ایاز نظامی کی گرفتاری، اب کیا کرنا چاہیے؟ محمد بلال خان

سوشل میڈیا پر ایک عرصے سے جاری گستاخانہ مہم کی سرکوبی کے لیے قانون واقعتاً متحرک ہوا ہے. پاکستان میں الحاد پھیلانے اور ملحدین کی برین واشنگ کرنے والوں کے سرغنہ ایاز نظامی کی گرفتاری اس سلسلے کی اہم کڑی ہے. سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں کراچی سے اس اہم ملزم کی گرفتاری کی خبر نے الحاد کی صفوں پر بجلی گرا دی ہے، اور جس تیزی کے ساتھ ملحدین سوشل میڈیا سے غائب ہو رہے ہیں، وہ منظر عبرتناک ہے. کل تک اپنی شناخت چھپا کر، جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے خدا کی ذات کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی نام نہاد بہادری پر نازاں تھے، آج ایک گرفتاری سے وہ تمام خود کو ڈارون سمجھنے والے بلوں میں چھپ گئے ہیں۔

لیکن اگر موحدین، مسلمین اور مؤمنین اس بار بھی گرفتار گستاخوں کو قرار واقعی اور قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے حکومت کو مجبور نہ کرسکے، اور ان گستاخوں کو انجام تک پہنچانے میں ناکام رہے تو پاکستان میں الحاد کے رستے میں ڈالی گئیں تمام رکاوٹیں ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گی. اس اہم ترین معاملے پر پیر مہر علی شاہؒ گولڑوی، سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ، حضرتِ غلام غوث ہزارویؒ، حضرت شاہ احمد نورانیؒ، حضرت محمد عبداللہ شہیدؒ، حضرت احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ، سید مودودیؒ اور مفتی محمودؒ کے کارکنان و مریدین کو اپنے ماضی کی قربانیوں اور جدوجہد کا پاس رکھتے ہوئے آگے آنا چاہیے اور جیسے تحریکِ ختمِ نبوتؐ کو ان کے اکابرین ہمیشہ کے لیے تاریخی بنا گئے، بالکل اسی طرح تحریکِ ناموسِ رسالتﷺ اور رد الحاد تحریک کو بھی اس کے تاریخی انجام تک پہنچانا اس وقت ان کا سب سے اولین مشن ہونا چاہیے۔

ہر مسلک کا فرد یہ مت دیکھے کہ تحریک میں صفِ اول میں کون ہے؟ کون اس کی قیادت کر رہا ہے؟ بس یہ دیکھیں کہ کس کا کام کر رہا ہے، اور کس مبارک مشن کے لیے کر رہا ہے. یہ تو مالک کی مرضی جسے قبول کرے۔ ہمیں رب کی رضا پر لبیک کہنا چاہیے۔ سو ہمیں اس متبرک کام میں حتی الامکان اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کوشش کرنی ہے، تاکہ اس فتنے کو فتنۂ قادیانیت کی طرح ہمیشہ کے لیے ٹھکانے لگایا جائے۔ ہمیں ہر صورت، درمے، دامے، سخنے اس کام کو آگے بڑھانا چاہیے، اور جو بھی اس حوالے سے متحرک ہو، اس کا ساتھ دینا چاہیے. بقولِ حضرتِ قلندرِ لاہوریؒ ؎
کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.