انسان، نسیان اور ایاز نظامی - سائرہ ممتاز

انسان میں دو تہائی نسیان ہے. اس لیے یہ بھول بڑی جلدی جاتا ہے، بھلا دیتا ہے، کسی احسان کا گھٹڑ ہو یا پیار کی گھٹڑی، پھر کوئی وعدہ وفا ہو یا زہر جفا ہو، اس حضرت انسان کا کوئی کچھ. نہیں بگاڑ سکتا.

اب یہی دیکھیں، روز ازل جو وعدے قسمیں قول و قرار کوڈز میں ڈھال کر اس کی جینز کے اندر رکھ دیے گئے تھے، وہ بھی بھول چکا ہے. وہی جینز جسے خود اس نے سائنسی ترقی کے ضمن میں کھوجا، جانا اور پھر پرکھا، البتہ یہ بھلا دیا کہ جو مانگو گے دیا جائے گا. خیر مانگو گے، ملے گا، شر چاہو گے تو اپنی ذمہ داری پر لیتے پھرو، کچھ نہیں کہا جائے گا، کوئی وعدہ یاد نہیں دلایا جائےگا، سجدے مانگے جائیں گے نہ کوئی تقاضا کیا جائے گا، بس ایک ہی بار تمھاری فطرت میں بھر کر بھیج دیا. پھر بھیجے جاتے رہے، بھیجے جاتے رہے، یہاں تک کہ ایک لاکھ 23 ہزار 9 سو ننانوے بھیج دیے گئے، پھر ایک آخری بھیجا، پکی مہر لگا کر بھیجا، بتا کر بھیجا کہ اب کوئی اور نہیں آئے گا لہذا جو یہ بتائیں اسے لے لو، یاد کر لو، اچھی طرح ذہن نشین کر لو.

دیکھو انسان! نسیان میں نہ پڑ جانا، الٹے پاؤں نہ مڑ جانا، ذلالت مت خرید لینا، گمراہی مت اوڑھ لینا، دیکھو یہ آخری ہے، اور محبوب بھی ہے، اس کی اطاعت کرو گے، بدلے میں ساری کائنات ملے گی، اسے مانو گے، محبت کرو گے تو یہ ارض و سما، کون و مکاں، عرش معلی، نور، تجلی، لوح و قلم، تخت و کرسی، نوری و قدوسی، حجر و شجر، نور و بشر، چرند و پرند، بحر و بر، سماعت و بصر، خورشید و قمر، سب تمہارے ہوں گے، افلاک کی وسعتیں ناپو، پھر چاہے پاتال کے پتے جھانکو، ہر اختیار تمہاری پہنچ میں دے دیا جائے گا. صرف ایک شرط ہے جو یہ کہے اسے مان لو، اسے مان لو، اس کی مان لو، اس کائنات کے ازل و ابد کا خالق تم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ تمہارا ہو جائے گا اور اس کی ہر مخلوق تمہاری تابع ہو جائے گی.

وہ کھول کھول کر بتاتا رہا
’’اور کسی ایمان والے مرد یا ایمان والی عورت کی یہ شان نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کا حکم دیں تو انھیں اپنے معاملے میں کچھ اختیار ہو. (الاحزاب 32)‘‘
اس نے بتایا..
’’اللہ کی فرماں برداری کرو اور رسول کے حکم پر چلو، اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو اس کے ذمے ہے، اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا ہے) جو تمہارے ذمے ہے، اور اگر تم اس کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پا لو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام الہی کا) پہنچانا ہے. (النور 54)‘‘

یہ بھی پڑھیں:   رب قریب تر ہے - سعدیہ نعمان

پھر کیا اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا؟ وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے، جو اس کے بن گئے، انھیں اور جو اس پر ایمان لائے، اس کے محبوب پر ایمان نہ لائے لیکن اس کے محبوب کی تکریم کرتے رہے، ان کے دیے علم سے جستجو کرتے رہے، اللہ نے ایسے لوگوں کو کیا کیا نہیں دیا؟

مڑ کر دیکھیے، چھان پھٹک لیجیے، ریاضیات سے لے کر ریاضت تک، فلکیات سے لے کر موسیقی اور منجم تک، خشک سے لے کر تر تک، بحر سے لے کر بر تک، کون و مکاں کا کون سا علم اور فن ہوا جس تک انھیں رسائی نہ دی گئی، بلکہ کچھ بےلگاموں کو خدائی کے دعوؤں کے باوجود چھوٹ دیتے رہے، شاید کہ نسیان سے بھرا انسان یاد کر بیٹھے وہ وعدہ جو ازل کے دن کیا تھا، کہ تو ہمارا رب ہے، اور رب کون ہوتا ہے بھلا؟ وہ جو وہ بھی جانتا ہے جو تم نہیں جانتے، وہ جو ازل سے پہلے تھا ابد کے بعد بھی رہےگا، وہ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، اس کے چاہنے سے ہی تمھارا ’ہونا‘ قرار پایا ہے، پھر بھی کہتے ہو ہم تجھے جان کر نہیں مانتے اور تیری مان کر بھی نہیں مانتے؟

