کیا دو قومی نظریہ مر چکا ہے؟ آصف محمود

الہامی ہدایت سے بے نیازی اور عقل و دانش کی بنیاد پر معاملہ کرنا سیکولرازم کے بنیادی اوصاف میں سے تھا. تعجب ہے کہ الہامی ہدایت کے ساتھ ساتھ اب وہ عقل و دانش سے بھی بے نیاز ہوتا جا رہا ہے. دیکھیے غالب کی یاد نے بھی کہاں آن دستک دی:
مجھ سے کہا جو یار نے، جاتے ہیں ہوش کس طرح؟
دیکھ کے ’ان کی‘ بےخودی چلنے لگی ہوا کہ ’یوں‘

گذشتہ تحریر میں اس نکتے پر بات ہوئی کہ 11 اگست کی تقریر میں سیکولرازم کہاں سے برآمد فرما لیا گیا۔ آج احباب کے اس مطلع کو دیکھتے ہیں کہ صاحب دو قومی نظریہ مر چکا۔

تواتر کے ساتھ ارشاد ہو رہا ہے: جس روز پاکستان بنا اسی روز دو قومی نظریہ مرگیا. اس کے حق میں دلیل یہ ہے کہ اب پاکستان میں مسلمان اور غیر مسلم سب ایک قوم ہے، یعنی پاکستانی. اس لیے اب دو قومی نظریہ مر چکا۔ گویا صاحبوں نے اپنے تئیں یہ فیصلہ کر ڈالا کہ اگر پاکستان میں رہنے والا ہندو پاکستانی ہے تو گویا یہ دو قومی نظریے کی موت کا اعلان ہے۔

کسی لمبی چوڑی بحث میں جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ میثاق مدینہ پر ایک نظر ڈال لیجیے کہ وہاں یہودیوں کے ساتھ جب اسلامی ریاست میں ایک معاہدہ ہوا تو کیا الفاظ استعمال کیے گئے ۔میثاق مدینہ وہ معاہدہ تھا جو رسالت مآب ﷺ نے مدینہ کی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے یہودی قبائل کے ساتھ کیا۔ اس معاہدے میں لکھا گیا کہ تمام تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوگی۔ اور بنی عوف کے یہود سیاسی حیثیت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک امت تسلیم کیے جائیں گے۔ رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور ان کے موالی اپنے دین پر۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریاتی فتح - ڈاکٹر صفدر محمود

اب یہ بتائیے کہ سیاسی انداز میں جب بنی عوف کے یہودیوں کو مسلمانوں کے ساتھ امت تسلیم کیا گیا تو کیا وہاں دو قومی نظریہ ختم ہو گیا؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب یہود اور مسلمان سیاسی طور پر ایک امت ہو گئے تو اب وہ دو الگ شناختوں پر اصرار نہیں کر سکتے؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ ساتھ ہی اس معاہدے میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی کہ رہا دین کا معاملہ تو یہود اپنے دین پر اور مسلمان اپنے دین پر۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اب جب یہود اور مسلمان سیاسی اعتبار سے ایک امت بن گئے تو اب سیاسی فیصلہ سازی میں فیصلہ کن حیثیت میں مذہب کا کوئی کردار نہیں رہا۔ یہ کردار موجود رہا اور سیاسی طور پر ایک امت ہو جانے کے باوجود فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول کی رہی۔

یہی کام پاکستان میں ہوا۔ قائد اعظم نے کہا: ’آپ دیکھیں گے کہ عنقریب یہاں نہ ہندو ہندو رہیں گے اور نہ مسلمان مسلمان۔ دین کے اعتبار سے نہیں، اس لیے کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی مفہوم میں، ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے‘‘۔ میثاق مدینہ میں فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول کو تھی، یہاں ہمارے دستور پاکستان میں بھی یہی بات کر دی گئی ہے کہ فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول کی ہو گی۔

سیکولر حضرات کیا چاہتے ہیں؟ ان کی واردات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہہ کر کہ اب دو قومی نظریہ مر چکا، اصل میں آئین پاکستان کی اساس پر حملہ آور ہوناچاہتے ہیں کہ جب دو قومی نظریہ مر گیا اور ہم سب ایک قوم ہیں تو دستور میں قرآن وسنت کی بات کیوں کی گئی ہے۔ اس شناخت کو بدل دیا جائے اور قوم کی کسی اکائی کے مذہب کو ریاست اختیار نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریاتی فتح - ڈاکٹر صفدر محمود

غور فرمائیے یہ بات نہ میثاق مدینہ میں مانی گئی جہاں یہود اور مسلمان سیاسی طور پرامت تھے اور نہ دستور پاکستان میں۔ میثاق مدینہ اور قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کی طرح ہمارا دستور بھی کہتا ہے کہ سب شہری سیاسی طور پر ایک قوم ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ریاست کا مذہب اسلام ہوگا۔ سیکولر حضرات کی واردات یہ ہے کہ ریاست کی اس مذہبی شناخت کو کسی طریقے ختم کیا جائے۔

ہم سب پاکستانی ہیں اور برابر ہیں۔ لیکن ریاست کا مذہب اسلام ہے۔ اب چونکہ ریاست کا مذہب اسلام ہے تو سربراہ ریاست اور سربراہ حکومت مسلمان ہوگا۔ باقی یہاں میدان سب کے لیے کھلا ہے۔ یہاں بھگوان داس ہمارے سپریم کورٹ کے جج رہے اور ان کی آج بھی عزت ہے لیکن قانون وہی تھا جو مسلمانوں کے نظم اجتماعی نے طے کیا۔ یہاں سیسل چودھری ہمارے ہیرو ہیں اور جسٹس کارنیلیس کا تو نام ہی لیا جائے تو قانون کے طلبہ احترام سے سر جھکا لیتے ہیں۔

سماج میں معاملہ کرنے کی دو صورتیں ہوا کرتی ہیں۔
اول: اللہ اور اللہ کے رسول کوفیصلہ ساز مان لیا جائے اور وہی کیا جائے جو وہ کہتے ہیں۔ یہ مذہبی اندازکہلائے گا۔
دوم: سماج خود فیصلہ کر لے کہ اس نے کس اصولوں کے تحت رہنا ہے۔ یہ سیکولر انداز کہلائے گا۔

ہمارے سیکولر حضرات الہامی رہنمائی کو تو مانتے نہیں اور وہ خدا اور اس کے رسول کے فیصلوں کو اجتماعی زندگی میں حتمی تسلیم کرنے میں متامل ہیں۔ اس صورت میں انہیں سماج کے اجتماعی فیصلے کو ماننا چاہیے۔ یہ عہد اجتماعی ہمارا آئین ہے۔ ہمارے انوکھے لاڈلے نہ الہام کا مانتے ہیں نہ جمہوری اصولوں کے تحت بنائے گئے دستور کو۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.