جوائنٹ فیملی سسٹم حرام نہیں - محمد فہد حارث

ایک بہن نے اعتراض کیا کہ اسلام میں جوائنٹ فیملی سسٹم یعنی مشترکہ خاندانی نظام نہیں ہے، کیونکہ اس میں اسلام میں مطلوب حجاب کے تقاضہ پورے نہیں ہوتے۔ میں نے ان بہن کی خدمت میں عرض کیا کہ دین کے دو بنیادی اصول یاد رکھنے چاہیے:
الف: عبادات میں اصل حرمت کی ہے یعنی ہر عبادت حرام ہے جب تک کہ اس کا ثبوت نبی ﷺ سے نہ مل جائے۔ اسی لیے اگر نبی ﷺ نے صلوٰۃ العید سے پہلے نوافل نہیں پڑھے تو ایسے نوافل ادا کرنے والے کو علی ؓ نے بدعتی کہہ کر دھتکار دیا۔
ب: معاملات، عادات اور معاشرت میں اصل حلت کی ہے یعنی معاشرتی زندگی میں ہر چیز حلال و مباح ہے، جب تک کہ اس کا حرام ہونا نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو جائے۔ اسی لیے اسلام میں کھانے سے متعلق جو چیزیں حرام تھیں، آپ ﷺ نے ان کا نام لیکر بتا دیا، جیسا کہ غیر اللہ کے نام کا کھانا، مردار، سور، کچلی والے جانور وغیرہ، باقی سب کچھ حلال ہے، اسی لیے اسلام میں ہر سبزی حلال قرار پائی کیونکہ آپ ﷺ نے کبھی کسی سبزی کی ممانعت نہیں فرمائی۔

