اپنے گھر کے قیدی - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

لال گلاباں دے موسم وچ
پھلاں دے رنگ کالے.
کیوں؟ کیسے؟
یہی سوال میرا بھی ہے.. کیوں؟

اسکول میں خون ریزی سے ڈر کر ماں نے بچے سکول جانے سے روک لیے.. یوں لگتا تھا کہ بچے اسکول گئے تو واپس نہیں آئیں گے. خوف تھا کہ اپنے نوکیلے پنجے ہمارے ذہنوں میں گاڑے ہمارے حوصلوں کا خون پیتا رہتا تھا.. پل پل مرتی پل پل جیتی مائیں کس حسرت و کرب میں اپنے بچوں کے ٹفن تیار کرتی تھیں. کس عذاب سے گزرتی تھیں جب بے داغ وردی کی کریز بناتی تھیں. دل میں بیٹھا خوف اس وردی پر کھلے لال گلاب دکھاتا تھا. جو بڑھتے اور پھیلتے چلے جا رہے ہوں. تازہ سرخ گلاب جو کالے بارود کی دین ہوتے ہیں.
اپنے جگر گوشوں کو اسکول کے گیٹ پر چھوڑتے باپ کی حسرت کس نے نہیں چکھی. جو باپ ہے وہ میری بات کو جان سکتا ہے.

جس روز بچہ سکول نہ جاتا وہ ذہنی سکون کا دن ہوتا. تعلیم ادھوری رہ جائے گی یا سال ضائع ہو جائے گا لیکن بچہ سلامت رہے گا، آنکھوں کے سامنے رہے گا.

اسی خوف و دہشت کی فضا سے وہ حوصلہ ابھرا جسے دیکھ کر چشم فلک بھی حیراں رہ گئی ہوگی. والدین نے اپنے بچے اسکولوں میں بھیجے بھی اور کسی کا کوئی سال ضائع نہ ہوا.. بس گارڈز اور بیرئیرز کے ساتھ ساتھ مورچوں پر مسلح افراد کی موجودگی نے اسکولوں کو قلعے بنا دیا.

لیکن مسجدوں کا کیا؟ محافظ، تلاشی، واک تھروگیٹ اور سپائی کیمرے. اللہ کے گھر کی حفاظت کے لیے؟
ماں باپ بچوں کو باجماعت نماز میں بھیجنے سے ڈرتے ہیں. جماعت رہ جائے گی لیکن جان بچ جائے گی.
سینما میں لے جا نہیں سکتے. محفوظ نہیں. محافظ اور گیٹ یہاں بھی موجود ہیں.
عید نماز ہو، عید میلاد، محرم کی مجالس، نیو ائیر یا ایسٹر. اگر شرکت کرنا ہے تو سر پر کفن باندھ لیجیے.

یہ بھی پڑھیں:   بابا بلھے شاہ کی نگری میں پھر خوف کے سائے - رانا ظفر اقبال

تعلیم، تفریح اور عبادت اور عوامی اجتماع ہر رستہ بند ہوتا جا رہا ہے.
باغات سے پھولوں کی خوشبو کے بجائے بارود کے دھوئیں کی مہک آنے لگی ہے..
کالے بارود نے یہاں کتنے سرخ گلاب کھلا دیے ہیں، اور کتنے سرخ و سپید پھول سیاہ کر دیے ہیں.
ماں باپ بچوں کو کہاں لے جائیں. ہماری سماجی و معاشرتی زندگی کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں.
ہر سانحہ دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے ملک میں قیدی بن گئے ہیں. اپنے اپنے گھر کے قیدی؟
عجب نہیں کہ ایسا دن بھی دیکھیں جب رشتےدار کے گھر میں داخلہ بھی جامہ تلاشی اور واک تھروگیٹ سے گزرے بغیر ممکن نہیں رہے .

لال گلاباں دے موسم وچ
پھلاں دے رنگ کالے.....کیوں؟

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.