سلفی، قادری، نقشبندی صاحب – معلمہ ریاضی

خطیب صاحب کا جوشیلا خطبہ جاری تھا،
اللہ کا حکم ہے امر بالمعروف و نہی عن المنکر، بھلائی کا حکم کرو اور برائی سے روکو.
کیسے روکو گے؟ ہاتھ سے روکو، ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روکو، زبان سے نہ روک سکو تو دل میں برا سمجھو، مگر یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے.
میرے بھائیو! افضل درجہ ہے ہاتھ سے روکنا، اس کے بعد زبان سے روکنا، کیا سمجھے؟
سب اپنی اپنی مسجد میں، اپنے اپنے خطیب سے اپنے اپنے حساب سے برائی روکنے کا سبق لے رہے تھے
ـــــــــــــــــــــــــــ
سلفی صاحب گھر سے نکلے۔ گلی میں قادری صاحب ٹینٹ لگوا رہے تھے، پوچھنے لگے، کیا ہو رہا ہے؟
فرمایا، بیٹے کی جاب ہوگئی ہے، بیگم نےمنت مانی تھی کہ جاب ہوجائے گی تو گھر میں میلاد کروائیں گی.
سلفی صاحب نے نظر اٹھا کر دیکھا، قادری صاحب کے دروازے پہ بڑا سا نعلین کا ماڈل لگا تھا جو چائینیز لائٹ سے مزین تھا.
خطیب صاحب کے الفاظ، سلفی صاحب کے دماغ میں کلبلائے، ’برائی ہاتھ سے روکنا افضل ہے.‘
بس وہ شروع ہوگئے، ’’یہ منت کیا ہوتی ہے؟ بدعت ہے یہ، اور یہ نعلین کا نقشہ بھی صحیح احادیث سے ثابت نہیں،گستاخی ہے یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں، ہٹائو اسے.‘‘ بولنے کے ساتھ ہی انھوں نے دروازے میں لگے نعلین کا ماڈل اتارنے کی کوشش کی.
قادری صاحب ایک لمحے کے لیے تو بوکھلائے مگر اگلے لمحے اپنے حواس بحال کیے اور چلا اٹھے، ’’ابے پاگل ہوا ہے کیا نجدی، مجھے اسلام سکھائے گا؟ میلاد سے روکتا ہے گستاخ! تیری تو۔۔.‘‘
آواز سن کر قادری صاحب کے بیٹے گھر سے نکل آئے اور سلفی صاحب کی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی لگائی۔ سلفی صاحب پھٹی قمیض کے ساتھ شلوار کا ناڑا سنبھالتے اور چوٹیں سہلاتے بھاگے.
ـــــــــــــــــــــــــــ
قادری صاحب کچھ سامان لینے نکلے تو راستے میں نقشبندی صاحب اپنے بیٹوں کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے، سلام دعا ہوئی تو نقشبندی صاحب بتانے لگے کہ وہ یومِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلسے میں جا رہے ہیں.
قادری صاحب طنزیہ ہنسی ہنس کے بولے، ’’واہ صاحب! نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت منانے کے منکر یومِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ منانے چلے ہیں، پہلے میلاد منائیں جناب ورنہ آپ میں اور ابلیس میں کوئی فرق نہیں رہے گا.‘‘
نقشبندی صاحب اور ان کے بیٹوں کا دماغ گھوم گیا، ’’ہمیں شیطان کہتا ہے تو بدعتی! ابھی بتاتے ہیں تجھ کو‘‘
یہاں قادری صاحب اکیلے تھے، لہذا میدان نقشبندی صاحب اور ان کے بیٹوں کے ہاتھ رہا اور قادری صاحب پھٹے کپڑوں، لٹکتے ناڑے اور سلگتی چوٹوں کے ساتھ راہِ فرار پہ مجبور ہوئے
ــــــــــــــــــــ
سلفی صاحب بستر پہ بیٹھے ہائے ہائے کر رہے تھے کہ نقشبندی صاحب ملنے آئے، چوٹوں کی وجہ پوچھی تو سلفی صاحب نے سارا معاملہ سنا دیا اوربولے، ’’آپ خود بتائیں بدعت کو ہاتھ سے روکنا تو افضل ہے نا؟‘‘
’’بالکل بالکل بجا فرمایا آپ نے‘‘ نقشبندی صاحب نے سلفی صاحب کے متورم چہرے کو دیکھتے ہوئے تائید کی، مگر ساتھ ہی ان کے اپنے چہرے پہ ناگواری کے اثرات نمایاں ہوگئے جو سلفی صاحب نے بھی محسوس کر لیے
’’کیا بات ہے جناب! آپ کو کوئی بات بری لگی کیا؟‘‘
’’کچھ نہیں! آپ کوکچھ نہیں کہہ سکتا، دل میں تو برا جان سکتا ہوں.‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’آپ کی جھاڑ جھنکار جیسی داڑھی، پتہ نہیں تراش خراش کیوں نہیں کرتے آپ لوگ؟ جبکہ بخاری شریف میں ایک مشت سے زیادہ کاٹ دینے کا بیان بھی موجود ہے، مجھے تو کراہت محسوس ہو رہی ہے.‘‘