اسلام کے خاندانی نظام کا تعلق معاملات و معاشرت کی قبیل سے ہے۔ اسلام نہ تو آپ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آپ مشترکہ خاندانی نظام کو لازمی قائم کریں اور نہ ہی اس نے کہیں یہ تصریح کی ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام یعنی جوائنٹ فیملی سسٹم ممنوع ہے۔ کوئی ایک آیت یا حدیث اس بابت پیش نہیں کی جاسکتی سو مشترکہ خاندانی نظام کو حرام قرار دینا یا غلط کہنا میری دانست میں تو قطعی درست بات نہیں۔ اسلام نے البتہ یہ کیا کہ مرد و عورت کے معاشرتی معاملات سے متعلق گائیڈ لائن یعنی ہدایات دے دیں اور یہ مسلمانوں کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا کہ وہ ان ہدایات کا استعمال کرتے ہوئے اپنا خاندانی نظام کس طرح سے ترتیب دیتے ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام کے رد میں یہ دلیل کہ قریبی رشتہ داروں سے پردہ کرنے کا زیادہ سختی سے حکم ہے بہ نسبت اجنبی نامحرموں سے تو یہ بات قطعی درست نہیں اور اپنے پیچھے قرآن و حدیث سے کوئی سند یا دلیل نہیں رکھتی۔ بلکہ قرآن و حدیث تو ہم کو یہ بتاتے ہیں کہ قریبی نامحرم رشتہ داروں سے حجاب کی اس قدر سختی نہیں جتنی کہ اجنبی نامحرموں سے ہے۔ اس کی مثال ہمیں خود نبیﷺ کے اسوہ اور صحابہؓ کے طرز عمل سے ملتی ہے۔ صحیح بخاری میں پانچ مختلف مواقع پر یہ حدیث مذکور ہے کہ آپﷺ اپنی رشتہ دار انصار خاتون ام حرام بنت ملحانؓ کے ہاں دوپہر میں قیلولہ کرنے جایا کرتے تھے، اور ان سے گفت و شنید کرتے تھے۔ اسی طرح سے فتح مکہ کے روز نبی ﷺ اپنی سگی چچازاد بہن ام ہانی ؓ کے گھر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی اور ان سےگفتگو فرمائی جبکہ ان کا شوہر ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی گھر سے بھاگا ہوا تھا۔ اسی طرح سیدنا عمرؓ اکثر اپنی رشتہ دار خاتون شفاء بنت عبداللہؓ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ سو اس بابت درست و راجح بات تو یہی لگتی ہے کہ فرسٹ کزن، دیور، جیٹھ اور قریبی رشتہ داروں کے سامنے خواتین سر و جسم کو مکمل ڈھانپ کر سنجیدگی کے ساتھ سامنے ہوسکتی ہیں بشرطیکہ ان کے مابین فضول قسم کے ہنسی مذاق اور بلاضرورت بات چیت نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جب بھی دیور جیٹھ کی بات کی جاتی ہے تو فوراً نبی ﷺ کی یہ حدیث سامنے لائی جاتی ہے کہ آپﷺ نے دیور کو موت قرا ر دیا ہے۔ یہ حدیث بلاشبہ اپنی جگہ صحیح ہے لیکن میرے خیال میں اس حدیث کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے کیونکہ مکمل حدیث میں صاف صراحت موجود ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کے پاس تنہائی میں نہ جاؤ تو اس پر انصار میں سے ایک شخص نے دیور اور جیٹھ سے متعلق سوال کیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ دیور تو موت ہے، یعنی دیور کے ساتھ اکیلے بیٹھنے کے سلسلے میں اس کو موت کہا گیا ہے۔ دیور کے موت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیور کے ساتھ ایک گھر میں شوہر اور ساس سسر کی موجودگی میں رہنا قطعی حرام و غیر درست ہے۔ دیور کے موت ہونے کا مطلب بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپﷺ نے فرمایا کہ عورتیں تمھارے لیے فتنہ ہیں۔ اب عورتوں کے فتنہ ہونے سے کوئی یہ مطلب نکال لے کہ عورت تو ہے ہی فتنہ و مردود چیز، سو اس سے قطعی دور رہنا چاہیے جیسا کہ بعض صوفیاء نے کیا کہ عورت کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دے کر نکاح و ازدواجی تعلقات تک کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا۔ عورت کے فتنہ ہونے سے مطلب یہ ہے کہ عورت مرد کے لیے آزمائش ہے کہ اگر مرد و عورت کے باہمی تعلقات جائز حدود سے تجاوز کریں تو عورت کی صورت میں یہ چیز مرد کی آخرت کے لیے تباہی کا سبب بن سکتی ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ قرآن نے مومن کے لیے اس کے مال و اولاد کو فتنہ و ہلاکت قرار دیا۔ سو جس طرح سے مال، اولاد اور عورت انسان کے لیے آزمائش ہے کہ اگر اس بابت جائز حدود سے تجاوز کیا جائے تو یہ فتنہ و ہلاکت بن جاتے ہیں، بالکل ایسے ہی دیور و جیٹھ بھی آزمائش ہیں کہ اگر ان کے ساتھ میل جول اور اٹھنا بیٹھنا شرعی تقاضوں کے تحت نہ ہو تو وہ موت ہیں، اور اگر شرعی تقاضوں کے تحت ہے تو وہ قطعی کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ اسی طرح ترمذی میں روایت آتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شوہروں کی غیر موجودگی میں ان کی عورتوں کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تم میں سے کسی کے اندر خون کی طرح گردش کر رہا ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں نبی ﷺ کا فرمان آتا ہے کہ آج کے بعد سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس کے شوہر کی غیر موجودگی میں نہ جائے تاوقتیکہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اور نہ ہوں۔ ان احادیث کے مفہوم مخالف سے تو صاف تصریح ہوتی ہے کہ شوہر کی موجودگی میں خواتین نامحرم کے سامنے شرعی حجاب کے ساتھ آسکتی ہیں، بلکہ اگر گھر پر شوہر نہ ہو بلکہ ساس سسر صرف موجود ہوں تو بھی ان کی موجودگی میں بھابھی دیور یا جیٹھ کے سامنے حجاب کے ساتھ ہوسکتی ہے۔

