صد سالہ اجتماع کو عدیم المثال ہونا چاہیے! علی عمران

جمیعت علمائے اسلام کی تاسیس کا صد سالہ اجتماع ہونے جا رہا ہے. یہ گویا دیوبند کی رگوں کا سارا خون ہے، جو اضاخیل میں جمع ہو رہا ہے. امید ہے متعلقہ احباب بہترین انتظامات میں مصروف ہوں گے.. اور حق یہ ہے انتظامات کو بہترین سے بھی بہترین ہونا چاہیے.

بظاہر یہ صرف جمیعت علمائے اسلام کا اجتماع ہے، مگر درحقیقت یہ ایسا موقع ہے، جہاں پر تمام اہل دیوبند کو اکھٹا ہوکر دیوبند کا وہ پیغام دینا چاہیے، جو دیوبند کا اصلی پیغام ہے، یعنی علم، دعوت اور سیاست علی منہاج النبوت کا مرقع ایک ایسی تحریک، جس کی بنیادیں علم اور تصوف یعنی خداشناسی سے گوندھی ہوئی ہیں. مخلوق خدا کی بےلوث خدمت، بندگان خدا کی مدد، اسلام اور اہل اسلام کی عظمت، پاکستان کے ساتھ انمٹ تعلق سے معطر وہ فکر، جو وقت آنے پر وطن کے لیے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے.

اس اجتماع سے ملک و دین کے سلگتے مسائل جیسے دہشت گردی اور الحاد کے متعلق بھی جامع فکر بطور نشرمکرر آنی چاہیے.
ملک کے مسائل کو اسلام کی روشنی میں حل کرنے اور اس کے لیے عالمی سطح پر مسلمان علماء، مقننین اور اہل علم کی صورت میں ایک تھنک ٹینک کا قیام اس دور کی ایک اہم ضرورت ہے. کیا اچھا ہوگا کہ ہند و پاک اور دوسرے ممالک سے آئے علمائے کرام اس بارے میں اپنی سنجیدہ کوشش کریں.

اس سے بھی بڑھ کر کیا ہی خوب ہوگا کہ یہ اجتماع صرف اہل دیوبند ہی نہیں، تمام مسالک کے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لے آئے.!
کیا ہی خوب ہوگا کہ اس اجتماع کے موقع پر ایم ایم اے کے احیاء کا فیصلہ ہو اور اسلام پسند دوبارہ ایک پیج پر جمع ہوں.
امید ہے منتظمین ذکر کا اہتمام کر رہے ہوں گے اور جس طرح ہمارے تبلیغی اجماعات کے لیے باقاعدہ جماعتیں متعین کرکے ذکر کرایا جاتا ہے، اس کا خیال رکھا گیا ہوگا.
اتنا ہی نہیں دل کرتا ہے کہ گھروں کے اندر مائیں بہنیں بھی اس کی فکر کریں اور روزے رکھ کر اللہ کریم سے عافیت اور کامیابی کی دعائیں کریں.
متعلقہ حضرات سے بھی گذارش ہے کہ ذاتیات کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام ناراض کارکنان اور دھڑوں کو لانے کی کوشش کریں.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.