حدیث نہی عن المنکر - محمد ابوبکر صدیق

حدیث نہی عن المنکر کے حوالے سے محترم ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب دامت برکاتہ القدسیہ نے چند اہم سوالات کیے جن پر میں نے اپنی گزارشات پیش کیں، جو چنداں تغیر و تبدل کے ساتھ یہاں پیش کر رہا ہوں ۔

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی منکر کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ کی طاقت سے بدل دے۔ اگر کوئی یہ طاقت اپنے اندر نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی زبان سے کام لے۔ اور اگر کوئی اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو وہ اپنے دل میں اسے برا سمجھے۔ اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے۔ [سنن ابی داؤد، باب الامر و النہی، رقم الحدیث: 4340]
امام یحی شرف الدین النووی ؒ (676ھ) نے روضۃ الطالبین میں اس حدیث کے حوالے سے جو گفتگو کی، اس سے مستفاد یہی ہوتا ہے کہ حدیث مبارکہ میں معاشرتی مراتب کا ذکر کیا گیا ہے۔ [روضۃ الطالبين وعمدة المفتين، المكتب الاسلامي، بيروت)، 10: 221]۔

فقہا و محدثین کے مباحث پڑھنے کے بعد جو میں سمجھ پایا ہوں، وہ یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں معاشرے کے تین طبقوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے اختیار کا تعین کرتے ہوئے ان پر ذمہ داری لگائی۔ پہلا طبقہ حکومت وقت کہ جس کے ہاتھ میں زمام کار ہو، وہ ہاتھ سے روکے (اور یہ ہاتھ سے روکنا قانونی اتھارٹی ہی کی ذمہ داری ہو سکتی ہے)۔ دوسرا طبقہ معاشرے کے وہ لوگ جنہیں زبان و علم کی طاقت ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ برائی کے برائی ہونے پر لوگوں کو آگاہ کریں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ طبقہ قانون ہاتھ میں لینے کی استطاعت تو نہیں رکھتا۔ تیسرا طبقہ عوام الناس کا ہے کیونکہ وہ انام کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے اس حد تک یہ احساس بھی کافی ہے کہ وہ دل میں برائی کو برا کہیں اور اس حد تک اس احساس کا پایا جانا کسی بھی معاشرے کو مرنے نہیں دیتا۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریہ کی طاقت - محمد شاکر اللہ

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی ریاست میں منکر کا تعین ریاستی امور میں ریاست مذہب کی رہنمائی میں ہی طے کرے۔ اس بات پر فقہا کی رائے بھی یہی ہے کہ کسی چیز یا فعل کے منکر ہونے پر اتفاق ہو لیکن اگر اس کا منکر ہونا مختلف فیہ ہے تو اس پر اہل علم و صالحین کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی اقدام نہیں کیا جانا چاہیے۔ مائیکرو لیول پر یہ تین طبقے گھر کی سطح پر بھی پائے جاتے ہیں، لہذا وہاں بھی اس کا اطلاق کیا جا سکتا ہے کیونکہ گھر اپنی چار دیواری میں ایک ریاست ہے جس کا ایک سربراہ ہوتا ہے، وہ اپنی اُس ریاست میں برائی کو روکنے پر قادر ہوتا ہے لیکن اُس کی یہ قدرت اپنی ریاستی حدود سے باہر نہیں جانی چاہیے ورنہ مصلحت سے زیادہ فساد کا خطرہ ہے، اور یہ بھی ایک اصول ہے کہ جب مصلحت اور فساد ایک ساتھ آ جائیں، اور فساد کا پہلو غالب ہو تو مصلحت کو ترک کیا جاتا ہے، اور فساد کو روکا جاتا ہے. اس لیے کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کرے۔ اسی لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تینوں ذمہ داریاں بیک وقت کوئی بھی طبقہ اپنے ذمہ لینے کی کوشش کرے گا تو معاشرے کا امن خراب ہو کر رہ جائے گا۔ اور یہی اس موقف کا ایک قوی قرینہ ہے۔

پہلے طبقے کی بات ’’ہاتھ سے روکنا‘‘ اقتضاء النص تو وجوبی حکم پر دال ہے یعنی قانون کی اتباع لازم ہے۔ ہاں البتہ دوسرے دو طبقات کی بات زبان و دل میں برا جانیں یہاں حکم قضاء اختیاری ہو سکتا ہے کہ جسے نصیحت مشورہ کہا جائے لیکن دیانۃ وجوبی ہی رہنا چاہیے۔

ضعف ایمان سے کیا مراد ہے؟
امام السرخسی ؒ (483ھ) اپنی المبسوط، (2: 37)، امام القرافی مالکی ؒ (684ھ) اپنی الفروق، (4: 256) میں فرماتے ہیں کہ ’اضعف الايمان‘ میں ایمان سے مراد ایمان فعلی ہے یعنی عملا ایمان کی کمزوری مراد ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی ؒ (911ھ) حاشيۃ السندي على سنن النسائي ، (8: 112) میں فرماتے ہیں کہ شیخ عزالدین بن عبدالسلام ؒ کے نزدیک ’اضعف الايمان‘ میں ایمان سے مراد اعمال ہیں۔ علامہ ابن عابدین شامی ؒ (1252ھ) ردالمحتار (6: 348) میں ضعف ایمان کو انسان کی ذاتی کمزور حالت کے ساتھ جوڑتے ہیں جسے کم ہمتی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریہ کی طاقت - محمد شاکر اللہ

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس حدیث مبارکہ میں ایمان باطنی یا ایمان قلبی کی کمزوری مراد نہیں ہے۔ امام القرافی مالکی ؒ (684ھ) اپنی الفروق، (4: 256) میں فرماتے ہیں کہ اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ بڑے بڑے عزم و ہمت والے لوگ بھی کبھی کبھار برائی کو ہاتھ سے روکنے پر قادر نہیں ہوتے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ ان کا اللہ پر سے ایمان کمزور پڑ گیا ہے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جب دل میں برا جانیں گے تو اس سے ان کے ثواب میں کمی ضرور واقع ہوگی۔ اور اس کی تائید علامہ بدرالدین عینی حنفی ؒ (855ھ) سے بھی ہوتی ہے، وہ شرح سنن ابي داود (4: 486) میں لکھتے ہیں کہ ایمان کی کمزوری سے مراد یہ ہے کہ اسے کم ثواب ملے گا۔

اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایمانی قوت و ضعف کا اعتبار ہمتوں پر منحصر ہوتا ہے. صاحب عزیمت قوی ایمان جبکہ کم ہمت ضعیف ایمان کے مالک ہوتے ہیں، ضعف ایمان سے مراد ان کے اعمال پر حاصل ہونے والے ثواب کی زیادتی اور کمی مراد ہے۔ اس تناظر میں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ عوام الناس عموما کم ہمت واقع ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے یہی کہا گیا ہے کہ وہ صرف دل کی حد تک برا جانیں۔ ایک پولیس کیس میں عوام کی ہمت کی قلعی کھل جاتی ہے۔ لہذا حدیث پاک میں عمومی واقعاتی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمان (افعال و اعمال) کے تین طبقات کے اعتبار سے بات کی گئی ہے ۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.