پھر یہ بات بھی یاد رہے کہ محرم رشتہ دار جیسے والد، بھائی، ماموں، چچا کے سامنے ایک عورت سر پر دوپٹہ لیے بنا بھی آسکتی ہے، اس کی تصریح قرآن میں موجود ہے کہ قرآن نے محرم رشتہ داروں کے سامنے اوڑھنیاں لینے کا حکم نہیں دیا۔ البتہ تہذیب کا تقاضا یہی ہے کہ ان محرم رشتہ داروں کے سامنے بھی عورت چھاتی اور سر کو ڈھانپ کر رکھے جیسا کہ ہمارے برصغیر کے معاشرے میں رواج پذیر ہے۔ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ باپ، چچا، ماموں اور بڑے بھائی کے سامنے تو آتے ہی خاتون سر پر دوپٹہ لے لیتی ہیں، جبکہ کزنز اور دوسرے نا محرم رشتہ داروں کے سامنے بغیر سر پر دوپٹہ لیے گھومتی ہیں جو کہ سراسر غلط اور غیر شرعی کام ہے۔ یعنی جہاں سر کا ڈھانپنا ضروری نہیں وہاں تہذیب کے زیر اثر سر ڈھانپا جاتا ہے اور جہاں سر کا ڈھانپنا ایک لازمی شرعی تقاضا ہے، وہاں ننگے سر گفت و شنید ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرل ازم کی اساس - مفتی منیب الرحمن

سو المختصر یہ کہ
1۔ اسلام نے کسی خاص خاندانی نظام کی بات نہیں کہی. معاشرہ شریعت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنا خاندانی نظام ترتیب دے سکتا ہے، چاہے وہ برصغیر پاک و ہند کی طرح کا مشترکہ خاندانی نظام یعنی جوائنٹ فیملی سسٹم ہو یا پھر عربوں کی طرح شادی سے پہلے الگ گھر لینے کا نظام۔

2۔ اسلام میں پردے کے احکام کئی طرح کے ہیں۔ باپ، بھائی، چچا، ماموں کے سامنے شریعت اجازت دیتی ہے کہ خاتون بغیر سر ڈھانپے آسکتی ہے البتہ تہذیب یہی ہے کہ بڑے جو کہ محرم ہیں، ان کے سامنے بھی سر ڈھانپ کر آیا جائے۔ البتہ اجنبی نامحرموں جیسا کہ بازار میں چلتے پھرتے لوگ، دور کے رشتہ دار، اسکول کالج اور یونیورسٹی میں ساتھ پڑھنے والے نامحرم مرد حضرات تو ایسے لوگوں سے خاتون کا مکمل پردہ ہے، اور ان کے سامنے سر کے ساتھ چہرہ کو ڈھانکنا ہی درست و راجح بات ہے۔ جہاں تک قریبی نامحرم رشتہ داروں کی بات ہے جیسا کہ فرسٹ کزنز، دیور، جیٹھ وغیرہ تو اگر ان سے روز کا آمنا سامنا اور ایک ہی گھر میں رہنا ہے، تو خاتون ان کے سامنے پورے جسم کو چادر یا بڑے دوپٹہ میں لپیٹ کر اور سر کو ڈھانپ کر عموماً جیسا کہ خواتین صلوٰۃ کی حالت میں ہوتی ہیں، سامنے آسکتی ہیں، لیکن پوری سنجیدگی و وقار کے ساتھ کیونکہ جن مسائل سے انسان کو روزمرہ سابقہ پڑتا ہے، اسلام نے ان کی بابت تخفیف و آسانی رکھی ہے، اور بلاضرورت سختی سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ بلی کے جھوٹے کو پاک کہا گیا، کہ نبی ﷺ نے بلی کے گھر میں آنے جانے کی بنا پر یہ رخصت دی، اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء نے ان پرندوں کی بیٹ کو پاک قرار دیا جن کا گھر میں کثرت سے آنا جانا ہوتا ہے، جیسا کہ چڑیا، کوا، کبوتر وغیرہ۔ البتہ یہ چیز گنجائش میں ہی شمار ہوگی، اصل میں اولی اور اقرب الی الحق معاملہ یہی ہے کہ ہر غیر محرم سے مکمل جسم اور چہرے کا پردہ کیا جائےگا، اور یقین کریں آج اس پر فتن دور میں بھی بہت سے خاندان پردے کی ایسی ہی پابندی کرتے ہیں جیسے کہ امہات المومنین کو حکم تھا، اور تہہ دل سے ان کے لیے دعا نکلتی ہے گو کہ کوئی ان کو انتہا پسند، روایت پرست یا متشدد کہتا پھرے۔

Comments

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ دینی علوم سے دلچسپی ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور فلسفہ اسلامی پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.