اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (4) – اسری غوری

اماں بی کے داخل ہوتے ہی سارے بیٹے کھڑے ہوگئے تھے یہی احترام راشدہ بیگم کی تربیت کا خاصہ تھا بڑے ابا نے آگے بڑھ کر اماں بی کا ہاتھ تھاما اور انہیں سامنے درمیان والے صوفے پر بٹھایا اور خود انکے ساتھ بیٹھ گئے شازل بھیا اب بھی اماں سے چپکے ہوئے تھے شانی اندر ہی اندر غصہ اور پریشانی میں گھلی جا رہی تھی ۔ چند ساعتیں خاموشی میں گزریں ۔
اور بالاخر اماں بی نے اس سکوت کو توڑا ۔۔۔
“آپ سب کو پتا ہے آج ہمارے گھر کی پہلی خوشی ہے حمنہ بیٹی کا نکاح ہے اور اس خوشی میں اب شازل میاں
مزید اضافے پر بضد ہیں آپ سب کی رائے اس اضافے کے لئے درکار ہے ۔۔۔”
سعادت حسین سمیت سب ہی اماں بی کی اس پہیلی پر حیران سے تھے
پھر اماں بی نے بولنا شروع کیا اور جوں جوں جوں وہ بولتی جارہیں تھیں شازینہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جارہی تھیں سخت سردی کے موسم میں بھی اسکے ماتھے پر چمکتے ستارے اس کی اندرونی کیفیت کا پتا دے رہے تھے ۔
“شازل میاں شازینہ کیساتھ اپنا رشتہ طے کرنے پر بضد ہیں آپ سب دیکھ لیں شازینہ بیٹیا سے بھی پوچھ لیں اگر کسی کو اعتراض نہیں تو منگنی کے تو ہم حق میں نہیں ہاں نکاح کیا جاسکتا ہے حمنہ کیساتھ ہی ۔”
آخری جملے پرتو گویا شازینہ کی روح کسی نے کھینچ لی ہو اس کی آنکھیں خوف اور پریشانی سے مزید باہر آ چکیں تھیں ۔
اسے اماں بی پر حیرانگی تھی کہ وہ جانتی بھی تھیں کہ اس سے دس سال بڑا شازل اور شازینہ میں کبھی کوئی ذہنی ہم آہنگی نہیں رہی تھی شازل ہمیشہ اسے ہر جگہ اسکی ہر عادت پر ہی باتیں سناتا اور اسے تنگ کرتا تھا ۔
شازینہ کی طرح ڈرائنگ میں موجود ہر فرد کے لئے ہی یہ بات ایک دھماکے سے کم نا تھی ۔
اماں بی کی بات مکمل ہونے کے بعد وہی خاموشی اک دم پھر سے چھاگئی جسے پھر بڑے ابا نے توڑا ۔
” بھئی ایسی بھی کیاقیامت مچی ہے کہ ابھی بچی پڑھ رہی ہے اور شازل میاں بھی کہیں بھاگے نہیں جارہے پھر ایسے آندھی طوفان کی طرح فیصلے نہیں ہوتے یہ زندگیوں کا معاملہ ہے باقی آپ سب سوچ لیں اور سب سے پہلے شازینہ بیٹیا سے پوچھیں کہ اسے تو کوئی اعتراض نہیں اس کے بعد ہی کوئی بات آگے سوچی جاسکتی ”
بڑے ابا نے شازینہ کی کیفیت بھانپ کر اسے بچانے کی پوری کوشش کی تھی ۔
فرحت تایا نے اپنے اکلوتے شازل کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھاتو اک دم بولے ” بھئی گھر ہی کی تو بات ہے شازل میاں سب کے دیکھے بھالے ہیں اپ سب بھی یہیں موجود ہیں پھرجو فیصلہ بعد میں کرنا وہ ابھی بھی کیا جاسکتا ہے ۔
سعادت حسین آپ بتائیں کیا آپ کو اس رشتے پر کوئی اعتراض ہے اگر نہین ہے تو پھر دیر کیوں کی جائے جو کام کل ہونا وہ آج ہی کیوں نا ہوجائے ۔۔۔ اماں بی نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی
سعادت حسین نے جو بڑی دیر سے سوچ میں گم تھے اچانک اماں بی کے یوں حملے کے لئے تیار نا تھے اک دم شازینہ کودیکھا جس کا چہرہ اسکی ساری کہانی سنا رہا تھا پھر بھی انہوں نے شازینہ سے پوچھا
“شازینہ آپ بتائیے بیٹا کیا آپ کو یہ رشتہ منظور ہے ؟
شازینہ کے جو آنسو باہر نہیں نکل پارہے تھے وہ حلق میں گولہ بن کر پھنس رہے تھےاس نے بمشکل آواز نکالی اور اتنا ہی کہہ پائی “میری پڑھائی میں نے ڈاکٹر بننا ہے بابا مجھے بہت آگے جانا ہے ۔۔۔!”