سلفی صاحب کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا، چیخ کر بولے، ’’اچھا تو تجھے مجھ سے کراہت آ رہی ہے؟‘‘
اور ساتھ ہی اپنے بیٹوں کو آواز لگائی، سلمان ن ن ن!
ہٹے کٹے بیٹے نے بوتل کے جن کی طرح دروازے پہ اینٹری ماری، ’’جی ابا!‘‘
’’سبق سکھا اسے، یہ دیوگندی تیرے باپ کو اسلام سکھا رہا ہے.‘‘
اور پھر نقشبندی صاحب تھے، پھٹی قمیض تھی، شلوار کا ناڑا تھا اور چوٹوں کی جلن تھی۔
ــــــــــــــــــــــ
رات تینوں اپنی اپنی بیگم سے چوٹوں پہ ٹکور کروا رہے تھے اور بیگمات کا افلاطونی خطاب بھی سماعت فرما رہے تھے جو خطیبِ مسجد کے خطاب پہ بھاری پڑ رہا تھا.
ــــــــــــــــــــ
’’کس نے کہا تھا آپ سے کہ جا کر کسی کے گھر کی تقریب خراب کریں؟‘‘
’’ارے بیگم! خطیب صاحب نے کہا تھا، بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور ہاتھ سے روکنا افضل ہے‘‘.
’’حکم دینے کو کہا تھا نا، کبھی سنا ہے کسی نے اپنے برابر والے یا اپنے سے برتر کو حکم دیا ہو؟ یہ ہاتھ سے روکنا اپنی ’رعیت‘ کے لیے ہے نہ کہ ساری دنیا کے لیے۔ آپ کی بیوی، اولاد، زیرِ کفالت بہن بھائی، شاگرد یا ملازم آپ کے ’ہاتھ سے روکے جانے‘ کے حقدار ہیں نہ کہ قادری صاحب جو اپنے مسلک کے حساب سے ’ثواب‘ کا کام کر رہے تھے۔ اس طرح ہر کوئی خود کو صحیح اور سامنے والے کو غلط سمجھ کے ہاتھ سے روکنے نکل گیا تو وہی ہوگا جو آج آپ کے ساتھ ہوا ہے کہ جہاں جو طاقتور ہوا وہ کمزور کو مار پیٹ کرے گا، عقیدہ البتہ کسی کا بدل نہیں پائے گا. ہمارا بیٹا سلمان اپنے ہونے والے سسرال سے ’ہنڈا بائک‘ سلامی میں دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، یہ بھی بدعت ہے، اسے روکیں ہاتھ سے تب بات ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
’’کمال کرتے ہیں آپ! خطیب صاحب کی بات پہ نقشبندی صاحب کو بولنے کی بھلا کیا تک تھی؟ زبان سے آپ اپنے برابر والوں کو بول سکتے ہیں، جو رشتے اور قرابت میں آپ کے نزدیکی ہیں، آپ کے قریبی دوست، خود مختار بہن بھائی یا کزن وغیرہ نہ کہ کبھی کبھار سلام دعا کرنے والے اہلِ محلہ اور وہ بھی ایسے جو اپنے مسلک کے اعتبار سے ’راہِ حق‘ پہ چل رہے ہوں۔ اور اس پہ بھی انداز طنزیہ نہیں ہونا چاہیے. آپ کے چھوٹے بھائی اپنی بیٹی سے ملازمت کروا رہے ہیں اور اچھے بھلے معقول رشتے بلاوجہ کے اعتراض لگا لگا کر ٹھکرا رہے ہیں، جائیں انہیں ’زبان‘ سے سمجھائیں کہ بیٹی کی تنخواہ کے لالچ میں اس کے ارمان ذبح نہ کریں.‘‘
ــــــــــــــــــــــ
’’بہت خوب! آپ سلفی صاحب کے منہ پہ جا کر ’دل میں برا‘ سمجھ رہے تھے؟ ٹھیک ہے ہر وہ شخص جو آپ سے طاقت، رتبے یاعمر میں برتر ہے، جسے آپ ہاتھ یا زبان سے نہیں روک سکتے، اس کاغلط عمل آپ دل میں برا سمجھ سکتے ہیں، مگر اس کے منہ پہ جا کر اپنے منہ کے زاویے بگاڑ کر نہیں بلکہ اس کی لاعلمی میں اور ساتھ ساتھ دعا بھی کریں کہ اللہ اسے ہدایت دے. آپ نے کل مجھے بتایا کہ آپ کے کروڑ پتی باس اپنی بہن کو جائیداد میں حصہ نہیں دے رہے اور اگلے ہی لمحے آپ نے فرمایا کہ چلو چھوڑو ہمیں کیا، وہ جانیں، ان کی بہن جانیں، اُس وقت آپ نے ’دل میں برا‘ کیوں نہ سمجھا؟‘‘
ـــــــــــــــــــــ
سلفی صاحب، قادری صاحب اور نقشبندی صاحب اپنی اپنی مار یاد کرتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ ’اپنے‘ خطیب صاحب سے کہیں گے کہ اگلا خطبہ ’اپنی بیگم‘ سے کلاس لینے کے بعد دیں تاکہ ہم مار سے بچ سکیں.

Comments

FB Login Required

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، 15 سال سے ریاضی پڑھاتی ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند ہے۔ ان کے خیال میں اصل نام کے بجائے "معلمہ" کی شناخت ان کی مذہبی اور پیشہ ورانہ آسودگی کا باعث ہے

Protected by WP Anti Spam