انسان غلط بیانی کیوں کرتا ہے؟ حنا تحسین طالب

جھوٹ، غلط بیانی، دھوکہ دہی، ان برے خصائل کی قباحتوں کو جاننے کے باوجود، آخر انسان غلط بیانی کیوں کرتا ہے؟

وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے، سچ بول کر جو متوقع وقتی نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے خود کو بچانے کے لیے.دراصل اس کے پیچھے عجلت پسندی، اور بزدلی کی نفسیات ہوتی ہے کہ بس ابھی کسی طرح بچت ہو جائے، نقصان نہ اٹھانا پڑے. کالج دیر سے پہنچنے پر ایک نوجوان جھوٹا عذر پیش کرتا ہے کہ ڈانٹ سے بچ جائے. ایک تاجر اپنے مال کا عیب چھپا لیتا ہے تاکہ اسے فروخت کر سکے. دفتر سے غیر حاضری پر ایک شخص باس کے سامنے بیماری کا جھوٹا عذر پیش کرتا ہے تاکہ نوکری خطرے میں نہ پڑے. یعنی فوری نقصان سے بچنے اور اپنے کام کی درستگی کے لیے انسان جھوٹ جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کرتا ہے.

یہ ایک غلط تصور ہے کہ جھوٹ بول کر اپنے بگڑتے کاموں کو درست کیا جا سکتا ہے. جھوٹ تو انسان کو گمراه کر کے کام سنوارنے کے بجائے بگاڑ دیتا ہے. کاموں کو درست کرنے کا طریقہ وہی ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے اور وہ ہے’’قول سدید‘‘ یعنی سچی، سیدھی اور صاف بات، جس میں کوئی ابہام نہ ہو، جو ذو معنی نہ ہو، کہ اس میں سے دوسرا مطلب بھی نکالا جا سکتا ہو. سچ اور جھوٹ کو بالکل الگ کر کے، کسی قسم کی پیچیدگی اور ہیر پھیر کے بغیر انتہائی وضاحت کے ساتھ بتائی گئی بات. جس کو اس انداز میں پہنچایا جائے کہ سننے والے کو جیسی اور جتنی حقیقت ہے اتنی ہی سمجھ میں آئے، یعنی افراط و تفریط سے پاک بات جس پر ملمع سازی نہ کی گئی ہو. آدھی ادھوری حقیقت نہیں مکمل حقیقت.

’’سدید‘‘، تسدید السہم سے ہے، یعنی جس طرح تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے تاکہ ٹھیک نشانے پر لگے، اسی طرح پوری کوشش اور مکمل شعور و احتیاط کے ساتھ سچ پہنچانا.
صحابہ کرام اس قدر احتیاط فرماتے کہ دو صحابہ کو ایک شخص کی شراب نوشی کے خلاف گواہی دینا تھی، تو ایک صحابی نے دوسرے صحابی کی بابت فرمایا کہ انھوں نے بھی شراب پیتے دیکھا ہے تو مذکورہ صحابی نے فورا تصحیح کی کہ میں نے انھیں پیتے ہوئے نہیں دیکھا، صرف قے کرتے ہوئے دیکھا ہے.

قول سدید کو آسان کرنے والی چیز ’’تقوی‘‘ یعنی اللہ کا شعوری احساس ہے، جوابدہی کا احساس، اسی لیے اللہ نے قول سدید سے قبل تقوی کی بات کی. قول سدید کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالی سورہ الاحزاب میں فرماتے ہیں کہ ’’اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تعالی تمھارے کام سنوار دے.. (70-71)‘‘
یعنی کام کی درستگی سچائی سے وابستہ ہے، کیونکہ انسان جب سچ بولتا ہے خواہ وہ سچ اس کے خلاف جاتا ہو تو ممکن ہے کہ وقتی اور معمولی نقصان اٹھانا پڑ جائے مگر دوسرا شخص مرعوب و متاثر ہو کر بھروسہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس شخص سے غلطی ہوگئی مگر یہ انسان غلط نہیں ہے. ایسا شخص دوسروں کے دل میں خاص مقام اور اعتبار قائم کر لیتا ہے، بلکہ سچ کی برکت سے وہ کام بھی سنور جاتے ہیں جن کے بگڑنے کے خوف میں انسان جھوٹ بولتا ہے. جھوٹ بولنا آسان لگتا ہے مگر اس کے بعد کئی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں جبکہ سچ بول کر مشکل میں پڑنا اپنی بزدلی کی وجہ سے مشکل لگتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں بے شمار آسانیاں اور برکات ملتی ہیں.

ایک شخص مختلف قسم کے گناہوں میں ملوث تھا جن میں کئی بڑے گناہ بھی تھے، وہ صرف ایک گناہ چھوڑنے پر راضی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے بڑے گناہوں کے ہوتے ہوئے، اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کی. اب وہ جب گناہ کا ارادہ کرتا تو ساتھ ہی جوابدہی کی فکر ہوتی کہ جھوٹ بول کر بچ بھی نہیں سکتا، لہذا نتیجتا آہستہ آہستہ وہ تمام گناہوں سے تائب ہوگیا.

قول سدید کے نتیجے میں، اصلاح اعمال اور برکات کی کئی ناقابل تردید مثالیں موجود ہیں، مگر یاد رہے کہ سچ کا مطلب لوگوں کا دل دکھانا نہیں، نہ ہی تلخ لہجہ و بدکلامی قول سدید ہے، اور نہ ہی صاف گوئی کے نام پر بد تمیزی، دوسروں کی بےعزتی اور دوسرے کی زندگی میں فساد پھیلانا سچ ہے.

نوٹ: اصلاح کے لیے، لوگوں کے خیر کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے، ایسا جھوٹ جو اصلاح اور کسی کو نقصان سے بچانے کے لیے ہو، نہ کہ کسی کو نقصان پہنچانے اور فساد پھیلانے کے لیے.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.