ادب و شاعری، حکمت و کیمیا گری، فہامت و دانشوری، سامری و ساحری، صنم گری و آذری، نبوت و پیغمبری، طبیعیات و الٰہیات، ہیئت و ہندسہ، نجوم و نظریات، ارتما طبقی و آفاق، حروف و حساب، عنصر و زیجات، توقیت و تصرفات، عالم فلکی و عالم سفلی، اعداد و اوج، ہبوط و زوال، فرح و طرح، طول و بند، کواکب کے شرف و بیضائے بروج، کیا کیا اور کیسا کیسا علم و فن نہیں دیا اس رب نے؟ بابل و نینوا، روم و یونان، مدائن و کلدائن کے حسن و جمال اور فن و کمال کا ذکر تو اس کی کتاب مقدس میں بھی ہے، بابل و نینوا کے معلق باغات کے علمِ فن تعمیر پر آج بھی دنیا انگشت بدنداں ہے، مصر ایتھنز، فارس، قسطنطنیہ، عراق میں کیسے کیسے ماہرین علوم و فنون نے جنم نہیں لیا، کون تھے یہ اور کس نے انھیں ایسے محیر العقول اذہان دیے تھے؟ کون سا معقول و منقول ظاہری و باطنی علم تھا جس میں وہ یکتائے روزگار نہیں تھے؟ ہر کوئی اپنے اپنے مقام پر علامہ دہر تھا. شش جہت عالمین تک ان کی نظر تھی، بروج و سیاران ان کی نگاہ میں، ارض و سما کی گردشیں ان کے ہالہ و بازو میں، جابر بن حکام، بو علی سینا، محمد بن زکریا الرازی، ابن الہیشم، البیرونی، عمر خیام، سعدی و رومی، رازی و حافظ، عطار غزالی، کردی، ابن سینا، ابن رشد، فارابی، افلاطون، ارسطو، بقراط و سقراط، کنفیوشیس، ہرقلیطاس، لیوطائی، پاسچر، کوبر یلکس، نطشے، گیلیلیو، البیرونی، عمر خیام، ڈیمقراطس، برنارڈشا، فرائیڈ، سردار، لیوٹالسٹائی، گوئٹے، مارکس، سمرسٹ ماہم، پکاسو، آسکر وائلڈ، ملٹن، رابندرناتھ ٹیگور، علامہ اقبال جن کے علوم و اصول، کلیے قاعدے، شاعری، فلسفے، نظریات، کردار، سب کچھ آپ کے سامنے ہے، ان میں دین دار بھی تھے اور دین سے بے زار بھی، پھر بھی اس نے نواز دیا اور بغیر حساب کتاب کے بےحد و حساب دیا. زمینوں، آسمانوں، سمندروں ستاروں، کہکشاؤں، پاتالوں پر دسترس دی، ہر وہ شے جو اس نے خلق کی اور جس کی جستجو اس نسیان بھرے انسان نے کی، اس رب العالمین نے ہر اس شے کو انسان کی دسترس میں پہنچا دیا. کئیوں کو مانگنے پر دیا اور ہزاروں لاکھوں کو بن مانگے عطا کیا، بدلے میں اس نے کیا چاہا؟ صرف اتنا کہ فرمایا کہ میں اللہ تمھیں جان سے، مال سے، اولاد سے، عورت سے، مال و زر سے، رزق سے، آزماؤں گا، بے شک جو صبر کریں گے، جو کہیں گے ہم راضی برضا ہیں، تسلیم کرتے ہیں، ان کو خوشخبری ہے، وہ میرے بندے اس کا اجر ضرور پائیں گے. پھر کتنوں نے یاد رکھا؟

یہ بھی پڑھیں:   میانمر کے مسئلے کا حل کیسے؟ سید معظم معین

اس قدر نعمتیں اتارنے والے رب نے اگر ایک بیٹا چھین لیا تو ایاز نظامی تم اتنی جلدی بھول گئے، یہ سب کچھ تمھیں بھی تو معلوم ہوگا، پڑھ رکھا ہوگا، مجھ سے زیادہ ہی جانتے ہوگے؟ ایک صرف ایک بیٹے کے جانے پر صبر کرتے تو وہ دس بیٹے دینے پر بھی قادر تھا، مگر تم سے کیا شکوہ؟ وہ نمرود، شداد، تو دور کی بات سہی، ابھی ماضی قریب میں بھی ایک گزرا ہے، اس کے بھی دماغ میں خلل اترا اور وہ بھول گیا. کاش وہ کوئی اور دعوی کرتا تو شاید چھوٹ جاتا، پھر بھی اس کو پلٹنا نصیب ہو جاتا، لیکن اس نے دعوی ہی بڑا غلط اور الٹا کر دیا تھا. اس نے کہا تھا کہ میں محمد و احمد ہوں (نعوذباللہ)! تو سن لو تم بھی، محمد و احمد ہونے کے لیے محبوب ہونا ضروری ہوتا ہے، اور وہ ایک ہی تھا! یہ توہین در توہین ہے کہ کوئی خدائی کا دعوی کرے تو کرے، محمدی کا دعوی بھی کر گزرے، اور پھر اس نے تو صرف ہونے کا دعوی کیا تھا، تم نے تو، ایاز نظامی تم نے تو تقدس توڑا ہے، تم نے توہین کی، تم ابوجہل و ابولہب سے بھی گئے گزرے ہو، وہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا تھے، ان کو زعم رہا ہوگا کہ وہ بڑے ہیں، اور اس سے زیادہ جانتے ہیں (نعوذباللہ) اور تم نے تو انھی کا دیا کھایا اور پھر دغا بازی کی. کاش تم نسیان بھرے انسان کے بجائے کتے ہوتے جو جس کا کھاتا ہے، اس کے آگے نہیں بھونکتا.

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں