بلوچستان یونیورسٹی کا کردار - ببرک کارمل جمالی

بلوچستان میں کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں مگر ان سب میں اعلی مقام بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کو حاصل ہے. بلوچستان یونیورسٹی صوبے کی واحد یونیورسٹی ہے جو ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیے جانے کے بعد 1970ء میں قائم کی گئی. کوئٹہ شہر سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اور دو ہزار ایکڑ کے قریب رقبے پر پھیلی یونیورسٹی میں کلاسز کا آغاز اس کے قیام کے دو سال بعد ہوا. 1972ء میں میں بلوچستان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر کرار حسین مرحوم تھے جن کی سربراہی میں ایم اے اور ایم ایس سی کا پہلا بینچ 1973ء میں فارغ ہوا. اس وقت طلبہ و طالبات کی تعداد صرف 33 تھی.

بلوچستان یونیورسٹی کے قیام سے صوبے کے طلبہ و طالبات میں تعلیم کی لگن بڑھنے لگی، بڑی تعداد میں داخلے ہونے لگے تو یونیورسٹی میں مزید بلاک بنائے گئے. 1980ء میں آرٹس فیکلٹی اور سائنس فیکلٹی کے الگ الگ خوبصورت بلاک بنانے کے ساتھ یونیورسٹی کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے درخت اور پودے لگائے گئے. یونیورسٹی کو اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا کہ اسی سال اسے ملک کی سب سے خوبصورت یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہوگیا. آج پاکستان کی اس سب سے خوبصورت یونیورسٹی سے نوجوان مختلف فیکلٹیز میں ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں جن میں مینجمنٹ سائنس، بزنس، سوشل سائنسز، ارتھ اینڈ انوارمنٹل، لائف سائنسز شامل ہیں. درس و تدریس کے شعبے سے تقریبا 500 اساتذہ منسلک ہیں. پی ایچ ڈی کی بھی تقریبا 60 ڈگریاں جاری کی گئی ہیں جبکہ تقریبا 45 اساتذہ بیرون ملک پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں.

بلوچستان یونیورسٹی کا اصل مقصد تحقیقی عمل کے ذریعے علم اور تحقیق کو بڑھانا ہے، اس کے لیے ایم اے اور ایم ایس سی کی تعلیم کے دوران تحقیقی مقالہ لکھنے سمیت فنکشنل انگلش کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ طلبہ اور طالبات میں تحقیق کا طریقہ اور اہمیت اور شعور پیدا کیا جا سکے. یونیورسٹی میں جدید طریقوں سے طلبہ اور طالبات کو علم کی روشنی سے روشناس کروایا جا رہا ہے. چاک اور بلیک بورڈ کے بجائے ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعے اندرون ملک اور بیرون ملک سے لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے. اس کے ذریعے طالب علموں کو سمجھنے اور پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے. تمام شعبوں میں کمپیوٹر لیب اور لائبریری کی سہولت موجود ہے اور مرکزی لائبریری دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ہے جس میں لاکھوں کتابیں اور رسائل موجود ہیں. ویڈیو کانفرنس ہال میں ملکی اور غیر ملکی لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور مختلف موضوعات پر لیکچر سنے جاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان یونیورسٹی اورطلبا تحریک کا آغاز - گہرام اسلم بلوچ

گورنر بلوچستان یونیورسٹی کے سربراہ ہیں، مختلف انتظامی اداروں کی صدارت بھی کرتے ہیں جبکہ یونیورسٹی نے اعلی تعلیم کے لیے 21 ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ مفاہمتی سمجھوتوں پر دستخط کر رکھے ہیں. بلوچستان یونیورسٹی 1990ء تک صوبے کی واحد یونیورسٹی تھی جو ہزاروں طلبہ اور طالبات کو اعلی تعلیمی سہولیات فراہم کر رہی تھی، بعد سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی، انجنیئرنگ یونیورسٹی خضدار. آئی ٹی یونیورسٹی، سائنس یونیورسٹی اوتھل بھی قائم ہوئیں.

بلوچستان یونیورسٹی کو صوبے کے تعلیمی اداروں کی ماں ہونے کا اعزاز حاصل ہے. یونیورسٹی کے90 فیصد طلبہ و طالبات مختلف اداروں میں فرائض انجام دے رہے ہیں، اور ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف تحقیقی شعبوں میں کام کر رہے ہیں. حال ہی میں وزیراعظم نے گوادر میں نئی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے مگر پرانی یونیورسٹیوں کو کیا ری ماڈل نہیں کیا جا سکتا، کیا ان یونیورسٹیوں میں سی پیک کی وجہ سے چینی زبان سیکھائی جائے گی؟ یا یہ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں دیتی رہیں گ