کتب حدیث کے تراجم: پبلشرز کی خدمت میں - حافظ محمد زبیر

دوست نے سوال کیا ہے کہ ایک روایت میں پڑھا ہے کہ تین لوگوں کے پاس فرشتے نہیں آتے؛ کافر کی لاش، زعفران ملی خوشبو لگانے والا اور وہ شخص جو کہ حالت جنابت میں ہو یہاں تک کہ وہ وضو یا غسل کر لے۔ دوست کا سوال ہے کہ کیا یہ روایت مستند (authentic) ہے۔ ہمیں اس سوال کے جواب کے ساتھ کتب حدیث کے معاصر تراجم پر بھی کچھ بہت ہی ضروری بات کرنی ہے۔
اب ایک عامی شخص کو اس حدیث کے ترجمے سے شبہ پیدا ہوا ہے اور فورا اس کے ذہن میں سوال آیا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہو سکتی کہ اس میں خوشبو لگانے والے کے بارے کہا جا رہا ہے کہ اس کے پاس فرشتے نہیں آتے، حالانکہ یہ روایت صحیح ہے۔ حدیث کی کتابوں کے اردو تراجم کا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ حدیث کے قریب ہوتے لیکن بعض اوقات ترجمہ پڑھ کر تو ان کے شکوک وشبہات میں اضافہ ہوتا ہے اور حدیث پر ان کا اعتماد کم ہوتا ہے۔ ہمیں اس میں صرف ریڈر کو گالیاں نہیں دینی چاہییں کہ وہ معترض بے ایمان ہے بلکہ اپنے کام کو بھی ریوائز کر لینا چاہیے کہ کہیں ہمارے کام ہی میں تو نقص نہیں ہے؟

حدیث کے کتابوں کے معاصر اردو تراجم یا تو ناقص ہیں کہ ان کے ناقص ہونے کی وجہ سے ریڈر کے ذہن میں اشکالات اور شبہات پیدا ہوتے ہیں یا ملحدوں کو حدیث پر اعتراض کی کوئی دلیل ہاتھ آ جاتی ہے۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ ترجمہ تو کسی حد تک درست ہوتا ہے لیکن مناسب حواشی نہ ہونے کے سبب سے بات واضح نہیں ہوتی۔ مثلا اگر حدیث میں بیان شدہ واقعے کا پس منظر اور بیک گراونڈ واضح نہ ہو گا تو حدیث کی وضاحت نہیں ہو گی لہذا احادیث کے معاشرتی پس منظر پر کام نہ ہونے کی وجہ سے حدیث کی سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ لاجیکل کیسے ہے؟ یا احادیث کے تراجم پر حواشی تو ہیں لیکن وہی روایتی انداز کے ہیں اور معاصر ذہن کو ایڈریس کرنے والے حواشی موجود ہی نہیں ہیں، لہذا یہ تراجم حدیث سے دور کرنے کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

معاصر اور جدید ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث کے تراجم اور حواشی کا کام وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو ہم لوگوں کی گردنوں پر انکار حدیث کی تلوار رکھ کر ان سے حدیث پر ایمان کا مطالبہ کرتے رہیں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات علی وجہ البصیرۃ ہوتے ہیں، آپ کی ہر بات حکیمانہ اور لاجیکل ہوتی ہے۔ پس وقت کی اہم ضرورت ہے کہ قرآن مجید اور احادیث کے تراجم کو معاصر علمی اور ذہنی سطح کے ساتھ میچ کر کے لاجیکل انداز میں یوں بیان کر دیا جائے کہ اسے سنتے اور پڑھتے ہی ایک پڑھے لکھے ذہن میں اسلام پر اعتماد میں یقینی طور اضافہ ہو جائے۔ روایتی انداز میں پبلشنگ کا کام بہت ہو چکا، اب جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پبلشنگ کے کام کی ضرورت ہے جو کہ بالکل نہیں ہو رہا ہے۔

باقی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں زعفران ملی خوشبو عورتیں استعمال کرتی تھیں لہذا مردوں کو اس سے منع کر دیا گیا۔ یہ خوشبو لیکویڈ صورت میں زرد کلر یعنی شوخ پیلے رنگ میں ہوتی تھی جو خوشبو لگانے والے کے کپڑوں پر لگ جاتا تھا جیسا کہ بریانی میں فوڈ کلر ڈالا جاتا ہے۔ اب چونکہ شوخ پیلا رنگ عورتوں والا رنگ تھا لہذا مردوں کے لیے پسند نہ کیا، بلکہ آج بھی مرد اس کلر کو پسند نہیں کرتے۔ اور آج بھی مردوں اور عورتوں میں خوشبو کی تقسیم موجود ہے کہ باذوق مرد، عورتوں کی خوشبو استعمال نہیں کرتے اور باذوق عورتیں، مردوں کی خوشبو استعمال نہیں کرتیں۔ آپ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے انسانی ذوق میں نفاست پیدا فرمائی ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.