مگر دل ہی دل میں گھر کے ہر فرد سے شکوہ کررہی تھی ” کیا کسی کو نہیں پتا شازل بھیا مجھے ہمیشہ تنگ کرتے کبھی ہمارا مزاج نہیں ملا ہماری کوئی سوچ کوئی خیال بھی تو ایک سا نہیں ہے ۔۔۔۔
شازل اس کی بات سن کر اماں بی کے کان میں گھسا ہوا کچھ کھسر پھسر کرتا شازینہ کو زہر لگ رہاتھا ۔
اماں بی نے اس کی بات پر کہا ” تو کیا ہم نے کوئی پڑھائی تھوڑا ہی رکوانی ہے پڑھتی رہے گی نکاح ابھی کرلیتے بس رخصتی جب یہ چاہے گی تب ہی ہوگی”
ساتھ ہی اماں بی نے اسے جانے کا کہہ دیا
وہ تھکے ہوئے قدموں سے اٹھی اور اب اسکےدل سےکچھ دیر پہلے والی ساری خوشی ختم ہوچکی تھی وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
” یہ شازل بھیا ہمیشہ سے میری خوشیوں کو خراب کرتے آئے ہیں انکو مجھے رلا کے ہمیشہ مزہ آتا ہے ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا فیصلہ ہوگا اگر کہیں ۔۔۔۔ اس سے آگے وہ نہیں سوچ پائی اسکا دل ہول رہا تھا سب باہر تھے اسے اچانک سارہ پر غصہ آنے لگا اسے بھی ابھی جانا تھا ماموں کے گھر آج نا جاتی کیا قیامت آجاتی ۔۔ وہ ہوتی تو شاید کچھ کرسکتی ۔۔
شازینہ اپنے کمرے میں ٹہلتی خوفزدہ سی بس سوچے چلی جارہی تھی
شازینہ شازینہ بی بی آپ کو اماں بی باہر بلا رہی ۔۔۔ زرینہ کی آواز نے اسی سوچوں کا تسلسل توڑ دیا۔۔
” کیوں زرینہ کیوں بلارہی ہیں ؟؟
اس نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا ۔۔
ارے وہ آپ کا بھی تو نکاح ہو رہا نا شازل میاں کیساتھ ۔۔
وہ بیڈ سے اٹھتے اٹھتے پھر سے بیٹھ گئی ” کیا ؟؟
کس نے کہا تم سے یہ ؟؟؟
میں نے خود سنا جی سب مبارک باد دے رہے تھے وہاں باہر ۔۔۔ آپ جلدی چلو جی ہمیں اور بھی بہت سارے کام ہیں ۔۔
شازینہ کو لگ رہا تھا اس کے جسم میں کوئی جان نہیں رہی ۔۔۔۔
وہ مردہ قدموں سے چلتی ہوئی لان کی جانب بڑھی تو سامنے ہی اسٹیج پر ایک اور صوفہ رکھوایا جارہا تھا اسے دیکھ کر سعدیہ تائی اسکی جانب آئیں اور پیار سے اسکی بلائیں لینے لگیں ۔۔ میرے شازل کی پسند کوئی عام نہیں ہوسکتی اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ اسٹیج کی جانب بڑھیں ۔۔۔
سامنے اسٹیج پر بیٹھی حمنہ کے چہرے کی مسکراہٹ اور چمک اور شازینہ کا اترا ہوچہرہ الگ الگ داستاں سنا رہا تھا۔۔۔مگر سننے والا کوئی نہیں تھا
بڑے ابا نکاح نامہ ساتھ لائے ۔۔۔۔” شازینہ بنت سعادت حسین آپکا نکاح ہم نے بعوض پانچ لاکھ روپے شازل حسین ولد فرحت حسین طے کیا ۔۔ کیا آپ نے قبول کیا ؟؟ ”
شازینہ ایک بت کی مانند خاموش تھی کوئی آہٹ تک نہیں ۔۔۔
بڑے ابا نے شازینہ کے ساتھ بیٹھی اماں بی کی جانب دیکھا اماں بی نے فورا ہی شازینہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے ہاں میں جھکا دیا ۔۔۔۔۔
