اچھا ایونٹ مینیجر کیسے بنیں؟ سید قاسم علی شاہ

بچپن سےخود شناسی کا شوق علی عباس کو ٹرینرز اور دانشوروں کی محافل میں لے گیا. پھر ان کا بہت سا وقت ٹرینرز، دانشوروں اور صوفیوں میں گزرا. انھی ٹرینرز میں ایک نام فائز سیال صاحب کا بھی تھا جن سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور ان کو دیکھ کر ان کے اندر ٹرینر بننےکا شوق پیدا ہوا. کچھ جگہوں پر ٹریننگ کروائی لیکن پتا چلا کہ یہ کام آسان نہیں ہے، اس کے لیے تو علم اور ایکسپوژر اور دس پندرہ سال کی سخت محنت کی ضرورت ہے، لہذا اس کام کو چھوڑ دیا اور ایونٹس کو مینیج کرنے کی طرف چل نکلے۔ لاہور میں بہت ٹرینرز تھے جو چاہتے تھے کہ لوگ ان کو سنیں لیکن ان کو پتا نہیں تھا کہ کیسے لوگوں کے سامنے اظہار ِخیال ہو، جبکہ لوگوں کی خاصی بڑی تعداد ایسی تھی جو ان ٹرینرز کو سننا چاہتی تھی لیکن ان کو بھی نہیں پتا تھا کہ ان ٹرینرز کو کہاں سنا جائے. ایسے میں علی عباس نے سوچا کہ کیوں نہ ٹرینرز بننے کے بجائے ٹرینرز اور لوگوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا جائے، یوں انہوں نے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ٹرینرز کے پروگرام کروائے۔ یہی کام ان کو سپیریئر یونیورسٹی تک لے گیا. آج علی عباس سپیرئیر یونیورسٹی اور نیوٹی وی میں کام کر رہے ہیں. اس کے علاوہ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔

میرے ریڈیو پروگرام ’’منزل کا مسافر‘‘ میں مختلف سوالات پر اظہار ِخیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اچھا ایونٹ مینیجر بننے کے لیے ضروری ہے کہ کم کھایا اور کم سویا جائے کیونکہ ایونٹ مینجمنٹ میں سب سے بڑا چیلنج ٹائم مینجمنٹ کا ہوتا ہے. مینیجر کا سب سے پہلے مقررہ جگہ پر موجود ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، اگر وہ کم کھائےگا تو نیند بھی کم آئےگی، وقت پر کام پر پہنچا جا سکےگا اور کام بھی صحیح طریقے سے ہو پائےگا۔ اچھے مینجر کو صرف بینرز اور ساؤنڈ سسٹم ہی نہ لگانا آتا ہو بلکہ اسے انسانی نفسیات اور ضروریات کا بھی پتا ہونا چاہیے، اس چیز کو سیکھنے لیے نفسیات، فلسفہ، مذہب، انتھراپالوجی اور سوشیالوجی کے علوم کا جاننا بہت ضروری ہے۔ اچھے ایونٹ مینجر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس پلان بی ضرور ہو، اگر سپیکر کسی وجہ سے نہ آ سکے تو اس کا متبادل ہونا چاہیے، وہ خود اس قابل ہو کہ گفتگو کر سکے یا پھر اس ٹاپک سے متعلق لوگوں سے رائے لے۔

