False-flag کی ناکامی - ام الہدیٰ

جناب ظلم کا نشانہ بننے والے تو پختون ہی تھے۔ آپ سب مانتے بھی ہیں لیکن تصویر کے اس رخ سے جس سے آپ کو ایک ایجنڈے پر کاربند میڈیا نے آگاہ کروایا۔ چلیں تصویر کا ایک اور رخ بھی دیکھ لیجیے جس سے میڈیا کے اس الاپے گئے راگ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

1۔ اپنے چہرے ڈھانپے، پگڑیاں باندھے، طالبات کے پنڈال میں آ کر للکارنے والے، دھکم پیل، جلاؤ گھیراؤ، اور پشتو زبان میں گالم گلوچ کرنے والے پختون نہیں تھے، بلکہ کرائے کے چند غنڈے تھے، جن کو بلوچ طلبہ کے کوٹے پر پنجاب یونیورسٹی میں اسی مقصد کے لیے مفت ایڈمشن، مفت رہائش، مفت تعلیم، مفت کھانے کے علاوہ تین ہزار روپے ماہانہ سکالرشپ پر رکھا گیا ہے۔ ان ہونہار طلبہ کو سات سال قبل پہلی بار پنجاب یونیورسٹی میں داخل کیا گیا، مگر اللہ کا کرنا کچھ ایسا ہے کہ آج تک کوئی ایک بھی گریجویٹ نہیں ہوا۔ یا پھر، یوں سمجھ لیجیے، کہ پاس نہیں کیا جاتا۔

2۔ کرائے کے غنڈوں پر محنت ہی اتنی کی گئی ہے، اور انھیں لسانی تعصب کی اتنی تربیت دی گئی ہے کہ ان کو پاس کر کے گنوا دینے کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔ جی جی۔ ان کو تیار کرنے والے اس یونیورسٹی میں ایکسٹینشن پر بیٹھے رہنے والے یہاں کے وائس چانسلر ہی تھے، جو عدالتی حکم پر عہدے سے برطرف کیے گئے۔ اس پلاننگ کے تحت ہونے والا 21 مارچ کا ہنگامہ اسی مقصد کی آبیاری کے طور پر تھا، جس کے مطابق اندرون و بیرون ملک یہ باور کروانا تھا کہ پنجابی اور پختون ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے، اور نہ اکٹھے رہ سکتے ہیں، لہٰذا ایک اور بٹوارا ضروری ہے۔ ظلم تو مذموم مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ان غنڈوں کے ساتھ بھی ہوا، مگر یہ ظلم کرنے والی جمعیت نہیں تھی۔

3۔ اسلامی جمعیت طلبہ، کہ جس کو میڈیا نے بیرونی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کا موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا، ان کے اپنے ناظمِ اعلیٰ خود ایک پختون ہیں۔ پشتو بولنے والے غنڈوں نے ذہنی تشدد کا نشانہ اس پختون سپوت کو یوں بنایا، کہ ان کی بےحمیتی کے خلاف آواز اٹھانے پر اس کے اپنوں میں سے چند لوگ بھی حواس باختگی میں اس کے خلاف اٹھنے لگے یہ کہہ کر کہ وہ غلط بول رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طلباء میں ڈیپریشن : وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

4۔ طالبات کے پروگرام میں مدعو کی گئی مہمان خصوصی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، خود ایک پختون ہیں، اور ایک بلوچ کی بہو ہیں۔ ان پشتو بولنے والے غنڈوں کو جب اپنی مادری زبان میں گالم گلوچ کرتے دیکھا تو ماں کی طرح ان کو سمجھانے کو آگے بڑھیں، مگر ماں جیسی کے یقین، اور مان کو ان بے حمیت لڑکوں نے یوں توڑا کہ اس کو بھی دھکم پیل میں گھسیٹ لیا۔
یہ تو تھے چند حقائق، جن کے واضح ثبوت بھی موجود ہیں، جن کو میڈیا نے کمال فن کے ساتھ جمعیت کے خلاف ہی استعمال کیا، پتہ ہے کیوں؟
کیونکہ معاملہ اسلام اور حجابی طالبات کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سب کے سب خاموش رہے، مصلحت پیشِ نظر رہی۔ (کیونکہ ہم سب کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور کوئی مخالفت مول لینے کی حماقت مہنگی پڑ سکتی ہے)۔

