اپریل فول - عثمان مہر

اپریل فول دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور انھیں بےوقوف بنانے کا تہوار ہے۔ اس کا خاص دن اپریل کی پہلی تاریخ ہے۔ یہ یورپ سے شروع ہوا اور اب ساری دنیا میں مقبول ہے۔ 1508ء سے 1539ء کے ولندیزی اور فرانسیسی ذرائع ملتے ہیں، جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مغربی یورپ کے ان علاقوں میں یہ تہوار تھا۔ برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے شروع میں اس کا عام رواج ہوا۔

دراصل سولہویں صدی کے آخر یعنی 1564ء تک نیا سال مارچ کے آخر میں شروع ہوتا تھا۔ نئے سال کی آمد پر لوگ تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔ فرانس کے بادشاہ نے جب کیلنڈر کی تبدیلی کا حکم دیا کہ نیا سال مارچ کے بجائے جنوری سے شروع ہوا کرے تو بہت سے لوگوں کو اس تبدیلی کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور یکم اپریل کو ہی نئے سال کی تقاریب مناتے رہے، باہم تحائف کا تبادلہ بھی جاری رہا۔ اسی بنا پر ان لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا جنھیں اس تبدیلی کا علم تھا۔ اور انھیں اپریل فول کے طنزیہ نام سے پکارنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ روایت بن گیا اور اب دنیا بھر میں یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔

ایرانی کیلنڈر کے مطابق نیا سال آج بھی 21 مارچ سے شروع ہوتا ہے. سال کے پہلے دن ایران میں نوروز کا تہوار منایا جاتا ہے جو ایرانیوں کا سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے، حالانکہ اس کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں۔ یہ محض سردیوں کے رخصت ہونے اور بہار کے آنے کی خوشی میں منایا جاتا تھا کیونکہ سردیوں میں نہ کوئی فصل اگتی تھی نہ مویشیوں کے لیے چارہ دستیاب ہوتا تھا۔ ایرانی کیلنڈر ایک زمانے تک یورپ میں بھی رائج رہا تھا۔ علم نجوم اور برج کے بارہ مہینے دراصل ایرانی مہینوں کے ہی پرانے نام ہیں اور عین ان ہی تاریخوں پہ شروع اور ختم ہوتے ہیں۔ لیپ کے سال ایرانی کیلنڈر کے آخری مہینے کے آخر میں ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے اور برجوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی کیلنڈر میں لیپ کا اضافی دن سال کے شروع یا آخر کے بجائے مارچ سے پہلے ہوتا ہے تاکہ ایرانی کیلنڈر سے فرق کم رہے.

اپریل لاطینی زبان کے لفظ Aprilis یا Aprire سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا، کونپلیں پھوٹنا، قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کے لیے لوگ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے. یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا ایک اہم حصہ بلکہ غالب حصہ بن گیا. انسائیکلو پیڈیا انٹرنیشنل کے مطابق مغربی ممالک میں یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے، اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے، اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے. یہ فضول اور فول رسم مسلم معاشرے کا بھی حصہ بن چکی ہے اور مسلمان اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی اور بربادی پر خوشی کا دن مناتے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو فول بنا بنا کر ان کو مصیبت اور پریشانی میں ڈالتے ہیں۔

جب عیسائی افواج نے اندلس کو فتح کیا تو مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں. جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے، جہاں سے اس کے آباؤ اجداد آئے تھے. قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی، جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں، تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے. جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لیے. اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے، کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں. مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں ان کے ممالک بھیج دیا جائے، جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیے گئے، جہاز آ کر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا. جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے، اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور ان کی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھایا گیا، مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی. دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے، جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دیے، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے، جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اندلس میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دے دیا گیا، یعنی یکم اپریل کے بیوقوف۔ آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔

اس رسم بد کے درج ذیل نقصانات ہیں
۔ دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا
۔ نفاق میں ڈوب جاتا
۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا
۔ اللہ کی ناراضی پانا
۔ مسلمان بہن بھائیوں‌کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا
۔ مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا
۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی۔