تبدیلی کے حوالےسے بات کرتے ہوئے علی عباس نے کہا کہ پچھلے پندرہ سالوں میں لاکھوں ٹاک شوز، تقاریر اور کالمز لکھے جا چکے ہیں، مساجد، درباروں اور تعلیمی اداروں میں بھی لوگوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود تبدیلی نہیں آ رہی. تبدیلی کبھی بھی کتابوں، تقریروں اور لیکچر سے نہیں آتی بلکہ تبدیلی اپنی ذات کے عمل سے آتی ہے۔ لوگ سیاستدانوں، جاگیرداروں اور پیروں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، ان کی ذہنیت غلامانہ ہے، وہ محض ایک تھپکی اور چائے کی پیالی سے خوش ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ان کے گھر میں کوئی شخصیت آ جائے تو اس کی تصاویر کو گھر میں لگا کر دنیا کو بتاتے رہتے ہیں۔ ان کی ساری زندگی یونہی گزر جاتی ہے، یہ سب چیزیں کمزور انسان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ہمارے دانشوروں اور لکھاریوں کےقول و فعل میں تضاد آ گیا ہے، اب لکھاریوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب ہم نے بھوک نہیں کاٹنی، قربانیاں نہیں دینی کیونکہ ہماری قربانیوں سے قوم نے ہمیں کچھ نہیں دینا۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم نے معاشی طور پر خوشحال ہونا ہے اور اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب وہ حکمرانوں کے خلاف بھی باتیں کرتے ہیں اور ان کو پروموٹ بھی کرتے ہیں، وہ امریکہ اور اسرائیل کےخلاف بھی لکھتے اور بات کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انھی ملکوں سے تعلیم دلاتے ہیں۔

کون لوگ میچور اور سمجھدار ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علی عباس کا کہنا تھا کہ جو شخص اپنی ضرورت کو پورا کرنے، اپنے جذبات کی عکاسی کرنے اور بھرپور زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ سمجھدار ہے. جو یہ کہتا ہے کہ میں خدمت خلق کر رہا ہوں، اصل میں اس کو اپنے بارے میں علم نہیں ہے۔ جس شخص کی ترجیح اپنی فیملی اور اس کی ذمہ داریاں ہیں، بعد میں خدمت ِخلق ہے، وہ سمجھدارہے۔ جس شخص کے پیش نظر قبر کے سوال ہوتے ہیں اور وہ ان سوالا ت کی تیاری کے لیے قرآنِ پاک، سنت اور احادیث کی روشنی اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے، وہ سمجھدار ہے۔

کاروباری لوگوں کے علم کے طرف رجحان کےحوالے سے ان کا کہنا تھا کہ علم کےمختلف درجے ہیں. ان میں پہلا درجہ پڑھا یا سنا جائے، دوسرا جو پڑھا یا سنا ہوا ہے، اس پر سوال کیا جائے، تیسرا پڑھے یا سنے ہوئے پر عمل کیا جائے، چوتھا علم کو دوسروں تک پہنچایا جائے، جب علم دوسروں تک پہنچایا جاتا ہے تو مزیدگرِہیں کھلتی ہیں، اور پانچواں صحبت ہے، صحبت سے صحیح علم تک رسائی ہوتی ہے، صحبت سے بندے کو علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے، علم کی پیاس ملتی ہے کیونکہ استاد علم کی پیاس دیتا ہے۔ ایک صحت مند ذہن کی نشانی یہ ہے کہ پچھلا علم نئے علم سے کم تر لگے، اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ گروتھ نہیں ہو رہی۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ جس کو ایک دفعہ سن لیا جاتا ہے، اس کوحرفِ آخر سمجھ لیا جاتا ہے. پروفیسر احمد رفیق اخترصاحب کہتے ہیں کہ جہالت اور عقیدت کی سرحدیں ساتھ ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ جب بندہ عقیدت میں ہوتا ہے تو اس کے اندر جو سوالات ہوتے ہیں وہ اس سے نہیں ہو پاتے، جب سوال ہی نہیں ہوتے تو پھر علم ایک سطح پر آ کر رک جاتا ہے۔ آج کل کاروباری لوگوں میں بھی دانشور اور صوفی بننے کا شوق پیدا ہوا ہے، یہ اچھی بات ہے کہ وہ لوگ جن کے اندر اپنے علم کے اظہار کی صلاحیت ہے، انہیں اپنےعلم کو دوسروں تک ضرور پہنچانا چاہیے۔ جو دانشور یا صوفی بننا چاہتے ہیں، انہیں ضرور بننا چاہیے، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں صوفی بنا دے۔