تربیت اور فنڈ دینے والے کو تو یہاں سے ہٹا دیا گیا، مگر اپنے کہے کا مان جا کر بھی رکھا کہ، ’’میڈیا کے ہاتھ میں میرا ہی دیا ہوا اسکرپٹ ہوگا!‘‘ جی یہ برطرف ہونے والے وائس چانسلر مجاہد کامران کے الفاظ ہیں، یعنی میڈیا کو جہاں سے نوازا جاتا ہے، اسکرپٹ بھی وہیں سے جاری ہوتا ہے۔ لیکن ان عناصر کو سوشل میڈیا کے اس دور میں سمجھ لینا چاہیے کہ false-flag (ایسے پوشیدہ عوامل جو اصل ذمہ دار کے بجائے کسی دوسرے کو ذمہ دار کے طور پر دکھا کر دیکھنے والوں کو دھوکہ دینے کے لیے تیار کیے جائیں) کا زمانہ اب نہیں رہا۔ اب تو سوشل میڈیا ہی کافی ہے آپ کے سارے عزائم اور اوچھے ہتھکنڈوں کی دھجیاں بکھیر دینے کے لیے۔

جی ہاں! اس لبرل اور ایک خاص طبقے کے ایجنڈے پر چلنے والے اس میڈیا میں کچھ حقائق دکھانے والے لوگ بھی ہیں، جس کا ایک مظہر بلال قطب کا پروگرام ہے، جہاں وائرل ہونے والی ویڈیو کی حقیقت پٹنے والے لڑکے کے انٹرویو نے کھول دی، اور کرائے کے غنڈوں کو پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی تربیت دیتے ہوئے، یونیورسٹی کے ترجمان کی ویڈیو بھی پیش کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   طلباء میں ڈیپریشن : وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

آخر میں ایک پیغام میڈیا کے ان ’’محتاط کھلاڑیوں‘‘ اور ان کے موقف کی تائید کرنے والے ان معصوموں کے نام جن کے پیٹ میں اسلام یا اسلامی تعلیمات کا نام لیتے ہوئے مروڑ پڑنے لگتے ہیں۔ آپ جس ملک میں سیکولرزم کا پرچار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اس کا وجود اسلام کی وجہ سے ہی ہے۔ اگر مقصد اسلام نہ ہوتا، تو اس ملک میں لڑی گئی کسی جنگ، کسی آپریشن کا کوئی جواز نہ ہوتا۔ قرآن سے اخذ کردہ اصطلاحات پر آپریشنز کے نام رکھنے کا اور کون سا جواز ہے؟ ردالفساد، اور ضربِ عضب میں بہنے والے خون کے کسی ایک قطرے کا بھی جواز نہ ہوتا اگر مقصد اسلام نہ ہوتا۔ یہ کیسی منافقت ہے جو اپنے جوانوں کا خون گرمانے کے لیے تو اسلام کو محرک بنانا سکھاتی ہے، اور یہی لبرل طبقہ اور میڈیا اس کے گن گاتا ہے، مگر پھر اسلامی تعلیمات کو ظلم اور جبر بھی کہا جاتا ہے، اور نوجوان نسل میں ان تعلیمات کا پرچار کرنے والوں کو ظالم بھی؟

اس بات میں تو کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں کہ اس سرزمین کا قیام اسلام کے نام پر ہوا۔ واحد مسئلہ یہ ہے کہ آپ سے یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے یا نہیں۔ البتہ ایک بات جان لیجیے کہ اس مملکتِ خداداد میں آپ کے بوسیدہ، سیکولر بیانیے کی دال نہیں گلنے والی۔ ان شاء اللہ

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.