بڑے ابا نے نکاح نامہ سامنے رکھا اور قلم ہاتھ میں تھمادیا شازینہ کو ہر چیز دھندلائی ہوئی نظر آرہی تھی قلم تھاما ہاتھ کانپ رہا تھا ۔۔ اسے اس بات کا ادراک تھا کہ وہ کس پر دستخط کرنے جارہی ہے ۔۔۔اس کی آنکھ سے بے بسی کا آنسو ٹپکا اور نکاح نامے پر ثبت ہوگیا ۔۔
اس نے بہ مشکل کانپتے ہاتھوں سےدستخط کیے ۔۔۔
باہر ہر جانب مبارک باد کا شور تھا ۔۔۔ شور تو اندر بھی مچا ہوا تھا شازینہ کے دل میں ۔۔۔ مگر اس شور کو سننے والی بس وہ اکیلی تنہا ہی تھی ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں شازل اور حمنہ کےدلہا کو بھی سٹیج پر لاکر بٹھایا گیا ۔۔۔ شازل کی آنکھوں میں وہی مخصوص شرارت عیاں تھی اس نے بیٹھتے ہی شازینہ کے کان کے قریب جا کر کہا
” پھر دیکھ لیا نا بٹھا دیا نا اسٹیج پر بڑا شوق تھا نا دلہن بننےکاشازینہ شازل صاحبہ ”
شازینہ کا جی چاہا ان کا منہ نوچ لے اور سب کچھ اتار پھینکے ۔۔۔۔ مگر وہ جانتی تھی وہ یہ سب بس سوچ ہی سکتی تھی وہ جس معاشرے کا حصہ تھی وہاں ایسے ہی نجانے کتنی بیٹیاں اپنے خوابوں سمیت بیٹوں کی پسند پر بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں
کب سارا ہنگامہ ختم ہوا کب مہمان گئے شازینہ کو کچھ پتا نہیں تھا وہ جیسے سکتے کی کیفیت میں تھی اسی کیفیت میں اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی اللہ سے شکوہ کررہی تھی ۔۔۔۔
” آپ کو تو سب علم تھا نا پھر بھی آپ نے یہ سب ہونے دیا ”
“آپ تو روک سکتے تھے نا ۔۔۔ آپ تو جانتے تھے ناکہ مجھے ابھی کتنا آگے جانا ہے “۔۔
وہ ہتھیلوں میں منہ چھپا کہ رودی تھی۔۔۔
اوہو ۔۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کیا جارہا ہے ۔۔۔کرنا بھی چاہیے جناب ۔۔ مابدولت جیسا ہنڈسم شوہر کسی کو بن مانگے مل جائے ۔۔۔۔ وہ خوش نصیب ہی ہوگا کوئی ۔۔۔
اچانک اسے دروازہ کھلنے اور پھرساتھ شازل کی آواز نے اسے جھنجھوڑ دیا اسے نے اک دم اپنے آنسو صاف کئے اور غصہ سے شازل کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
” آپ میرے کمرے میں بغیر اجازت کیوں آئے ہیں شازل بھ۔۔۔ی۔۔۔ بس بس آگے نہیں بولنا بھائی ابھی تو نکاح کو چند گھنٹے ہوئے ہیں شازل نے اسکے بھیا بولنے سے پہلے ہی ڈرامائی انداز میں روک دیا ۔۔۔۔
وہ بھی سٹپٹاگئی ۔۔
اب وہ بھیا نہیں بول سکتی ۔۔
وہ اک دم چپ سی ہوگئی ۔۔۔
شازل نے ایک گفٹ پیک اس کی جانب بڑھایا ۔۔۔
” لیجیے بیگم شازل صاحبہ یہ آپ کے لئے مابدولت خود لائے ہیں ۔۔۔۔ آپکو شازل حسین کی بیگم بننا مبارک ہو ۔۔۔
شازل نے اس کے سامنے جھکتے ہوئے وہ پیک اسے دیا ۔۔۔ جس پر اسکی ہنسی نکل گئی ۔۔اس نے وہ پیک شازل کے ہاتھ سے لیا اور رکھنے لگی تھی کہ اک دم شازل نے روکا:
” رکو رکو ایسے نہیں محترمہ اتنے مہنگے تحفہ کے بدلے شوہر نامدار کو ایک تصویر بنانے کا تو حق دینا چاہیے نا “۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے ۔۔ شازل نے اپنا سیل نکالا اور وہ اسکی کئی تصویریں بنا چکا تھا ۔۔۔” اچھا میڈم جائیں پھر سے اپنے اللہ سے سجدوں میں شکر ادا کریں ہم زرا آپکی تصویروں پر گزارا کرتے ہیں اور پھر کل ملتے ہیں ۔۔۔
شازینہ اس کی بات سن کر اک دم دوسری جانب مڑ گئی شازل بھی جاچکا تھا ۔۔۔
اتنی تھوڑے سے وقت میں شازل کے لئے شازینہ کے دل میں عجیب سے احساسات بیدار ہونے لگے تھے ۔۔
اسکے بولے ہوئے الفاظ وہ بے دھیانی میں دہرا رہی تھی ۔۔۔ ” بیگم شازل ” شوہر نامدار ” نکاح میں آجانے سے کیا ایسے ہی احساسات ہوتے ہیں سب کے ۔۔ وہ اچانک ایسے بدلتے احساسات پر مختلف کیفیات سے دوچار ہورہی تھی۔۔۔
دروازہ بجنے کی آواز پر چونکی ۔۔۔
بابا آئیے۔۔!!
بابا بھی اسکی کچھ کیفیات جان چکے تھے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے
” شازینہ بیٹا زندگی میں بہت کچھ ایسا بھی ہوجاتا جو ہم نے کبھی سوچا نہیں ہوتا اور یہ سب اتنا آنا فانا ہوتا کہ وقت ہمیں سنبھلنے کا بھی موقع نہیں دیتا ۔۔۔ ایسے میں اس فیصلے کو رب کی رضا جان کر قبول کرنے میں ہی ہمارا سکون پوشیدہ ہوتا اور کہیں ہم سے کے مخالف سوچنے لگ جائیں تو پھر ہم کبھی اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتے ۔۔ شازینہ خاموشی سے بابا کی بات سنتی رہی ۔۔۔
بابا کچھ دیر بیٹھے سمجھاتے رہے اور پھر اس کی نئی زندگی کی دعائیں دے کر چلے گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازینہ شازینہ شازینہ ۔۔۔۔۔۔۔ شازل باہر سے اسے پکارتا ہوا لاونج میں داخل ہوا ۔۔ وہ ابھی کالج سے آئی ہی تھی ۔۔
جی ” اس نے جواب دیا ۔۔۔
اٹھو تیار ہوجاؤ ۔۔ شازل نے حکم دیا
مگر کہا ں ؟؟
اک تو تم سوال جواب بہت کرتی ہو ۔۔ اٹھو تو سہی نا ۔۔۔
مگر وہ اماں بی کو ۔۔
میں بتا چکا ہوں انکو صبح ہی کہ تمہیں ساتھ لیکر جاونگا ۔۔
اچھا چادر لاتی ہوں ۔۔
ایک تو یہ تمہاری چادر کیا تم ماسیوں کی طرح لیپٹے رہتی ہو ۔۔ شازل ہمیشہ سے ہی اسکی چادر لینے اور ایسی ہی کئی عادتوں سے ایسے ہی چڑتا تھا اور یہی سوچ شازینہ کو خوفزدہ کرتی تھی ۔۔۔
وہ اندر سے چادر اوڑھ کر آئی ۔۔۔ تو وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا
شازینہ جھجھکتے ہوئے اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی۔۔۔ وہ بچپن سے ہی شازل کیساتھ بیٹھتی آرہی تھی مگر آج کسی اور رشتے سے بیٹھنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔