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا نے اس کی تاریخی حیثیت پر مختلف انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترھویں صدی کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا۔ اس مہینے کو رومی اپنی دیوی وینس کی طرف منسوب کر کے مقدس سمجھا کرتے تھے۔ چونکہ یہ سال کا پہلا دن ہوتا تھا ، اس لئے خوشی میں اس دن کو جشن و مسرت کے طور پر منایا کرتے تھے اور اظہار خوشی کے لئے آپس میں استہزاء و مذاق کیا کرتے تھے۔ یہی چیز آگے چل کر اپریل فول کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ 21 مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے کچھ اس طرح تعبیر کیا کہ (معاذاللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کر کے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے (یعنی کبھی سردی ہوجاتی ہے تو کبھی گرمی بڑھ جاتی ہے، موسم کے اس اتار چڑھاؤ کو قدرت کی طرف سے مذاق پر محمول کیا گیا) لہذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کردیا۔

انسائیکلو پیڈیا لا روس میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب یہودیوں نے یسوع مسیح کو گرفتار کر لیا اور رومیوں کی عدالت میں پیش کیا تو رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے یسوح مسیح کے ساتھ مذاق ، تمسخر ، استہزاء اور ٹھٹھا کیا گیا ، ان کو پہلے یہودی سرداروں کی عدالت میں پیش کیا گیا پھر پیلاطس کی عدالت میں فیصلہ کے لئے بھیجا ایسا محض تفریحاً کیا گیا (معاذاللہ) بائبل میں اس واقعہ کو یوں نقل کیا گیا ہے کہ جب لوگ یسوع مسیح کو گرفتار کیے ہوئے تھے تو وہ ان کا ٹھٹھا اڑاتے اور ان کی آنکھیں بند کر کے منہ پر طمنچے مارتے تھے، اور ان سے یہ کہہ کر پوچھتے تھے کہ بتاؤ کہ کس نے تم کو مارا اور طعنے دے دے کر بہت سی باتیں ان کے خلاف کہتے تھے۔ (معاذاللہ) فریدی وجدی کی عربی انسائیکلوپیڈیا سے بھی ان تفصیلات پر روشنی پڑتی ہے اور اس کے نزدیک بھی اپریل فول کی اصل وجہ یہی معلوم ہے کہ یہ یسوع مسیح کا مذاق اڑانے اور انہیں تکلیف پہنچانے کی یادگار ہے۔

واضح رہے کہ تمسخر و استہزاء اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں نہ کسی فرد کو دوسرے فرد سے تمسخر کرنے کی اجازت ہے اور نہ کسی جماعت کو دوسری جماعت کے ساتھ استہزاء کی اجازت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو مزید احتیاط سے کام لینا چاہیے، لیکن افسوس صد افسوس مسلمانوں پر کہ جنہیں خیر امت کا اعزاز ملا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہود و نصاریٰ کی صریح مخالفت کی تاکید کے باوجود آج وہ اپنے ازلی دشمن یہودو نصاریٰ کے جملہ رسم و رواج ، طرزعمل اور فیشن کو بڑی ہی فراخ دلی سے قبول کر رہے ہیں، جبکہ انہیں اس سے بچنےاور احتیاط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ آج کا مسلمان مغربی افکار اور نظریات سے اتنا مرعوب ہوچکا ہے کہ اسے ترقی کی ہر منزل مغرب کی پیروی میں ہی نطر آتی ہے۔ ہر وہ قول وعمل جو مغرب کے ہاں رائج ہوچکا ہے، اس کی تقلید لازم سمجھتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ اسلامی افکار کے موافق ہے یا مخالف۔ حتی کہ یہ مرعوب مسلمان ان کے مذہبی شعار تک اپنانے کی کوشش کرتاہے۔ ”اپریل فول“ بھی ان چند رسوم و رواج میں سے ایک ہے، جس میں جھوٹی خبروں کو بنیاد بنا کر لوگوں کا جانی و مالی نقصان کیا جاتا ہے۔ انسانیت کی عزت و آبرو کی پروا کیے بغیر قبیح سے قبیح حرکت سے بھی اجتناب نہیں کیا جاتا۔ اس میں شرعاً واخلاقاً بےشمار مفاسد پائے جاتے ہیں، جو مذہبی نقطہ نظر کے علاوہ عقلی واخلاقی طور پر بھی قابل مذمت ہیں۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس قبیح فعل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور حکومت وقت کو بھی اس پر پابندی لگانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