آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟ نمرہ سرور

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت کو آبگینے سے تشبیہہ دی. ایک سفر کے دوران جبکہ ازواج مطہرات بھی آپ کے ساتھ اونٹنیوں پر سوار تھیں، تو آپ نے شتر بان سے فرمایا:’’اے الحبشہ! دیکھنا یہ آبگینے ہیں.‘‘ (مسلم)
ایک اور جگہ پر آپ نے فرمایا: ’’عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو.‘‘
خاوند کے لیے آپ کا فرمان ہے: ’’تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین ہے.‘‘

یہ ہے اسوہ رسول جس کی نظر میں عورت آبگینوں کی مانند ایک قیمتی اور نازک ہستی قرار دی گئی ہے. عورت کی حفاظت کا، عورت سے حسن سلوک کا بار بار حکم دیا گیا ہے.
یہ حقوق نسواں کی عملی تصویر ہے جو مندرجہ بالا احادیث سے عیاں ہو رہی ہے.

آج دنیا بھر میں حقوق نسواں کے نعرے بلند ہوتے نظر آتے ہیں. انھی نعروں کی لپیٹ میں پاکستان سے حقوق نسواں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں. حالیہ یوم خواتین 8 مارچ 2017ء پر ملکی سطح پر سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا. میڈیا ’’عورت، عورت‘‘ کی رٹ لگاتے ہوئے نظر آیا. بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ اپنے حقوق سے آگاہی عورت کو حاصل ہو رہی ہے، لیکن ٹھیک 14 دن بعد 21 مارچ 2017ء کو یہ کھوکھلے نعرے دم توڑ گئے، جب مملکت خداداد کی ایک مایہ ناز یونیورسٹی میں طالبات کے پروگرام پر نام نہاد قوم پرستوں کی جانب سے حملہ کیا گیا. یہ نعرے دم توڑ گئے جب سارے میڈیا نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے عورت کی تذلیل سے نظریں چرا لیں، اور یہ نعرے دم توڑ گئے جب عورت کے حقوق کی علمبردار NGOs نے بھی اس ظلم پر لب سی لیے.
پڑے ہیں گم کٹہرے
عدالتیں چپ ہیں.

شاید قصوروار وہ طالبات ہی ہیں کیونکہ وہ طالبات اسلام کے نام پر اکٹھی ہوئی تھیں، کیونکہ وہ طالبات قرآن کی روشنی میں تجدید عہد کرنے بیٹھی تھیں، کیونکہ وہ طالبات حجاب اوڑھے ہوئے تھیں، کیونکہ وہ طالبات ان ریٹنگز کے بھوکے چینلز کی ریٹنگ نہیں بڑھا سکتی تھیں.
ہاں! یہ بہت بڑا قصور تھا ان طالبات کا کیونکہ ان کی پہچان اسلام ہے. ان کا قصور تعلیمی اداروں میں خدمت خلق ہے. ان کا قصور ہے کہ وہ اسلامی ملک کی یونیورسٹی میں قرآن کا ذکر کیوں چھیڑتی ہیں. اور ان کے قصور کی سزا یہی تھی کہ دو الفاظ بھی ان کے حق میں نہ بولے جائیں. بلکہ میڈیا ان کے اس ’’ناقابل تلافی جرم‘‘ کی سزا ان کی تذلیل کرنے والوں کے حق میں صدائیں بلند کرکے دیتا رہے.

یہ بھی پڑھیں:   اکیسویں صدی اور مسلمان عورت - ام محمد عبداللہ

ہاں! اے عرت مآب بیٹیو! یہی تمھاری سزا ہے، لیکن یاد رکھنا کہ تمھارے رب کا تم سے جنتوں کا وعدہ ہے.
اور اے ملت اسلامیہ کے پاسدارو! اور ہر خبر پر نظر رکھنے کے نعرے لگانے والو! وہ رب موجود تھا، موجود ہے، اور موجود رہے گا. وہ رب پہلے بھی دیکھتا رہا ہے. اب بھی دیکھ رہا ہے، اور کل بھی دیکھتا رہے گا. وہ حساب لے گا، وہ سچ کو واضح کر کے دکھائے گا.. منتظر رہنا...!!