رشتے بھی کمرشل ہو گئے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

یہ صرف فنکار ہی نہیں، رشتے ناتے بھی تو کمرشل ہوگئے ہیں.

پیسہ لے کر ادائیں دکھانا ’’امراؤ جان ادا‘‘ کا پیشہ ہے. ’’پیسہ پھینک تماشا دیکھ‘‘ دنیا کے جس بھی تعلق کی بنیاد بن جائے، کیا اسے طوائف کہا جا سکتا ہے. آئے روز لفافہ صحافی، بکاؤ مال سننے پڑھنے کو ملتا ہے. کبھی سیاست میں ’’خصوصی شو‘‘ ہوتا ہے اور کبھی ’’میڈیائی دلال‘‘ نظر آتے ہیں.

نیوز اور پروگرام اینکرز اپنا اپنا ٹھیلا سجا کر سودا بیچ رہے ہیں، روز بولی بھی بدلتی ہے، اور گاہک بھی. پرفارمنس کا اسٹیج بھی آئے روز تبدیل ہو جاتا ہے. جسے کیرئیر جمپ قرار دیا جاتا ہے. بالکل ویسے ہی جیسے منڈی سے ڈیفنس کے بنگلے کی طرف موو آن کرنا. معیار زندگی کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نام بھی تبدیل ہو جاتے ہیں، نوراں، نور ہو جاتی ہے اور ہیراں، حور! سودے کی جگہ بزنس ڈیلز اور کاروباری دورے لے لیتے ہیں. مجرا ٹیم، فنکار ڈیلیگیشنز کہلاتے ہیں۔

پیسہ زندگی کے ہر ناموافق کو موافق میں تبدیل کرنے والا مسبب الاسباب اور حاجت روا ہے. فی زمانہ دو قوتیں ہیں جنہیں سب مانتے ہیں. اللہ تعالٰی جو ہے لیکن نظر نہیں آتا اور پیسہ جو منہ سے بولتا ہے، اور جس کے منہ سے بولتا ہے سب اسی کی بولی بولتے ہیں. حتی کہ امیر بیوہ کا بھی آدھا سہاگ سلامت رہتا ہے. جو شوہر اچھا رہن سہن مہیا کر سکتا ہے، وہ بہترین ہے، بےشک کم تعلیم یافتہ ہو، یا پرچ میں شڑ شڑ چائے پیتا ہو. جبکہ اعلی تعلیم یافتہ بےکار مرد کی نہ گھر میں عزت ہے نہ گھاٹ پہ. اولاد بھی اسی باپ کا حکم مانتی ہے جس کی جیب بارہ مہینے بھاری رہتی ہو، اور حسب فرمائش مال ڈلیور کر سکتی ہو۔ والدین کو خدمت کرنے والی اولاد پیاری ہوتی ہے، اور اگر وہ اولاد بدنی کے ساتھ ساتھ مالی خدمت میں بھی کھلا ہاتھ رکھے تو دعاؤں میں خلوص کا تڑکا دگنا ہو جاتا ہے. رشتوں میں گرمجوشی کی مقدار کا تعین طرفین کی جیبوں میں نوٹوں کی تعداد سے طے پاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   باپ کی عظمت - عائشہ یاسین

آپ فن اور فنکار کی ناقدری کا رونا روتے ہیں، میں نے انسان، اخلاص اور اقدار کی بےوقعتی کا راگ چھیڑا ہے. بیٹی کو اس نیت سے کم تعلیم اور بے ہنر رکھنا تاکہ اسے سسرال میں کمانے کی مشقت نہ کرنی پڑے، ان والدین کو بھی درست لگتا ہے جنھیں اپنے بیٹے کے لیے کماؤ بہو چاہیے ہوتی ہے.

رشتوں کے نام بدل دیے جانے چاہییں. ہر رشتے کی قیمت طے کر دی جائے.. رڑیا کی طرح ایک رپا ایک رپا کا راگ الاپ جائے.. رشتے قیمت سے پکارے جائیں، ہرا نوٹ، نیلا نوٹ، کھٹا نوٹ، بڑے اہم رشتے دار.. لال اور جامنی نوٹ غریب اور دور کے رشتے دار ہوں، ریزگاری گھریلو ملازمین کا نام ہو، روپے کا سکہ صفائی کرے اور پانچ روپے کا سکہ کھانا پکائے.

اولاد کے سبق یاد کرنے کا بھی ریٹ مقرر ہو، ایک کتاب کا الگ ایک مضمون کا الگ. گھر کے کام کا الگ اور اسکول کے کام کا الگ .
ایک بہن کے لیے دو بھائیوں میں سے زیادہ سگا وہ جو قیمتی تحائف لائے.
بڑی بہو وہ جو زیادہ کمائے. عمر کا سوال بےمعنی. بڑے چھوٹے بیٹے کا لقب تبدیل کیا جا سکتا ہو. جب جس نے زیادہ کھلا پلا دیا، وہ اس وقت کا بڑا بن گیا. نیا دن نیا عہدہ، اس طرح سب کو بڑا بننے کا موقع ملتا رہے. اور کوئی ناراض بھی نہیں ہوگا.

دنیا میں سب سے زیادہ بڑا فتنہ مال و زر ہے. قرآن نے بھی اولاد اور دولت کو آزمائش قرار دیا ہے. تو یقینا اس میں حکمت ہے. یہ زر ایسی دیمک ہے جو جوان کی جوانی اور صحت کو کھا جاتی ہے.

اخلاص کا مول دو کوڑی
ہنر کا مول دو کوڑی
اخلاق کا مول دو کوڑی
رشتے ناتے دو کوڑی
دو کوڑی بھئی دو کوڑی
ہر جذبہ تلے گا دو کوڑی

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.