس مایوسی میں اسے آبِ حیات کا سراب دکھا کر دشت میں گُم کر کے فنا کر دیتے ہیں.

یہ لفظ بہت عجیب ہیں.
ان لفظوں کے سحر کے پیچھے کاتب کی ذات ہوتی ہے. ہر لفظ پر ہنسنے سے پہلے، کسی ماتم پر گریباں چاک کرنے سے قبل، کسی لفظوں کے مجموعے کو سفر کا نقشہ بنانے سے قبل کسی لفظوں کے جادوگر کے سحر میں دشت لاحاصل میں سرگرداں ہونے سے پہلے لفظوں کے اس کاتب کو پہچان ضرور لیں. ان کو اپنی مشعل راہ بنانے سے قبل ان لفظوں کو اپنی سوچ و ادراک بنانے سے پہلے یہ لفظ کس کے ہیں، یہ شناخت کرلیں، کاتب کی پہچان کرلیں.

ان لفظوں پر کچھ دیر ہنسنا یا رونا کیفیت ہے. لیکن ان کو اپنانا رشتہ ہے. رشتے دیکھ بھال کر طے ہوتے ہیں. آج بہت سے لفظ لفظوں کے مزدور نقش کر رہے ہیں. جن کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ کیسے ہتھیار ہیں. ان کے ڈالنے اور بنانے والے بھی یہ نہیں جانتے کہ ان لفظوں کی تباہ کاری کیا ہوگی، اور کتنی نسلوں تک چلے گی. ہماری آج کی تقسیم در تقسیم بھی ماضی کے کچھ لفظ ہیں. کیا ہم اپنی آنے والی نسل کو بھی گمنام لفظ دینا چاہیں گے؟

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */