سوشل میڈیا پر توہین رسالت کا معاملہ - عابد محمود عزام

سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بہت مختلف ہے۔ سوشل میڈیا کو ہر کوئی آسانی اور آزادی کے ساتھ استعمال کرسکتا ہے، لیکن اس آزادی کا ایک نقصان یہ ہوا کہ بہت سے شرپسند عناصر نے اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا، جس سے معاشرے میں انتہاپسندی اور انتشار میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف جماعتوں، فرقوں اور گروہوں کے لوگوں نے سوشل میڈیا کو محاذ بنا کر فریق مخالف کے خلاف نفرت پھیلانا شروع کردی۔ کوئی کسی کو گالی دے، کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے، مذہب اور مسالک پر طعن و تشنیع کے نشتر چلائے، کوئی پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی ہماری حکومتوں نے ایسے افراد کی گرفت کی۔ کچھ عرصہ قبل فیس بک پر کچھ شرپسند اور گستاخ عناصر نے جناب نبی کریم کی ذات اقدس، ازواج مطہرات اور شعائر اسلام کی گستاخی کا سلسلہ شروع کیا، جو کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اپلوڈ کرنے والے تمام اکاوئنٹس اور پیجز کی جانچ کرکے ان لوگوں کا پتا لگائے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کے کیا مقاصد ہیں۔ اسی قسم کے لوگ جعلی پیجز سے مختلف فرقوں اور مذاہب کے خلاف پوسٹنگ کر کے ایک دوسرے کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں بیرون ملک بیٹھے پاکستان اور اسلام دشمن عناصر ملوث ہوتے ہیں، جو پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ اپنے انہیں مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ لوگ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر حالیہ توہین رسالت کی چھان بین کے دوران فیس بک پر گستاخانہ پیجز کو بیرون ملک سے کنٹرول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سے ایک سید امجد حسین نامی شخص بھی ہے جو فیس بک پیجز پر گستاخی کا مرتکب ہورہا ہے، جو خود کو بھارت کا بتلاتا ہے، جبکہ کچھ گستاخ افراد گزشتہ دنوں گرفتار بھی کیے گئے تھے، جو یورپ میں بیٹھ کر پاکستان میں فیس بک پر توہین رسالت کا ارتکاب کر رہے تھے۔ اگر ان عناصر کو نکیل نہ ڈالی گئی تو خدانخواستہ یہ لوگ پورے معاشرے کو فساد اور انتشار کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ اری ہے کہ متعلقہ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ایک سخت مانیٹرنگ سسٹم قائم کرے اور سوشل میڈیا پر تمام گستاخانہ لنک اور پیجز فوری طور پر بلاک کیے جائیں اور مرتکبین کے خلاف مثالی کارروائی کرتے ہوئے ملک کے امن اور اسلامیان پاکستان کو ایسی غیر مذہبی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جائے اور ان کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک حرکت کی جرات نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

فیس بک پر جعلی اکاﺅنٹس بنا کر شعائر اسلام اور شان رسالت کی توہین کرنے والوں کی گرفت کرنا حکومت، متعلقہ اداروں اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ متعلقہ ادارے، ایف آئی اے وغیرہ آسانی سے ان کی شناخت کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس بہت بڑا سسٹم ہے، وہ چاہیں تو ایسے لوگوں کو آسانی سے پکڑ سکتے ہیں۔پاکستان میں اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں، اگر ان پر عمل ہو تو مجرمین عبرت کا نشان بن جائیں۔ اگر حکومت سوشل میڈیا پر توہین رسالت کو روکنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ جس پر بھی توہین رسالت کا جرم ثابت ہو، اسے پھانسی دے دی جائے۔ اگر حکومت سوشل میڈیا پر توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے افراد کو پہلے ہی سولی پر لٹکادیتی تو دوبارہ کسی کو توہین رسالت کرنے کی جرات نہ ہوتی، لیکن اس معاملے میں اب تک شاید کسی کو قانون و آئین کے مطابق سزائے موت نہیں دی گئی، جس کا نتیجہ ہے کہ بدبخت آزادی کے ساتھ سوشل میڈیا پر توہین رسالت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایاز نظامی نامی کسی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بارے میں بتایا جارہا ہے، نعوذباللہ وہ فیس بک پیجز پر گستاخانہ مواد ڈالتا تھا۔ اگر اس قسم کا کوئی بدبخت واقعی گرفتار ہوا ہے تو اس کو ضرور پھانسی دی جانی چاہیے اور اس کے علاوہ بھی جو کوئی توہین رسالت کا مرتکب گرفتار کیا جاتا ہے، اسے بھی سولی پر لٹکایا جانا چاہیے، تاکہ اس سے دوسرے گستاخ لوگ بھی عبرت پکڑیں اور کوئی توہین رسالت کی جرات نہ کرسکے۔اس حوالے سے عوام کی بڑی تعداد ایاز نظامی اور توہین رسالت کرنے والے دیگر افراد کی پھانسی کا مطالبہ کر بھی رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف شہروں میں سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے مرتکبین کی گرفتاری کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ علمائے کرام اور دینی رہنماﺅں نے گستاخ بلاگرز کو شدید ترین سزائیں دینے اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ میڈیا پر بھی اس حوالے سے روز خبریں آنے لگیں، جس کے بعد حکومت اس معاملے کی جانب متوجہ ہوئی۔ وزیر اعظم میاں نوازشریف نے حکم دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ایسی تمام ویب سائٹس، پیجز اور اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا جائے، جن میں پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز مواد موجود ہے، جو مسلمانوں کو اشتعال دلانے کا سبب بنتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کا نوٹس لے کر وزیر اعظم نے بہت ہی اچھا کیا۔ وزیر اعظم صاحب کو بہت پہلے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کا نوٹس لے کر ان کے کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا حکم دے دینا چاہیے تھا، کیونکہ ایسے شرپسند عناصر ہی معاشرے میں انتشار اور بے چینی پھیلاتے ہیں، جن کا سدباب ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام کے حوالے سے ایک کیس زیر سماعت ہے، جبکہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیخلاف مذمتی قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیا جاچکا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر توہین آمیر اکاﺅنٹس چلانے والے اور ان کے سہولت کاروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں، جہاں سے ان کو ہوسٹ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناموسِ رسالت اور عظمت رسول کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ کہتے ہوئے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دینی و ایمانی جذبات کی درست ترجمانی کی کہ ” بحیثیت مسلمان گستاخانہ مواد کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر ہم نے محسن انسانیت کی شان میں گستاخی نہ روکی تو اس کے خلاف شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔“ متعلقہ اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی چھان بین کے لیے کافی تگ و دو کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ بھی بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ اللہ کرے وہ اپنے دعوے کو عملی جامہ بھی پہنائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

پاکستانی حکام نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام کے لیے فیس بک انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا تھا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کی روک تھام کے لیے آرٹیکل19 سے متعلق مہم تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چلایا گیا ہے ، جس میں ریاستی اداروں اور مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ کہنے یا لکھنے کو قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا عمر قید، سزائے موت اور جرمانہ قرار بھی رکھا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کی اس حوالے سے کوششیں قابل ستائش ہیں، لیکن اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق تمام اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر پالیسی وضع کرنی چاہیے اور صرف سوشل میڈیا پر پابندی کی بجائے توہین رسالت کے مواد کو عالمی سطح پر نفرت انگیز مواد قرار دلوانا چاہیے، تاکہ کوئی گستاخ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کرتوہین رسالت کرنے کی جرات نہ کرسکے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.