خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا - عابد محمود عزام

ہر سال 23 مارچ کی سپیدہ سحر کی کرنیں قوم کو یہ واضح پیغام دیتی ہیں کہ غلامی کے ماحول کو پس منظر میں دھکیلنے کے لیے جرات و ہمت، پختہ ارادہ اور اپنے موقف اور اصولوں پر ڈٹے رہنا ضروری ہے۔ اس دن مسلمانوں کے سمندر بے کراں نے ایک آزاد مسلم وطن حاصل کرنے کا عزم مصمم کیا اور انگریز کی عداوت اور ہندو کی منافقت کے باوجود عزم و ہمت کے باعث اپنے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کے زوال کے بعد انگریزوں اور ہندووں نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ اور ناانصافی پر مبنی متعصب رویہ اپنائے رکھا۔ تمام تر ظلم و ستم کا نشانہ خصوصی طور پر برصغیر کے مسلمان بنتے رہے اور انگریزوں کی طرف سے بھی مسلمانوں پر ظلم کا ہر طریقہ آزمایا گیا، لیکن مسلمانوں نے کسی بھی موڑ پر غلامی کو قبول نہیں کیا اور مسلسل آزادی کے حصول کی جدوجہد کرتے رہے۔ مایوسی کبھی بھی ان کے قدموں کی زنجیر نہ بن سکی۔ جب انگریزوں نے برصغیر سے سب کچھ لوٹ لیا تو جاتے جاتے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہندوﺅں کی شاطر قوم کی غلامی میں دینے کا منصوبہ بنایا۔ ہندو چونکہ پہلے سے ہی مسلمانوں کے ساتھ انتہا درجے کی دشمنی رکھتے تھے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ”برصغیر کے اصل مالک ہم ہیں اور برصغیر میں صرف ایک ہی قوم آباد ہے اور وہ صرف ہندو قوم ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ہندوﺅں کے ماتحت رہنا ہوگا۔“ جس کے مقابلے میں قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال سمیت متعدد مسلمان رہنماوﺅں نے دو قومی نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق مسلمان اور ہندو کسی صورت بھی ایک قوم نہیں ہوسکتے، مسلمان ایک الگ قوم ہے۔ ان کی ہندوﺅں سے ہرچیز جدا ہے۔ ان کی ثقافت و معاشرت، کھانا، پینا اور رہنے کا طریقہ تک مختلف ہے۔ مسلمان اور ہندو سڑک کے دو کناروں کی طرح ہیں جو کبھی بھی آپس میں نہیں مل سکتے۔

ہندو چونکہ مسلمانوں کو انگریزوں کے بعد ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، اس لیے مسلمانوں کا ہندوﺅں کی ہر بات کو رد کرنا ان پر بہت ہی گراں گزرا۔ جس کی پاداش میں انہوں نے مسلمانوں کو تنگ کرنا شرع کر دیا۔ جبکہ دوسری جانب برصغیر میں ہندو اور دیگر غیر مسلم لوگ، مسلمانوں کی اسلامیت سے متاثر ہو کر دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہو رہے تھے، ہندوﺅں کو یہ بات برداشت نہ ہوئی، جس کی وجہ سے برصغیر کے ہندو مسلمانوں کے خلاف مزید بھڑک اٹھے اور مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ جب بھی انہیں اقتدار و قوت حاصل ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور مختلف اداور میں ہندوﺅں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مذہبی تحریکیں چلائی گئیں۔ ان حالات کے پیش نظر مسلمانوں کو اےک علےحدہ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا، کیونکہ مسلمانوں نے جان لیا تھا کہ جب تک مسلمان الگ سے اپنا ملک حاصل نہ کرلیں اس وقت تک ہندو انہیں چین سے جینے نہیں دیں گے۔ لہٰذا وہ الگ ملک پاکستان کی آزادی کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ مسلمان پاکستان کی آزادی کے لیے مکمل طور پر پر امید تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا: ”پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جس دن ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے نہ کہ وطن اور نسل۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا، وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہوگیا، ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آگئی۔“

اسی سلسلے میں 23 مارچ 1940 کو اقبال پارک لاہور میں لاکھوں انسان پورے برصغیر سے جمع ہوئے۔ پہاڑوں کا سا عزم لیے انسانوں کے امڈتے سمندر کا جوش قابل دید تھا۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کی گئی، جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936/1937 میں جو پہلے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلم لیگ کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ اس وجہ سے مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹنے لگے اور ان پر ایک عجب بے بسی کا عالم تھا، لیکن جب نئے ملک کے حصول کی خاطر ٹھاٹھے مارتے انسانوں کے سمندر نے لاہور میں جمع ہوکر قرارداد پیش کی تو اس کے بعد مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور انہوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ اپنا الگ ملک حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ پورے برصغیر میں آزادی کی تحریک نئے عزم کے ساتھ شروع ہو گئی۔ انگریزوں اور ہندووں نے تحریک آزادی کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن پاکستان کے مطالبے سے مسلمان کسی بھی قیمت پر پیچھے نہ ہٹے، ان کے اذہان و قلوب میں صرف آزادی کا لفظ گردش کر رہا تھا۔ مسلمان آزادی کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور بالآخر اپنا الگ ملک پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   کفر کے فتوے اور کرنے کا اصل کام - بشارت حمید

23 مارچ کو منٹو پارک میں مسلمانوں نے ایک ایسے ملک کے حصول کا عہد کیا تھا، جس میں امن، چین و سکون سب کچھ ملے گا۔ جہاں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ بدیانتی و بدنیتی نہیں ہوگی۔ بدعنوانی و خیانت کو اس ملک میںکہیں بھی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ ظلم و زیادتی کا دور دور تک نام ونشان نہیں ہوگا۔ لوگ پیار و محبت سے رہیں گے۔ کسی کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہوگا، امیر وغریب کے لیے قانوں یکساں ہوگا اور سب سے بڑھ کر ملک میں اسلام کا نفاذ ہوگا، لیکن یہاں تو سب کچھ اس کے برعکس ہوا، ہم بہت جلد ہی قیام پاکستان کے مقصد کو بھول کر باہم سرپھٹول میں مشغول ہوگئے۔ اِس کا گریبان اس کے ہاتھ میں اور اس کا دامن اِس کی گرفت میں۔ پارٹی بازی، لسانی منافرت، فرقہ ورانہ لڑائیاں، دہشت گردی، سیاست دانوں کی خرمستیاں، اوپرسے نیچے تک کرپشن، میرٹ کا قتل عام، عدالتوں کی بے وقعتی، انصاف کاخون، تعمیر کی جگہ تخریبی ذہن کی پرورش، مثبت کی جگہ منفی سوچ کافروغ، امن و امان اور تحفظ کے بجائے خوف و دہشت اور خون ریزی و سفاکی کے جراثیم کی پرورش، غرض ہم نے مل جل کر قوم و ملک کی تباہی کا ہر سامان کیا۔ ہم نے کرپشن میں ساری قوموں کو پیچھے چھوڑدیا۔ دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ ہمارے حکام اور وزرا کی عیش سامانیاں دیکھ کر امریکا اور روس جیسے متمول ممالک کے حکمران انگشت بدنداں رہ گئے۔ امیر و غریب کے درمیان خلیج بڑھتی گئی۔ قانون صرف غریب کے لیے اور امیر نے خود کو ہر قسم کے قانون سے آزاد سمجھا۔ ہم اور ہمارے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے مقاصد کے منافی ہر کام کیا۔ حکمرانوں نے ملک کی دولت دل کھول کر لوٹی اور عوام نے جہاں جس کا بس چلا قانون شکنی کی اورغیرقانونی کام کیا۔ یہ ہے وہ نقشہ جو آزادی کے69 سال گزرنے کے بعد آج ہمارے سامنے ہے، جبکہ لاکھوں جانوں کے نذرانے دے کر الگ ملک حاصل کرنے کا مقصد اسلام کے سنہری اصولوں کا نفاذ تھا، جن کے ہوتے ہوئے ملک کا کوئی بھی شہری اپنے حقوق سے محروم نہیں رہ سکتا، لیکن ہم نے قیام پاکستان کے بعد قیام پاکستان کا مقصد بھلا دیا تو ہمیں آج یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں کہ اس ملک میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

پون صدی پہلے جس مقصد کے لیے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دی تھیں، آج اس مقصد کو بھلا دیا گیا ہے۔قیامِ پاکستان کا مقصد صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کر لینا ہی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچ، فکر، نظریے اور اصول و قانون کی ترویج کے لیے ایک فلاحی و مثالی مملکت بنانے کا خواب تھا، جس کو مسلمانانِ برصغیر نے برسوں اپنی آنکھوں میں سجایا تھا۔ بلاشبہ پاکستان کا قیام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک نایاب تحفہ تھا، بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے ایک معجزہ بھی تھا۔ یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ قیامِ پاکستان کی تحریک کے دوران مسلمانوں میں جس نعرے نے جوش وخروش پیدا کیا، وہ یہی تھا : ”پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ“، جو یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا قانون و نظام نافذ کر کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کا مقصد صرف ایک ریاست کا قیام ہی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام تھا، جہاں اسلام کے اصولوں کے مطابق معاملات طے کیے جائیں اور اسلام کو ہی ضابطہ حیات بنایا جائے، اسی مقصد کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیے، لیکن قیام پاکستان کے بعد سب نے مل کر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے خواب کو پورا نہ کیا اور اسلام کے قوانین کو صرف کتابوں تک محدود رکھا، عملی طور پر اس کو یہاں نافذ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کفر کے فتوے اور کرنے کا اصل کام - بشارت حمید

علامہ محمد اقبال کہتے ہیں: ”میں ہندوستان اور اسلام کے بہترین مفاد میں ایک الگ مسلم ریاست کے بنانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اسلام کے لیے یہ ایک موقع ہوگا کہ عرب ملوکیت کے تحت اس پر جو پردے پڑ گئے تھے، ان سے چھٹکارا حاصل کرسکے اور اپنے قوانین، تعلیمات اور ثقافت کو اپنی اصل روح کے ساتھ روح عصر سے ہم آہنگ کرسکے“ اور اپنے خطبہ الٰہ آباد میں پاکستان کی اساس کچھ یوں بیان کی: ”ایک سبق جوکہ میں نے مسلمانوں کی تاریخ سے سیکھاہے کہ اپنی تاریخ کے اس نازک ترین مواقع پر یہ اسلام ہی ہے جوکہ مسلمانوں کو نجات عطاکرے گا، نہ کہ اس کے برعکس کچھ اور…لہٰذا آپ اپنی نظر کو اسلام پرمرکوز رکھیں۔“ اسی طرح علامہ اقبال نے 28مئی1937ءکو ایک خط میں بانی پاکستان محمد علی جناح کولکھا: ”اسلامی شریعت کانفاذ اور ترویج مسلمان ریاست یاریاستوں کے قیام کے بغیرناممکن ہے اور میرا یہ یقین ہے کہ پاکستان کے معاشی اور معاشرتی مسائل کاحل اسی میں ہے۔“ قائد اعظم محمد علی جناح بھی قیامِ پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر قیامِ پاکستان کے مقاصد کو نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتے رہے ہیں۔ قائداعظم نے31 جنوری 1948ءکواسلامیہ کالج پشاور کے جلسہ میں حصولِ پاکستان کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: “ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔“ 25/جنوری 1948ءکو کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کہا : ”میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا، جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا۔ اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے۔ میں ا یسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہوچکے ہیں، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ یہاں غیر مسلمانوں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔“ 4/ فروری 1948ءکو سبی میں خطاب کے دوران فرمایا: “میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر ہے، جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔“بمبئی میں خطاب کرتے ہوئے کہا:” اگر کوئی چیز اچھی ہے تو عین اسلام ہے۔ اگر کوئی چیز اچھی نہیں ہے تو یہ اسلام نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کا مطلب عین انصاف ہے۔“ یقیناً ہم سب نے مل کر ان بزرگوں، ان کی قربانیوں اور قیام پاکستان کے وقت اپنی جانوں کے نذرانے دینے والوں کی ناقدری کی ہے۔ انہوں نے 23 مارچ کو پاکستان بنانے کا عہد کیا تھا اور اسے پورا کرکے دکھایا، آج ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس ملک کی حفاظت کا عہد کریں اور اسے پورا کر دکھائیں۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.