دعا اور خوشی - حنا نرجس

کیمروں کی فلیش لائٹس کا رخ سٹیج سے بھی زیادہ اس میز کی طرف تھا جہاں بہت ہی خوبصورت، گول مٹول، بڑی بڑی روشن آنکھوں والی، پیارے سے گوٹا کناری والے لباس میں ملبوس دو بچیاں ایک خاتون کی گود میں براجمان تھیں. ان کی دلکشی کی سب سے بڑی وجہ شاید ان کی خوش مزاجی تھی. ہر دیکھنے والے کو گہری و خالص مسکراہٹ سے نوازتے ہوئے وہ بے پناہ داد سمیٹ رہی تھیں.

شادی کی تقریب میں شریک زیادہ تر نوجوان بچیاں اسی میز کے گرد اکٹھی تھیں اور بچیوں کی ماں سے سوال پر سوال کیے جا رہی تھیں.
’’آنٹی، یہ آپ کی بیٹیاں ہیں؟‘‘
’’یہ دونوں جڑواں ہیں نا؟‘‘
’’ان کی عمر کتنی ہے، آنٹی؟‘‘
’’اللّٰہ! یہ کتنی پیاری ہیں. بالکل باربی ڈول کی طرح.‘‘
’’مما، ان سے کہیں ایک بہنا ہمیں دے دیں.‘‘ چھ سالہ زوّار اپنی ماں کے دوپٹے کا کونا کھینچتے ہوئے مطالبہ کر رہا تھا. غالباً اس نے بھی سچ مچ کی گڑیاں پہلی بار دیکھی تھیں.

لگتا تھا ان گڑیوں کی ماں لوگوں کے ایسے تعریفی کلمات اور سوالات کی عادی تھی، اسی لیے مسکرا مسکرا کر انہیں جواب دے رہی تھی. دعا اور خوشی کو وہ جہاں بھی اپنے ساتھ لے جاتیں، لوگ اسی طرح ان کے گرد اکٹھے ہو جاتے جیسے تارے چاند کو گھیرے میں لیے ہوتے ہیں اور یہاں تو چاند بھی ایک نہیں دو تھے.

وقت گزرتا گیا. دونوں کو جب بھی پکار پڑتی اکٹھے ہی پڑتی.
’’دعا اور خوشی! آؤ کھیلیں.‘‘
بلکہ گھر والوں نے تو درمیان سے حرفِ عطف کا تکلف بھی برطرف کر دیا تھا اور اس پکار کو "دعا خوشی!" تک مختصر کر ڈالا تھا.
اور مزے کی بات یہ کہ جب بھی ان کے منفرد ناموں سے متعلق سوال ہوتا، ان کے بابا بے حد شوق سے بتاتے، ’’مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بہت اچھی لگتی ہیں. میں ان کی پیدائش سے قبل اللّٰہ سے دعا کرتا رہا کہ یا اللّٰہ مجھے بیٹی عطا کرنا. اللّٰہ نے ایک ساتھ دو بیٹیوں سے نواز دیا تو بس اسی لیے ایک بیٹی کا نام دعا رکھ دیا کیونکہ وہ میری دعا کی مجسم شکل تھی اور اللّٰہ کے خصوصی احسان کے طور پر عطا کی گئی دوسری بیٹی میری خوشی کا سامان تھی لہذا اس کا نام خوشی رکھ دیا. دعا پہلے آئی دنیا میں اور خوشی اس کے فوراً بعد.‘‘

وہ دونوں کلاس فیلوز ہی نہیں، سیٹ فیلوز بھی تھیں. اور ٹیچرز حیران ہوتیں جب وہ دونوں ٹسٹ میں ایک جیسے نمبرز لیتیں اور امتحانات میں بھی ایک جیسی پوزیشنز پر ہوتیں. وجہ صاف ظاہر تھی دونوں مل کر پڑھتی تھیں لہذا جہاں غلطی ہوتی وہ بھی ایک ساتھ ہی ہوتی اور ایک جیسے نمبرز کٹتے. چہارم کے سالانہ امتحانات میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دعا سیکنڈ پوزیشن پر رہی اور خوشی تھرڈ پر. خوشی کا رو رو کر برا حال تھا. اساتذہ، کلاس فیلوز گھر والے، سب اپنے اپنے طریقے سے سمجھا کر تھک گئے مگر خوشی کے آنسو نہ تھمتے تھے کہ میں اور دعا تو ہمیشہ ساتھ ساتھ ایک ہی پوزیشن پر رہے ہیں تو اس بار ساتھ کیوں نہیں؟ دعا نے بھی اس کی دل جوئی کی پوری کوشش کی مگر نتیجہ صفر. ایک نمبر کا فرق بھی معروضی امتحان میں ایک نقطہ غلط لگائے جانے سے ہوا. ’’محنت‘‘ کو ’’محبت‘‘ لکھ دیا گیا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   اپنی اصلاح آپ کیسے کریں - راحیلہ چوہدری

بالآخر دعا کو ہی ایک ترکیب سوجھی، کہنے لگی،
’’دیکھو خوشی، گنتی میں دو کے بعد تین ہی تو آتا ہے. اس کا مطلب ہے کہ ہم دونوں ساتھ ساتھ ہی ہیں، یعنی کوئی تیسرا ہمارے درمیان نہیں آ سکا.‘‘ بات وزن رکھتی تھی. خوشی نے بھی سر اٹھا کر دعا کی بات پر غور کیا اور ایک دم مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ دعا کی طرف بڑھا دیا جسے اس نے محبت سے تھام لیا.