شازل نےاس کے بیٹھتے ہی ڈیک آن کیا ۔۔۔ گانے کے بول بہت واہیات سے تھے اس نے بند کردیا ۔۔۔
شازل نے نا گواری سے اسے دیکھا مگر کچھ کہا نہیں ۔۔۔ کچھ ہی دور آگے جا کر اس نے فینسی پالر کے سامنے جا کر گاڑی روک دی ۔۔ شازینہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا ۔۔ اسے تو پالر نہیں آنا تھا ۔۔
شازل بولا : جاؤ اور جا کر اپنی یہ سانپ جیسی بل کھاتی چٹیا کا سایز اکم کروا کر آؤ مجھے شولڈر کٹ بال پسند ہیں ۔۔
شازینہ پر جیسے کسی نے بم گرا دیا ہو ۔۔۔ اس نے اک دم اپنی گھنے بالوں سے گندھی چوٹی کو ہاتھ میں پکڑا اور بولی “: نہیں میں نہیں کٹنگ کرواؤنگی میں نے تو برسوں سے نہیں کٹوائے اس کی آواز گلے میں ہی رندھ گئی ۔۔۔
مگر شازل تو ہمیشہ کا ضدی ۔۔
جاؤ جا کر جو کہا وہ کرو مجھے نہیں پسند یہ ۔۔۔ اور اب تم نے وہی سب کرنا جو مجھے پسند ہے ۔۔ آئی سمجھ ۔۔
شازینہ کو جس بات کا خوف تھا وہی ہورہی تھی ۔۔۔
جاؤ بھی اب یہاں تماشہ بناوگی میرا ۔۔ شازل نے غصہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔
شازینہ شروع سے ہی غصہ والے لہجوں سے خوف کھاتی تھی وہ سہم جاتی تھی اب بھی یہی ہوا تھا وہ اک دم شازل کے غصہ سے خوفزدہ ہوکر گاڑی سے اتری اور پالر میں چلی گئی ۔۔
جی میڈم آپ نے فیشل لینا یا مینی پیڈی یا کٹنگ ۔۔۔ ؟ رسپشن پر بیٹھی لڑکی نے اسکے داخل ہوتے ہی کہا
” کٹنگ ” اس نے بمشکل ایک جملہ کہا ۔۔۔
کیا کٹنگ ؟؟ اتنے پیارے بال ہیں آپ کے تو لوگ یہاں ہم سے بال لمبے کرنے کے طریقے پوچھ پوچھ کر تھکتے ۔۔
ٹھیک کہتے بھئی جس کے پاس جو چیز ہو اسے اسکی قدر ہی نہیں ہوتی ۔۔۔ وہیں ساتھ بیٹھی ایک آنٹی نے اسکی کلاس لے ڈالی ۔۔۔
آپ اندر چلی جائیں میڈم
اس کے کندھوں پر ایپرن ڈالے وہ لڑکی پوچھ رہی تھی ” کونسی کٹنگ کروانی ”
کوئی بھی کردیں
شازینہ اب تک اسی دکھ میں تھی ۔۔
آپ کے بالوں کی تو بہت اچھی کٹنگ ہو سکتی اچھا میں اسٹیپ کٹنگ کردیتی ہوں ۔۔۔ اس لڑکی نے خود ہی مسلے کا حل نکال لیا ۔
جونہی قینچی نے شازینہ کے بالوں کو چھوا وہ اپنے آنسو نا روک پائی ۔۔۔
قینچی کی ہر ضرب اسے اپنے دل پر محسوس ہورہی تھی ۔۔۔
اماں بی بچپن سے ہر اتوار تیل لگا کر دو چٹیا بنادیتی تھیں اور ہمیشہ ہی اسے اپنے لمبے بالوں سے بہت محبت تھی وہ انکا بہت خیال رکھتی تھی ۔۔۔۔ مگر اک دن اسکے بال یوںکسی کی پسند نا پسند کے نذر ہوجائینگے یہ اسنے کبھی سوچا بھی نا تھا۔۔ ابھی تو اسے اور نجانے کیا کچھ نذرکرنا تھا ۔۔۔۔۔۔ شازینہ آنے والے وقت سے خوفزدہ تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Comments

FB Login Required

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

Protected by WP Anti Spam