ٹاک شوز - خواجہ مظہر صدیقی

سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کوئی معمولی چیز نہیں. ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں کہ وہ اس صلاحیت سے بہرہ مند ہو. یہ ایک منفرد صلاحیت ہے. جس سے ہمارے ہاں کے شاید بیس پچیس فیصد لوگ مالا مال ہوتے ہیں. انہی افراد کو باقی کے ستر پچھتر فیصد لوگوں کے لیے بھی سوچنا اور سمجھنا پڑ جاتا ہے.

میرے ذہن میں ایک خیال نے جنم لیا اور پھر سوچ کو دستک دی. پھر سوچنے کا عمل شروع ہو گیا. سوچ یہ تھی کہ ہمارے وطن عزیز میں ٹی وی چینلوں پر یہ جو شام سے رات گئے تک ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے. اس کے پیچھے کیا کہانی اور مقاصد کارفرما ہوتے ہیں. کن عالی دماغوں کی یہ کارستانی ہے اور کون اس طرح کے ٹاک شوز کو پسند کرتا ہے. عجیب نہیں کہ جس وقت گاؤں کے لوگ اپنے کتے کھلے چھوڑتے ہیں. کتے بھونکنا شروع کرتے ہیں. عین اس وقت ہمارے چینلوں پر نام نہاد قوم کے ترجمان اپنی زبان درازی و شعلہ بیانی کی خاطر آن موجود ہوتے ہیں.

مایوسی، الزام تراشی اور نفرت و عدوات کے کیل گاڑھتے اور بیج بوتے یہ ٹاک شوز اس وقت تک جاری رہتے ہیں جب تک ناظرین کے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہو جاتا. وہ تنگ آ کر اپنے ٹی وی سیٹ کو آف نہیں کر دیتے.

حیرت تو ہمیں بھی ہوتی ہے کہ نیوز چینلوں کے اتنے بڑے بجٹ سے مستفید ہونے والے ڈائریکٹر و اینکرز بھلا کس کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں. جس قسم کی صحافت و صلاحیت کے جوہر وہ قوم کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں. کیا یہ تعمیری کام ہے یا تخریبی کاروائیاں؟ یا یہ نام نہاد مکتب سیاست کے خدمت گاروں کی خدمت؟ عجیب غلاظت اور گندگی جھاگ کی مانند میزبانوں اور مہمانوں کے منہ سے نکل رہی ہوتی ہے. زہر آمیز و نفرت انگیز مکالمے ادا ہو رہے ہوتے ہیں.

ہم جانتے ہیں سیاست کے حمام میں سب ننگے اور اس میدان میں سب بدعنوانی کے چیمپئین ہیں. مگر پھر بھی مصالحے دار اور چٹ پٹے ٹاک شوز مسلسل ہمارے اعصاب کا امتحان لے رہے ہیں. کسی کو سچ کی تلاش ہے. کوئی خبر میں سے بال کی کھال اتار رہا ہے. مقابلے اور ریٹنگ کی دوڑ میں ہر ایک نہلے پہ دہلا ہے. ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر بکواسی ہے.

سچ کہوں تو شاید بہت سوں کو ناگوار لگے کہ شام ڈھلے چینلوں پر جو جھوٹے اور فریبی لوگوں کا بازار سجتا ہے. اسے سجانے والے ملک کے خیر خواہ ہیں اور نہ قوم کے درد میں مبتلا.. بلکہ یہ تو اپنی باتوں کا مول وصول کرنے والے ہیں. کوئی گھنگرو پہن کر ناچے اور اس کی قیمت وصول کرے اور کوئی زیادہ سے زیادہ بکواس کر کے اپنی بولی بڑھوا کر وصولی کر جاتا ہے.

شام سے سجنے والا یہ بازار رات گئے تک کتنے ہی لوگوں کی بے عزتی و بے توقیری کا فریضہ سر انجام دینے کے بعد ختم ہو جاتا ہے. معلوم نہیں پگڑیاں اچھالنے اور الزامات لگانے، نان ایشوز کو چمکانے اور آسمان سر پہ اٹھانے کا یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ میرا خیال ہے کہ جب تک حقیقی معنوں میں سوچنے اور سمجھنے والے افراد ان شعبوں میں نہ آئیں گے اور اس گند کو صاف کر کے نئے ٹرینڈز متعارف نہیں کروائیں گے. تب تک میڈیا کا گراف بھی بلند نہ ہو سکے گا. جانے کب قوم کو پرائم ٹائم میں صاف ستھرے اور منفرد پروگرام دیکھنے کو مل سکیں گے.

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.