آج کل ’’ضمانتوں‘‘ کے دن ہیں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ہائی پروفائل کیسوں میں حالیہ دنوں میں آئے فیصلے اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ایان علی، شرجیل میمن، حامد سعید کاظمی اور اب ڈاکٹر عاصم حسین صاحب بھی۔گویا جن کی کرپشن کی داستانیں ہوشربا انداز میں کہی سنی جاتی تھیں، سب پر ابر کرم برسنے لگا۔ بلکہ کاظمی صاحب تو باعزت بری ہوگئے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم کا جو بھی لیڈر واپس آ رہا ہے، ضمانت پا رہا ہے یا پھر پی ایس پی کی حفاظت پا رہا ہے۔ کیا کیا لرزہ خیز داستانیں ہمارے سامنے لائی جاتی تھیں ان کی۔ اب سب سمٹ کر ایم کیو ایم لندن کے ذمہ رہ گیا ہے۔ باقی سب پر کرم ہوگیا۔

یہ تو ایک رویہ ہے ریاست کا۔ نہ اس کے لیے کرپشن کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی سیاست یا علیحدگی پسندی کے نام پر قتل و غارت۔ تاہم جب ریاست اپنے آئین میں ایک ایسی ترمیم کرتی ہے جس میں قتل و غارت، لاقانونیت اور ریاستی رٹ چیلنج کرنے کے دیگر تمام جرائم کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف ’’مذہب اور فرقہ واریت‘‘ پر مبنی انتہاپسندی و دہشت گردی کو فوکس کیا جاتا ہے تو ریاست کے اس بیانیہ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جو وہ عوام تک پہنچانا چاہ رہی ہے۔

آئرلینڈ سے لے کر سری لنکا، اور وسطی افریقی ممالک کے تجربہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عسکریت پسندی ہمیشہ مظلومیت کی کھاد پر پلتی ہے۔ عسکریت پسند گروہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ خود کو کسی بڑے کاز کا ہیرو بنا کر پیش کر سکیں اور یوں جبر کے خلاف جدوجہد کا استعارہ بن کر عوام میں اپنے لیے پناہ گاہ ڈھونڈ سکیں۔ کاؤنٹر انسرجنسی کا سب سے بڑا امتحان اس صورتحال سے نمٹنا ہوتا ہے۔ اس اعصاب شکن کشمکش میں چُوک جانے کا مارجن نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

جب بھی یہ تاثر ابھرے گا کہ جن کے متعلق ایک عرصہ تک اس قدر طومار باندھا گیا وہ سب تو چھوٹ رہے ہیں اور صرف ایک گروہ کے خلاف فوجی عدالتیں جو دراصل سرسری سماعت کی عدالتیں ہوتی ہیں، قائم کی جا رہی ہیں تو متذبذب حلقوں میں غلط پیغام جا سکتا ہے۔ اور یہ نہایت خطرناک بات ہے۔

دہشت گردی کی حرکیات سے واقف لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ دہشت گرد سے کم ازکم دس گنا خطرناک وہ شخص ہوتا ہے جسے ہم ’’سہولت کار‘‘ کہتے ہیں۔ سہولت کار کی عدم موجودگی میں دہشت گردی کی کوئی واردات کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے کیونکہ جب سیکیورٹی الرٹ ہو تو بارود، خود کش جیکٹ یا دیگر سامان کے ساتھ ایک انجان جگہ جا کر کاروائی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ سہولت کار ہی ہوتا ہے جو ’’موقع‘‘ بھی دیکھتا ہے، دہشت گرد کو چھت بھی فراہم کرتا ہے، کھانا پینا بھی اور پھر جائے واردات تک رسائی بھی۔

سہولت کار کو نہ اس کام کی ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ وہ معاشرے میں کسی طرح ممتاز یا الگ نظر آتا ہے۔ اور تو اور اس کا کوئی مالی یا دیگر مفاد بھی نہیں ہوتا۔ اس کی قوت محرکہ صرف اور صرف ایک چیز ہوتی ہے۔ دہشت گرد کی ’’مظلومیت‘‘ کا تاثر۔ اس میں کچھ حصہ ایسے گروہوں کے پروپیگنڈہ کا ہوتا ہے اور کچھ ان اقدامات کا جو حکومتیں اٹھاتی ہیں۔ یہ صرف Perception کا کھیل ہے، سب کا سب۔

اسی لیے پہلے بھی عرض کیا تھا اس جنگ کو ’’لاقانونیت‘‘ کے خلاف لڑیں تاکہ فئیر پلے کا عنصر نمایاں ہو۔ اگر اس میں pick n choose کی پالیسی کا شائبہ شامل ہو گا تو اس کی اثر پذیری کم ہو جائے گی۔

آپ دیکھیے کہ جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن نے حکومت کا اتحادی ہونے کے باوجود اس ترمیم کی حمایت نہیں کی کیونکہ ان کے خیال میں وہ اپنے ووٹرز کے سامنے اس ترمیم کا دفاع نہیں کر سکتے تھے۔ یہ ایک اہم انڈیکیٹر ہے۔ اگر ریاست کو رٹ قائم کرنا ہے تو اسے سب کے ساتھ یکساں سلوک کا تاثر دینا ہوگا۔ گڈ اور بیڈ طالبان کی طرح گڈ اور بیڈ قانون شکن کا تاثر بھی نقصان کا باعث ہوگا۔

اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جن سے سہولت کاروں میں اضافہ ہو جانے کا خطرہ ہو۔ سہولت کار ہی اصل خطرہ ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر قیمت پر Perception کی جنگ بھی جیتنا ہوگی۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.