مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام کی شکست - مراد علوی

غالبا 2010ء میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کی تقریر ’’اسلام اور مغرب‘‘ سنی تھی جس میں مدارس دینیہ کے بارے میں ایک واقعہ سنایا اور آخر میں رینڈ کارپوریشن کی مشہور رپورٹ کا مختصر ذکر بھی فرمایا۔ بعد میں ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی لال مسجد کے بارے میں تقریر تھی جس میں انہوں نے اس رپورٹ پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ رپورٹ لکھنی والی شیریل برنارڈ مشہور افغان نژاد زلمے خلیل زاد کی اہلیہ ہیں. یہ ایک کتاب کی صورت میں بھی شائع ہوچکی ہے۔جس کا نام ہے
Civil Democratic Islam: Partners, Resources, and Strategies

اس وقت میری عمر کم تھی، چونکہ دانشوری کا یہ سیلاب بھی نہیں تھا اور نہ پڑھنے کا عام رجحان تھا، یہ باتیں ہمارے لیے کافی حیرت انگیز تھیں۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو اس رپورٹ کے بارے میں نہ جانتے ہوں۔ میرا مقصد صرف یاد دہانی ہے کہ اس چیز پر ہر وقت نظر رکھنا ضروری ہے۔

مغربی تھنک ٹینک صرف ریسرچ نہیں کرتے بلکہ وہ کسی ’’خطرے‘‘ کو سپردخاک کرنے کے لیے عملی تجاویز بھی دیتے ہیں، یہ ان کی امتیازی خاصیت ہے۔ سیموئیل پی ہنٹنگٹن کے بارے میں بھی اکثر لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے بھی عملی تجاویز دی تھی۔ یہاں پر اس رپورٹ کی عملی تجاویز کی یاددہانی مقصود ہے، تاہم اس رپورٹ میں مسلمانوں کو جس طرح تقسیم کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔

(1) بنیاد پرست Fundamentalist:
بنیاد پرست وہ جو اسلام کو ایک نظام زند گی مانتا ہو، ان کی نظر میں اسلام ایک سسٹم ہے۔ اس سے ان کی مراد احیائی تحریکیں ہیں۔

(2) قدامت پسند Traditionalist
قدامت پسند یا روایت پرست سے ان کی مراد علما یا مدارس سے وابسطہ طبقہ ہے۔

(3) سیکولرسٹ Secularist
سیکولرزم کی وہ عام تعبیر جو ہمارے یہاں سمجھی جاتی ہے

(4)ماڈرنسٹ Modernist
مذہب کو Rationalize کرنے والے یا عام زبان میں ہم جن کو ’’متجدیدن‘‘ کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے صاحب - محمد فہد صدیقی

اس تقسیم کے بعد عملی تجاویز دی گئی ہیں۔

٭Support the modernist first
سب سے پہلے ماڈرنسٹ کو سپورٹ کریں۔ ان کی ہر قسم امداد کی جائے اور حکومتی سرپرستی میں ان کو خوب پروموٹ کیا جائے۔
اس بات کے لیے ایک اور مضبوط دلیل ڈاکٹر صبا محمود (جو برکلے یونی ورسٹی میں پروفیسر ہیں) کا ریسرچ آرٹیکل ہے
Secularism, Hermeneutics, and Empire: The Politics of Islamic Reformation
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ Moderate Islam is the imperail Interest
یہ امریکہ کا پراجیکٹ ہے اور ایک خاص قسم کی انٹیلیکچول اپروچ کو میڈیا کے ذریعے پرومٹ کیا جا رہا۔ اس کا عملی مظاہرہ مشرف دور میں ہوچکا ہے۔ کل بھی مفتی منیب الرحمان نے لکھا ہے کہ ہم میڈیا کی نظر میں ناپسندیدہ ہیں اور غامدی صاحب پسندیدہ۔ تفصیل کے لیے صبا محمود کا مضمون پڑھیے۔
اس تجویز میں NGOs کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور اس پراجیکٹ کے لیے بھی مذہبی طبقے کا خوب استعمال ہو رہا ہے۔ ایک طرف ماڈرنسٹ مذہبی اور دوسری طرف سے روایتی مذہبی حلقوں سے علماء اس کی تکمیل میں مصروف ہوتے ہوئے اس خام خیالی میں ہیں کہ یہ ’’آزادی کی نیلم پری ہے‘‘

٭ دوسری اور خطرناک تجویز جو امت کی شیرازہ بندی بکھیر رہی ہے
Support the traditionalists against the fundamentalists
روایت پرستوں کو بنیاد پرستوں کے خلاف سپورٹ کرنا۔ ہمارے یہاں تو اس کا علمی مظاہرہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ جس نے بھی امت مسلمہ کی میراث گم گشتہ کی بازیافت کا علم اٹھایا، سب سے بڑی مخالفت روایتی طبقے نے کی ہے۔ بہرحال اب اس پر ہمارے لیے سوچنا چاہیے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ اس مذہبی نفاق نے سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی پہنچایا ہے، ہم اپنے خلاف برسر پیکار ہیں۔