ایاز نظامی کی ’’جرات تحقیق‘‘ - جمیل اصغر جامی

میں ایاز نظامی کو نہیں جانتا۔ شور و غل مچا تو کسی صاحب کی طرف سے شیئر کردہ آئی ڈی سے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر سرسری نگاہ ڈالی تو پہلی نظر اس پوسٹ پر پڑھی: ’’ہجرت تو ہم نے بھی کی ہے لیکن اپنے بستر پر کوئی فیک آئی ڈی نہیں چھوڑی‘‘۔ میں یہ پڑھ کر حیرت مبتلا ہوگیا۔ پھر اور بھی سرسری سی نظر کچھ پوسٹوں پر دوڑائی تو اس ’’جراتِ تحقیق‘‘ کے پرت کھلتے چلے گئے جس کا اعلان موصوف نے کور فوٹو میں کیا ہوا تھا۔ ہجرت تو آنحضرتﷺ نے کی تھی اور اپنے بستر پر جناب علیؓ کو چھوڑا۔ حضرت علیؓ کی عمر اس وقت اکیس سال تھی۔ وہ بالغ و عاقل تھے اور اپنا فیصلہ کرنے کے مجاز تھے۔ انھوں نے برضا و رغبت اس سعادت کو قبول کیا اور آپﷺ کے بستر میں لیٹ گئے۔ ویسے بھی دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں (جن میں سیکولر مثالوں کی بھی بہتات ہے) سے بھری پڑی ہے کسی عظیم قائد کی جان بچانے کے لیے اس کے جانثار نہ صرف ڈھال بن گئے بلکہ اپنی جان تک وار دی۔ ادب و تاریخ میں یہ مثالیں ایک معتبر اسلوب کے ذیل میں نقل کی جاتیں ہیں نہ کہ ان کو ٹھٹھے اور مذاق کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ پھر وہ کون سے عوامل تھے جن کے پیش نظر حضورﷺ کو ہجرت کرنی پڑی؟ یہی نا کہ وہ یتیموں کا مال کھانے والوں کو وعیدیں سناتے، بیواوؤں کے حقوق کی آواز اُٹھاتے، غلاموں کے حقوق کا پرچار کرتے، انسانیت کو اپنے تراشے ہوتے اصنام سے ہٹا کر معبود حقیقی کی طرف متوجہ کراتے، ہر ہر انسان کو ایک دن مالکِ ارض و سما کی عدالت میں پیش ہونے کی خبر دیتے۔

اب ایسے میں وہ کون سی ’’جرات تحیقق‘‘ ہے، جو اس باب میں ایک سطحی مذاق کو جواز بخشتی ہے؟ ’’فیک آئی ڈی‘‘ میں لفظ ’’فیک‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اشارہ کس طرف ہے؟ کیا علی ابن ابی طالبؓ کو ایک فیک آئی ڈی کی سی حیثیت سے پیش کرنا، کسی کے جذبات مجروح کرنے کے زمرے میں نہیں آتا؟ اس طنزیہ مثال کے تہہ میں پوشیدہ تذلیل اور تحقیر کس قدر عیاں ہے۔ گویا ایاز نظامی کی ہجرت، حضورﷺ کی ہجرت سے اس لحاظ سے برتر ٹھہری کہ اول الذکر نے اپنے پیچھے کوئی ’’فیک آئی ڈی‘‘ نہیں چھوڑی؟ ایسی ’’جرات تحقیق‘‘ اگر آزادی رائے ہے تو پھر نفرت انگیز گفتگو (hate speech) کس چڑیا کا نام ہے؟ جب ایسا ہی طنز اور ٹھٹھہ اور اشتعال انگیزی ایک مذہبی شخص پھیلاتا ہے تو ایاز نظامی جیسے لوگ، اس کو ’’منافرت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور قرار واقعی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ منافرت بھی کبھی ’’مذہبی‘‘ ہوتی ہے اور کبھی ’’لبرل‘‘ اور قابل دراندازی قانون اسی وقت ہے جب یہ ’’مذہبی‘‘ ہو؟

[برسبیل تذکرہ بڑے بڑے ’’سلجھے ہوئے‘‘ لوگوں نے بھی ایاز نظامی کے فرمودات کو ’’شرف لائک‘‘ بخشا ہوا تھا۔ درست کہا جاتا ہے: ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔]

Comments

جمیل اصغر جامی

جمیل اصغر جامی

جمیل اصغرجامی شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور انگریزی ادب و لسانیات کے مضامین پڑھاتے ہیں۔ انگریزی، فلسفہ اور سیاسیات میں ماسٹر جبکہ لسانیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ سے لسانیات میں ریسرچ فیلوشپ کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔ مطالعہ اور تحقیق ان کا شوق ہے۔ ان کے تحقیقی مضامین مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.