دعا سکارف سر پر لپیٹے بہت خوبصورت آواز میں اپنا سپارے کا سبق دہرا رہی تھی. بابا بے ساختہ کمرے میں داخل ہوئے اور اس کا ماتھا چوم لیا.
’’دعا میری بہت اچھی بیٹی ہے.‘‘
’’اور خوشی کیوں نہیں، بابا؟‘‘
خوشی پیچھے سے آ کر بابا کے گلے میں بانہیں ڈال چکی تھی. وہ سکارف کی تلاش میں وارڈ روب میں گھسی ہونے کی وجہ سے بابا کی آنکھوں سے اوجھل رہ گئی تھی.
’’ہاں ہاں... کیوں نہیں، خوشی بھی میری بہت اچھی بیٹی ہے. وہ بھلا دعا سے پیچھے کیسے رہ سکتی ہے؟‘‘

آج چھٹی کا دن تھا اور دادا ابو کے گھر جانے کا پروگرام. بابا کی گاڑی خراب تھی لہذا طے پایا کہ موٹر سائیکل پر بابا پہلے کچھ سامان اور دعا کو لے جائیں گے اور اگلے چکر میں امی اور خوشی کو. دادی اماں کے پاس بیٹھے بمشکل آدھا گھنٹہ گزرا ہو گا جب انہوں نے دیکھا دعا کی آنکھوں سے ٹپا ٹپ آنسو بہہ رہے ہیں.
’’کیا ہوا میری بچی کو؟‘‘
’’دادو، میں خوشی کے بغیر نہیں رہ سکتی. اداس ہو جاتی ہوں. بابا آئے کیوں نہیں ابھی تک؟‘‘
’’آتا ہوگا، بچے، کوئی کام پڑ گیا ہو گا اسے.‘‘ دادی اماں نے بہلانے کی اپنی سی کوشش کی.
اور ادھر یہی حال خوشی کا تھا.
’’مما، بابا آئے کیوں نہیں؟ میں بہت ادھورا محسوس کرتی ہوں خود کو دعا کے بنا.‘‘ کہتے ہی دو آنسو آنکھوں سے ٹپک پڑے.
’’بری بات، خوشی... روتے نہیں... وہ آتے ہوں گے بس..‘‘

یہ بھی پڑھیں:   اپنی اصلاح آپ کیسے کریں - راحیلہ چوہدری

پنجم کلاس کے مڈ ٹرم قریب تھے جب ایک دن ان کی مشترکہ دوست حلیمہ نے ایک دعوتی کارڈ دیتے ہوئے بتایا،
’’کل اسلامک سنٹر میں میرے ابو ایک لیکچر دیں گے. موضوع ہے، دعا کی قبولیت. تم دونوں بھی آنا. ایڈریس اس کارڈ پر ہے.‘‘
’’مگر ہمارے بابا ہمیں کبھی بھی اکیلے نہیں بھیجیں گے.‘‘
’’اوہو پریشان کیوں ہوتی ہو، آنٹی کو بھی ساتھ لے آنا نا. میں بھی تو اپنی امی کے ساتھ ہی جاؤں گی.‘‘

انہیں امید تو کم کم ہی تھی مگر بابا سے اجازت مل گئی. پہلا پہلا تجربہ تھا. لیکچر سے زیادہ ان دونوں کی توجہ ہال کی دیواروں پر لگے دعوتی پوسٹرز، تربیتی خاکوں، آنے والے دنوں میں ہونے والے مختلف پروگرامز کے ٹائم ٹیبلز، پانی کے کولر، چائے کی میز، ڈسٹ بن، اے سی، بجلی کے بورڈز اور سپیکرز کے اوپر چسپاں مختلف ہدایات پر مبنی کارڈز پر تھی، جب معزز مقرر کہنے لگے،
’’اور آخری بات کے طور پر یہ یاد رکھیں کہ دعا اور خوشی کا چولی دامن کا ساتھ ہے. یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہو سکتیں کیونکہ بندۂ مومن جب اپنی حاجت اور پریشانی اللّٰہ کے سامنے دعا کی شکل میں بیان کر دیتا ہے تو اس کو فوراً ایک خوشی اور طمانیت کا احساس اپنے دل میں ہونا چاہیے کیونکہ دعا دونوں طرح سے خوشی کا ہی باعث بنتی ہے. یا تو اپنی ظاہری شکل میں فوراً ہی قبول کر لی جاتی ہے یا یہ کہ بندہ اس کی قبولیت کی امید لیے خوش رہے حتی کہ اسی خوشی کی حالت میں اللّٰہ کے حضور پہنچ جائے اور وہاں اپنی دعا کے بدل بےبہا اجر پائے. کیونکہ دنیا میں اس کے قبول نہ کیے جانے میں اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے کوئی مصلحت رہی ہو گی. اگر آپ دعا کر کے خوشی محسوس نہیں کرتے تو اپنے ایمان کا جائزہ لیں کہ کیا واقعی آپ کو اللّٰہ کے ہر چیز پر قادر ہونے پر یقینِ کامل حاصل ہے؟ اور کیا..‘‘

یہ حصہ دعا اور خوشی نے نہ صرف یہ کہ بغور سنا بلکہ مسکراتی آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتی رہیں اور جب ان دونوں کی آنکھیں امی سے ملیں، وہ بھی محبت سے انہی کی طرف متوجہ تھیں.

قارئین، آپ بھی خیال رکھیے گا جہاں دعا ہوگی، وہاں خوشی کو بھی ضرور ہونا چاہیے!

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.