جناح سچا تھا - محسن حدید

جب دادری اتر پردیش میں پیدا ہونے والے اخلاق احمد نے ایک ہجوم کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہوگا تو ایک بار حیران تو ہوا ہوگا کہ ایسا کیا ہوگیا؟ لیکن ہجوم کی آنکھوں میں خون اور غیض و غضب نے اسے مہلت نہیں دی، لوگ اس پر ٹوٹ پڑے، زمین پر گرتے ہوئے بےبسی سے اس نے چند میٹر کے فاصلے پر کھڑی پولیس وین کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اسے بچانے آجائیں کیونکہ ہندوستان کے قانون کے تحت یہ اس کا بنیادی حق تھا، لیکن پولیس کو اس چیز سے دلچسپی نہیں تھی، ویسے بھی گئو ماتا کے مجرم کو بچانے کا پاپ پولیس اپنے سر کیوں لیتی، مرنے سے چند لمحے پہلے اس کے ذہن میں آخری بات جو ابھری وہ یہی تھی کہ جناح سچا تھا.

احسان جعفری نے جب کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا تو پھولا نہیں سمایا تھا. اس دن اسے یہی لگا تھا کہ ہندوستان سب کا ہے، جناح جیسے لوگ تو فتنہ پرور تھے، پرکھوں کی زمین کا بٹوارا چاہتے تھے، صرف ایک حکومتی عہدے کی خاطر ہزاروں سال پرانی تہذیب پر ہی سوال اٹھا دیا، لیکن پھر ایک دن ہندوؤں کو جوش آگیا، مسلمان اس جوش سے بچنے کو ممبر پارلیمنٹ کےگھر پناہ لینے پہنچ گئے، مگر یہ بھول گئے کہ ہندوستان میں مسلمان کی اوقات میں چاہے وہ ایک عام مزدور ٹائپ ہو یا پھر لوک سبھا کا کوئی ممبر، کچھ خاص فرق نہیں، بلوے والے آئے تو جعفری چیختا رہا، چلاتا رہا، اپنے منصب کی دہائیاں دیتا رہا، لیکن کسی نے نہ سنی اور ایک کرپان اس کی پسلیوں میں بھی گھونپ دی گئی، تب اسے احساس تو ہوا ہوگا کہ جناح سچا تھا.

احمد آباد کی غزالہ نے بچپن سے سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا خود بھی گنگنایا تھا اور بہت سوں سے سنا بھی تھا. اسے لگتا تھا کتنے پاگل ہیں وہ لوگ جو اتنا اچھا ملک چھوڑ کر دور جا بیٹھے. اس کی کیا ضرورت تھی لیکن گجرات میں جب بدلے کی آگ لگی تو قتل عام کے ساتھ ہندوؤں نے مسلمان لڑکیوں کو بھی اٹھانا شروع کر دیا. غزالہ کی ماں نے اسے بہت چھپایا لیکن کتنے دن؟ آخر ایک دن سامنے والے گھر میں رہنے والے بابو رام چچا کی سربراہی میں بلوہ آگیا. غزالہ بہت چیخی چلائی پر جس کی گودی میں کھیلی تھی، آج وہ چچا نہیں ایک درندہ تھا، غزالہ کا بھائی بہن کے لیے اٹھا لیکن بندوق کے ایک ہی فائر میں سب ختم ہوگیا. پھر اگلے کچھ ذلت اور اذیت کے وہ لمحات اس کی زندگی میں آئے کہ اسے پہلی بار لگا جناح سچا تھا. بدقسمت غزالہ زندہ بچ گئی لیکن اگلے تین سال تک بھی اس کی شنوائی نہ ہوئی. تب اسے یقین ہوگیا کہ جناح واقعی سچا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   قائد کو بیچ میں نہ لایا کریں - خرم علی راؤ

مئی 1987ء میں جب مراد نگر اتر پردیش کے مسلمان نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر ٹرکوں میں بھر کر لے جایا گیا اور ان کی لاشیں کچھ دن بعد شہر کی بڑی نہروں میں تیرتی ہوئی ملیں تو ان کے لواحقین کو محسوس ہوا ہوگا کہ ہندوستان کی بلبلیں کون ہیں؟ اور جب اس میں ملوث قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی چند دن بعد ہی ضمانت بھی ہوگئی تو گھر والوں کو یقین ہوگیا ہوگا کہ جناح سچا تھا.

ہاں! انڈیا کے دورے پر گئے عاصمہ جہانگیر اور سیفما کے کچھ دوسرے لوگوں کو جب رات کے ایک بجے اچھی شراب پلا کر، اور پھر ان کے کمروں سے نکال کر ان کی اور کمروں کی تلاشی لی گئی ہوگی، تب ایک بار محسوس تو ہوا ہوگا کہ جناح سچا تھا لیکن یہ بدطینت کبھی مانیں گے نہیں.

میرے سامنے اس وقت کم از کم سینکڑوں مثالیں موجود ہیں. اس تمام کہانی کا مقصد ہرگز ہندوستانی مسلمانوں کو مطعون کرنا نہیں ہے. مقصد ہمارے ہاں موجود دیسی لبرلز اور اکھنڈ بھارت کے نام لیواؤں کو سمجھانا ہے جنھیں مودی اور جوگی آدتیاناتھ کے عروج کے بعد بھی پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان پر زیادہ پیار آتا ہے. کاش انہیں سمجھ آجائے کہ جس ملک کا کھاتے ہیں، جس نے انہیں پہچان دی ہے، جس کی وجہ سے ان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزت محفوظ ہے، اس کے بارے میں کچھ اچھا ہی بول دیں. انہیں کیا پتہ کہ ہندوستان کے کسی بھی محکمے میں جانے والے ایک مسلمان کے کاغذات چیک کرتے ہوئے اس کا اسلامی نام دیکھ کر جب عہدیدار کی انگلیاں ایک بار کی بورڈ پر ٹھہر سی جاتی ہیں تو دل پر کیا گزرتی ہے. ساتھ میں وہ تحقیر بھری نظر کسی انسان کو اپنی نظروں سے کیسے گرا دیتی ہے. آزاد وطن میں پیدا ہونے والے کیا جانیں؟ اللہ کرے انہیں کبھی ایسا واسطہ نا پڑے لیکن نمک حراموں کے ساتھ تاریخ کیا سلوک کرتی ہے؟ یہ جاننے کے لیے میر جعفر کی کہانی ضرور پڑھ لیں. جب انگریز اس کی بیٹی پر ہاتھ ڈال رہے تھے تو اس نے یاد دلانے کی کوشش کی تھی کہ صاحب میں تو آپ کا وفادار ہوں، لیکن صاحب بہادر نے اس کا ہاتھ جھٹک کر اس کی بیٹی کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے بس اس پر تھوکا نہیں تھا، مگر یہ سب کیا تھوکنے سے کم تھا.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.