آصف زرداری کا نیا این آر او - فیض اللہ خان

بلاشبہ آصف علی زرداری نے مقتدر قوتوں سے ڈیل کر لی ہے، چاہے اسے مفاہمت کا نام دیں، این آر او یا کچھ اور، لیکن بات یہ ہے کہ معاملات طے پاچکے ہیں. وہ تمام اینکرز جو گلے پھاڑ کر بدعنوانی کی کہانیوں پر پروگرام کرتے تھے، اب وہاں سناٹا ہے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کا یہ کھیل بتاتا ہے کہ پاکستانی عوام کے اصل نمائندے اس بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں، وہ بدعنوان نہیں لیکن جمہوریت و آمریت کے نام پہ ہونے والے اس کھیل اور دھوکہ دھی سے دور ہیں، شاید یہی ان کی ناکامی کی وجہ ہو. حالیہ مفاہمت اس جانب اشارہ ہے کہ ملک جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسے عالمی اصول اور صابطے کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں ایک اطمینان یہ ہے کل تک اوروں کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھی ہونے کا طعنہ دینے والی پیپلزپارٹی عہد مشرف کے بعد دوسری مرتبہ یہی کچھ کر گئی۔

یہ قومی المیہ ہے کہ اربوں کا فنڈ اور تکنیکی مہارت رکھنے والے اداروں کو جب ثبوت نہیں ملتا تو جہادیوں کو جعلی مقابلوں میں پار کر دیا جاتا ہے، مگر سیاست دانوں کے خلاف کچھ نہ ملے تو انھیں پروٹوکول سے نوازا جاتا ہے، اور کچھ ملے بھی تو حسب ضرورت اسے بارگیننگ اور معاملات طے کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ فوجی جتنا بھی مخلص اور ایماندار ہو جائے، اقتدار کی زمام کار سنبھالنا اس کا کام نہیں، اور سیاستدان جتنا بھی بہادر اور وطن پرست ہو جائے، سرحد کی حفاظت اس کے ذمہ نہیں۔

آصف زرداری نے کہا تھا کہ آپ نہیں ہوں گے، ہم ہوں گے اور وہ وعدے کے مطابق موجود ہیں، جبکہ آپ کسی اور نوکری پر لگ گئے، جیسا کہ تبدیلی کی خواہش رکھنے والے جنرل احمد شجاع پاشا۔ سیاستدانوں کی بدعنوانی میں کوئی دو رائے نہیں لیکن آمریت نے کون سا ملک کو استحکام بخشا؟ اور اس طرح کے منصوبوں یا کرپشن کے واویلے سے ملک و قوم کو کیا فائدہ ہوا؟ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ جوہری بم بھٹو نے بنایا، مگر اسے پھانسی پر چڑھا دیا گیا، اور اس کی بیٹی سکیورٹی رسک قرار پائی. کیسا سنگین مذاق ہے نا؟

ذوالفقار بھٹو کو پھانسی چڑھانے کے بجائے طبعی موت مرنے دیا جاتا تو آج آصف زرداری اور شرجیل میمن جیسوں کو پروٹوکول دینا پڑتا نہ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت ہوتی، یہ سو جوتے و پیاز کی اعلی مثال ہے۔ بھٹو نے آمرانہ سیاست، مجیب کا مینڈیٹ ماننے سے انکار اور بدترین معاشی پالیسی اختیار کرکے اپنی قبر خود ہی کھود دی تھی لیکن مقتدر قوتوں کی جلد بازی کے سبب وہ حالیہ مردم شماری میں بھی زندہ نکلا۔

بس کیجیے، لوگوں پر اعتماد کرنا سیکھیے، ملک کے تنہا وارث آپ نہیں ہیں، اپنے سوا دیگر کو بھی محب وطن سمجھیں۔ پلاسٹک کی قیادت اور تنظیمیں بنانے سے گریز کریں، قومی سیاسی جماعتوں پہ اعتماد کریں، اعتماد کریں گے تو کام ہوگا، تسلسل سے معاملات چلیں گے تو عوام اچھے برے کی تمیز کرسکیں گے جیسا کہ اب کچھ کچھ ہونے لگا ہے۔
ہاں! پیچھے بچی عدلیہ تو اس سے انصاف کی امید رکھنا ایسا ہی ہے کہ مخنث سے بچے کی پیدائش ہوجائے ۔

اس ساری صورتحال میں تحریک انصاف کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ پوشیدہ ہے. اس کی قیادت کو سوچنا ہوگا کہ کیا وہ استعمال ہوئے؟ عام انتخابات سر پہ کھڑے ہیں، اور پیپلزپارٹی ماضی بھلا کر بھرپور مہم چلانے کے لیے تیار ہے، فرق اتنا سا ہے کہ اس بار مہم مکمل آشیرباد کے ساتھ چلائی جا رہی ہے۔ البتہ دیکھنا یہ ہے کہ عوام کا سیلاب کس کو بہا لے جاتا ہے۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */