مزاح کی حقیقت اور ایک سعودی عالم دین کی پھلجھڑیاں - محمد فیصل شہزاد

کچھ لوگ ہمیں کھوپچے (ان باکس) میں آ کر کہتے ہیں کہ آپ مزاح زیادہ کرنے لگے ہیں… کوئی کہتا ہے کہ میاں! آہستہ آہستہ پٹری سے اتر رہے ہو آپ… ایک سسٹر فرماتی ہیں کہ آپ اتنے بڑے’عالم‘ ہیں، آپ کو سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے…
ارے محترمہ! بات سنیے ذرا… پہلی بات تو یہ کہ میں عالم نہیں … میٹرک پاس ایک عام بندہ ہوں… اور دوسری بات یہ کہ یہ کب سے سمجھ لیا گیا کہ … مزاح کرنا، دوستوں سے دل لگی کرنا… پٹری سے اترنے کے مترادف ہے؟

اچھی طرح سمجھنے کی بات ہے کہ ہم نے فیس بک پر ’’کچھ‘‘ لوگوں کی طرح کوئی خانقاہ تو کھولی ہوئی ہے نہیں… اور نہ کسی قسم کا کوئی دعوی ہے… اس لیے حسب ضرورت، حسب موقع پوسٹس کر دیا کرتے ہیں… اور ہمیں یہ کہنے میں کوئی پریشانی نہیں کہ … کم ازکم ہمارا مقصد تو فیس بک پر اول درجے میں مثبت تفریح ہی ہے… دوسرے درجے میں دوستوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہے… تیسرے درجے میں’’اصلاح‘‘ ہے… کسی کے ذریعے ہماری ہو یا ہمارے ذریعے کسی کی … ہاں جی… کیوں کہ یہ اصلاح اور رشد و ہدایت کی جگہ بنیادی طور پر ہے ہی نہیں… یہ بنیادی طور پر ابلاغ کا فورم ہے… اس سے آپ دنیا سے جڑیے اور خوش رہیے…!

دراصل قصور ان ساتھیوں کا بھی نہیں… عام طور پر یہ ہی سمجھا جاتا ہے کہ جس کا بظاہر دین داروں جیسا حلیہ بھی ہے، وہ بڑا خشک مزاج ہوگا… لوگ سمجھتے ہیں کہ دینی اقدار انسان کی طبیعت سے لطافت اور زندگی میں فطری دلچسپی کاخاتمہ کر دیتی ہیں… یہ خیال بالکل غلط ہے، بلکہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے… اصل دین داری تو وہی ہے جوحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ کرام کی زندگیوں کے مطابق ہو… اس زندگی کو دیکھیں تو ہمیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم بکثرت مسکراتے نظر آئیں گے…پرلطف باتیں کرتے دکھائی دیں گے… سیرت میں کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش مزاجی کے گواہ ہیں… یعنی اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے، ہنسی مذاق، تفریح طبع اور مسکراہٹ، سنت سے ثابت ہے.

اس لیے ہمیں تو لوگوں کو یہ بتانا چاہیے کہ دین دار ہو کر بندہ کوئی قیدی نہیں بن جاتا، اس کی ہنسی اور مسکراہٹ چھن نہیں جاتی… بلکہ اللہ کے فضل وکرم سے دینی ماحول میں حقیقی ہنسی اور پاکیزہ مسکراہٹ کے تحفے جگہ جگہ ملتے ہیں کیونکہ اللہ کی اطاعت میں آنے کے بعد دل مطمئن ہوتا ہے اور روح خوشی سے سرشار ہوتی ہے… اس کے برعکس جو دین سے جتنادور ہوگا، اس کی ہنسی اتنی ہی کھوکھلی اور اس کی مسکراہٹ بالکل مصنوعی ہوگی!

یہ بھی پڑھیں:   میں ایک میاں ہوں - پطرس بخاری

البتہ جیسا کہ پہلے عرض کیا… موقع محل اور جگہ کی بات ہے ورنہ… الحمدللہ جس ’’جگہ‘‘ احتیاط کا پہلو ناگزیر ہے… وہاں تو بفضل خدا ا تنے محتاط ہیں کہ انتہائی محترم والدہ بلکہ دادی کی عمر کی ضعیف خواتین جن کاعلم، تقویٰ اور پرہیزگاری کا دل سے معترف ہوں… ان سےحتی الامکان بات نہیں کرتا…اور یہاں بھی دوست جانتے ہیں کہ ہماری فرینڈ لسٹ میں خواتین نہیں ہیں… خیر آپ کو بہت بور کر لیا… آئیے ایک سعودی عالم دین کی مسکراتی باتیں پڑھیے اور غور کیجیے!

شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علمائے کبار کمیٹی کے رکن ہیں… ان کا شمار فی البدیہ اور فوراً فتوا دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے… اپنی بذلہ سنجی، ظرافت اور پر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں… ٹی وی پر براہ راست پروگراموں میں ان سے پوچھے گئے سوالات کے جواب سننے کے لائق ہوتے ہیں… ذیل میں ان کے کچھ دلچسپ جوابات پیشِ خدمت ہیں:
٭
ایک عورت نے ٹیلیفون کر کے اپنا مسئلے کا حل پوچھا… شیخ صاحب نے جواب دے دیا تو عورت نے شیخ صاحب سے کہا: شیخ صاحب، میرے لیے دُعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ میرے نصیب میں شیخ محمد العریفی سے شادی لکھ دے۔
شیخ صاحب نے سائلہ سے پوچھا: تم شیخ محمد العریفی سے شادی اس کے خوبرو ہونے کے باعث کرنا چاہتی ہو یا اس کے علم کی وجہ سے؟
سائلہ نے جواب دیا: شیخ صاحب، میں ان سے شادی ان کے علم کی وجہ سے کرنا چاہتی ہوں۔
شیخ صاحب نے جواب دیا: تو پھر شیخ صالح السدلان اس سے زیادہ بڑے عالم ہیں…میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تمہاری شادی شیخ صالح السدلان سے کرادے!
(واضح رہے کہ شیخ محمد العریفی ایک نوجوان اور’’میری‘‘ طرح نہایت ہی خوبرو عالم دین ہیں … جب کہ شیخ صالح السدلان صاحب نہایت ہی ضعیف العمر عالم دین ہیں)
شیخ صاحب کی بات سُن کر پروگرام کا کمپیئر اس قدر زور سے کھلکھلا کر ہنسا کہ کافی دیر تک اپنے آپ پر قابو بھی نہ پا سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   میں ایک میاں ہوں - پطرس بخاری

٭
سعودی چینل کی براہِ راست نشریات میں ایک سائل نے شیخ صاحب کو ٹیلیفون کر کے پوچھا… شیخ صاحب میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے… اب کس طرح اُس سے رجوع کروں؟
شیخ صاحب نے جواب دیا: میرے بھائی طلاق ہمیشہ ہی غصے کی حالت میں دی جاتی ہے… کیا کبھی تم نے ایسا سنا یا دیکھا ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ مزے سے بیٹھا تربوز کے بیج چھیل کر کھا رہا تھا؟

٭
البتہ ایک بار خود شیخ کے ساتھ اِس طرح ہوا کہ ایک مصری سائلہ نے ٹیلیفون کر کے پوچھا:
شیخ صاحب! میرے خاوند کا میرے ساتھ بہت ہی غلط رویہ ہے… میری کوئی بات نہیں مانتا!
شیخ صاحب نے جواب دیا۔ تم اسے اپنے اچھے اخلاق کے جادو سے قابو کرو۔
سائلہ نے پوچھا: یہ جادو میں یہاں سے کرواؤں یا واپس مصر جا کر کرواؤں؟

٭
ایک پروگرام کے دوران یمن سے ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا:
شیخ صاحب، میرے موبائل میں قرآن شریف کی بہت سی تلاوت بھری ہوئی ہے… کیا میں موبائل کے ساتھ بیت الخلامیں جا سکتا ہوں؟
شیخ صاحب: ہاں جا سکتے ہو… کوئی حرج نہیں!
سائل نے سوال دہرایا: شیخ صاحب!میں موبائل میں قرآن شریف کے بھرے ہونے کی بات کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب: میرے بھائی! کوئی حرج نہیں…قرآن شریف موبائل کے میموری کارڈ میں ہوگا… تم اسے ساتھ لے کر بیت الخلامیں جا سکتے ہو۔
سائل: لیکن شیخ صاحب یہ قرآن کا معاملہ ہے… اور بیت الخلامیں ساتھ لے کر جانا اچھا تو ہرگز نہیں ہے ناں!
شیخ صاحب:کیا تمہیں بھی کچھ قرآن شریف یاد ہے؟
سائل: جی شیخ صاحب مجھے کئی سورتیں زبانی یاد ہیں…
شیخ صاحب: تو پھر ٹھیک ہے، اگلی بار جب تم بیت الخلاجاؤ تو اپنے دماغ کو باہر رکھ جانا۔

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!