خواب کون نہیں دیکھتا؟ ندا منظور

خواب کون نہیں دیکھتا؟ بینائی سے محروم افراد بھی خواب دیکھتے ہیں، ہاں خوابوں کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے. خواب ضرور دیکھنے چاہیے، ان کی تعبیر پانے کے لیے ضروری ہے محنت، انتھک محنت، منزل کا تعین کر لیا جائے تو خوابوں کی تعبیر مل جایا کرتی ہے۔ جو انسان اپنی منزل کا تعین نہ کرے، اور راستوں کی لمبائی، چوڑائی اور دلکشی کو دیکھ کر قدم اٹھانا شروع کر دے، وہ جتنی تیزی سے چلتا ہے، اتنا ہی منزل سے دورہوتا چلا جا تا ہے. ایسے انسان کے لیے نجات سے زیادہ ہلاکت کی کئی صورتیں نکل کر سامنے آتی ہیں، منزل پر پہنچنے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، درست سمت میں سفر جاری بھی ہو مگر ایک لمحے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غلط سمت سفر ہو رہا ہے، ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے؟ اس کی وجہ راستے میں کھڑے وہ لوگ ہوتے ہیں جو حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرتے ہیں، مگر لوگوں کی باتوں سے بےنیاز ہو کر اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔

پاکستان کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا، حقیقی تعبیر دینے کے لیے مسلمان محمد علی جناح کی قیادت میں متحد ہوگئے. برصغیر کے مسلمانوں کے لیے پاکستان ایک منزل کا نام نہیں بلکہ ایک راستے کا نام تھا. مسلمانان ہند اس کٹھن راستے کو طے کر کے اپنی منزل تک پہنچے، لاالہ الااللہ کی نیت کر کے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے اور اسے حاصل کر لیا. اگر کوئی عقل سے عاری یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں نے کوئی ترقی نہیں کی تو یقینا اسے یا تو حالات سے مکمل آگاہی نہیں یا پھر کسی اور وجہ سے حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔

تاریخ نے ہمیشہ انھی لوگوں کو یاد رکھا جنہوں نے ’’میں کچھ نہیں کرسکتا‘‘ کی زنجیریں توڑتے ہوئے سب کچھ ممکن بنایا. حضرت اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا ’’اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے‘‘ ہر انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ لوگ اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھیں، اگر آپ دنیا پر اپنے نقوش ثبت کرنا چاہتے ہیں تو پھر صرف سوچوں کے بھنور میں ہچکولے کھانے سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے، بے مقصد خلا میں بھٹکنے والوں کو منزل کبھی نصیب نہیں ہوتی، منزل کا تعین کر کے ہی چلا جائے تو منزل پر پہنچا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

بڑے خواب بیان کرنے والے لوگ جونہی اپنے خوابوں کا ذکر کرتے ہیں تو چاروں طرف سے کاٹ دار جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دوست احباب کے پاس جب اس حقیقت کو دلیل کے ساتھ رد کرنے کا کوئی جواز نہ ہو تو یہ کہہ کر دل چھلنی کر دیا جاتا ہے کہ باتیں تو بہت کرتے ہو، جب کچھ کرو گے تو دیکھ لیں گے. ہم چھوٹے سے آئیڈیاز پیش کرنے پر لوگوں کے مذاق کا نشانہ بنتے ہیں تو جنہوں نے ہوائی جہاز، انجن اور دوسری ایجادات کے آئیڈیاز پیش کیے ہوں گے، ان کا کیا حشر ہوا ہوگا؟ ان کی خوابوں کی تذلیل کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک عجیب سا احساس ہونے لگتا ہے. معاشرے میں انہیں بیوقوف، شیخی باز اور نہ جانے کیسے کیسے القابات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ کامیابی کا راز بڑے خواب دیکھنے میں ہی ہے۔

کامیاب لوگوں کے پاس آئیڈیاز کے ساتھ ویژن بھی ہوتا ہے، وہ اپنی منزل کو لے کر سفر کرتے ہیں، ان کی نگاہ عقابی ہوتی ہے جس طرح عقاب بلندی پر ہی اپنے شکار پر نظر مرکوز رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تب تک نظر نہیں ہٹاتا جب تک وہ اپنا شکار اچک نہ لے، اسی طرح یہ لوگ بھی تب تک ڈٹے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی منزل حاصل نہ کر لیں. جس طرح عقاب تندی باد مخالف سے بھی نہیں گھبراتا بلکہ اس کو اپنی طاقت بنا کر اپنی اڑان اونچی کرتا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی اپنی منزل کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں، مزاحمتوں اور مخالفتوں کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اپنی طاقت بنا کر منزل تک پہنچتے ہیں، کامیاب لوگوں کے فیصلے دوسروں کی دماغی صلاحیتوں کی محتاج نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذات کے معاملے کو وہ خود ڈرائیو کرتے ہیں۔

دنیا میں جن لوگوں نے بڑے خواب دیکھے اور ان کی تعبیر مرضی اور منشا کے مطابق ڈالی ان میں ایک امریکی صنعت کار ہنری فورڈ بھی ہیں، جی ہاں فورڈ کاریں جو ہر سڑک پر دوڑتی نظر آتی ہیں، ان کا مالک ہنری فورڈ، فورڈ کمپنی امریکہ کی دوسری اور دنیا کی پانچویں بڑی آٹو میکر کمپنی ہے، 2009ء میں اس کی آمدنی 3 سو بلین ڈالر تھی جو اب پانچ سو بلین ڈالر میں تبدیل ہوگئی ہے، اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد دو لاکھ بیس ہزار ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں. ہنری 1836ء میں پیدا ہوا، اس کے والدین کسان تھے جب ہنری بڑا ہوا تو سکول جانے لگا، سکول سے واپسی پر مویشیوں کو چارہ ڈالتا، کھیتوں کو پانی دیتا. اس کا شمار مثالی طالب علموں میں ہوتا تھا. ایک دن اس کا باپ شہر جانے لگا، ہنری نے باپ سے ضد کی کہ وہ بھی شہر جائے گا، باپ نہ مانا، مگر بالآخر اس کی ضد کے آگے ہار مان گیا. ہنری جب باپ کے ساتھ شہر پہنچا تو اس نے شہر میں گاڑیاں اور بلند و بالا عمارتیں دیکھیں. یہی وہ وقت تھا جب ہنری نے اپنی آنکھوں میں خواب سجائے، وہ واپس گاؤں آیا تو اپنے معمول کے کاموں کے ساتھ ساتھ اس کے دماغ میں اپنے خوابوں کی تعبیر کے منصوبے بھی بن رہے تھے. سولہ سال کی عمر میں اس نے گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا، اور ایک موٹر مکینک کے ہاں کام سیکھنا شروع کر دیا. ہنری کام سیکھنے کے معاملے میں کبھی بھی عار محسوس نہ کرتا، سترہ سال کی عمر میں اس نے اسٹیم انجن آپریٹ کرنا سیکھ لیا۔ 1869ء میں ہنری کی ملاقات تھامس ایڈیسن سے ہوئی، یہ ملاقات ان کی دوستی میں تبدیل ہوگئی دونوں ایک دوسرے کے کام آتے رہے. 1903ء میں اس نے فورڈ کمپنی کی بنیاد رکھی، جب اس نے موٹر کمپنی بنائی تو اس وقت 87 دوسری کار کمپنیاں امریکہ میں کام کر رہی تھیں لیکن فورڈ کے ویژن نے سب کو مات دے دی. فورڈ نے ہر قسم کےگاہکوں کو فوکس کیا، اس طرح اس کی پراڈکٹ کی مانگ بڑھتی گئی، اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ فورڈ دنیا کی بڑی آٹو میکر کمپنیوں میں سے ایک کمپنی بنی۔

یہ بھی پڑھیں:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

ہنری نے صرف ایک خواب دیکھا تھا، وہ کسی سرمایہ دار کی اولاد نہ تھا، اس کے وسائل بھی محدود تھے، خواب کی تعبیر تک پہنچنے کا سفر کٹھن اور راستہ ناہموار تھا، مگر ہنری نے اپنی محنت، کام سے لگن اور خود اعتمادی سے اپنے خواب کو تعبیر تک پہنچایا اور ایک پیغام دیا. خواب جتنا بھی بڑا بھی ہو، اس کی تعبیر ممکن ہے اگر محنت اور لگن کو شعار بنایا جائے۔