کیا دانشور بنا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے علی عباس نے کہا کہ دانشوروں کو ان کے شاگرد دانشور بناتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بچپن سے ہی بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں، ان کے پاس لوگ آ کر بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں، ان سے سوال کرتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اپنے مسائل اور ادھرادھر کی باتیں کرتے ہیں، اس طرح ایک ماہ میں کم از کم سو سے زیادہ لوگ ان سے ملتے ہیں، جس کی وجہ سے نئے سوالات، معلومات کا انہیں پتا چلتا ہے، اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، اسی چیز سے وہ سیکھتے ہیں۔ انسان اس فیلڈ میں غیر ارادی طور پر آتا ہے، اور غیر ارادی طور پر ہی اس کی گروتھ ہوتی رہتی ہے۔ جس نے پلان کیا ہے کہ میں نے دانشور بننا ہے، وہ فلسفہ میں، مذہب میں یا نفسیات میں علم حاصل کرے، دانشوروں اور نیک لوگوں کی محفل میں بیٹھے آہستہ آہستہ وہ بھی دانشور بن جائےگا۔

جو لوگ دوسروں کی ہسٹری اور حالِ دل کا پتہ لگا لیتے ہیں، ان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی عباس کہتے ہیں کہ کم و بیش انسان کے پانچ مسائل ہیں، ان میں پہلا مسئلہ محبت، دوسرا روزگار، تیسرا بیماری، چوتھا گھریلو جھگڑے، اور پانچواں مسئلہ جادو ٹونہ وغیرہ ہے۔ معاشرے میں جتنے بھی مسائل ہیں، وہ انھی کے گرد گھومتے ہیں۔ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو کامیاب بھی ہو، اس کی شادی بھی خوبصورت لڑکی سے ہوئی ہو، وہ سیر و سیاحت بھی کرتا ہو، اچھے کھانے بھی کھاتا ہو اور اس کی صحت بھی اچھی ہو، کوئی نہ کوئی مسئلہ ہر شخص کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔ عام طور پر مرد کو روزگار کا مسئلہ ہوگا، لڑکے لڑکی کو عشق کا مسئلہ ہوتا ہے، میاں بیوی کو اپنے بچوں کی شادی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ عامل لوگوں کا روزانہ ہزاروں لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، وہ بار بار ان پانچ مسائل کے متعلق جان کر ایکسپرٹ ہو جاتے ہیں، اس لیے جب کوئی ان کے پاس آتا ہے تو وہ دیکھتے ہی بتا دیتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ مسئلہ ہے. ہزاروں لوگوں کے ملنے کی وجہ سے ان کا مشاہدہ بہت زیادہ مضبوط اور اچھا بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی میں زیادہ لوگوں سےملاقاتیں نہیں ہوئی ہوتیں، لیکن پھر بھی وہ دیکھ کر مسئلہ بتا دیتے ہیں، ایسےلوگوں کی صلاحیتیں عام انسان سے بہت زیادہ ہوتی ہیں اور ان کی پاس روحانی علم بھی ہوتا ہے. یہ بہت زیادہ تسبیحات اور ذکر اذکار کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتے ہیں۔

علی عباس منیر بھٹی سے بہت متاثر ہیں، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز غربت سے کیا اور آج وہ ارب پتی ہے۔ منیر بھٹی میں بہت زیادہ خود اعتمادی ہے، بہت زیادہ نقصانات ہونے کے باوجود بھی اپنے اعتماد کو نیچے نہیں آنے دیتے، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میرے گھریلو اخراجات تین لاکھ روپے ہیں، میرا منافع جب تین لاکھ سے کم ہوتا ہے تب میرا آلارم بجتا ہے، اس سے پہلے تو پیسہ بنکوں میں اوپر نیچے ہوتا ہے۔ اس لیے میں کیوں فضول میں اپنے آپ کو پریشان رکھوں۔ علی عباس کا کہنا ہے کہ مجھےاس بات سے بہت زیادہ چڑ ہے کہ مغرب کے لوگوں کو پروموٹ کیا جائے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا ذکر بھی ہونا چاہیے لیکن جہاں بات پروموٹ کی آئے، تو وہاں پر منیر بھٹی جیسے لوگوں کو پروموٹ کرنا چاہیے تاکہ ان کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی متاثر ہوں اور ان میں بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو ۔