تعلیمی ادارے اور ثقافتی پروگرام - مجیب الحق حقی

پنجاب یونیورسٹی میں لڑائی جھگڑا ہوا۔ عامر خاکوانی صاحب کی مدلّل تحریر کے بعد اس سلسلے میں کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے، مگر ایک پہلو ضرور توجّہ چاہتا ہے کہ ہماری انتظامیہ خواہ یونیورسٹی کی ہو یا مرکز کی، ان کو اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ امن و امان کی ذمہّ داری ایک بڑی ذمے داری ہے۔ یہ سارا فساد مچا ہی اشتعال کی وجہ سے۔ ایک گروہ کے طلبہ کلچرل پروگرام سے مشتعل ہوکر حملہ آور ہوئے تو ردّ عمل میں دوسرا مشتعل گروہ خواتین سے الجھا۔ یہ افسوسناک صورتحال اکثر ہوتی ہے کہ جب کلچر کے فروغ کے نام پر تعلیمی اداروں کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ اب تو اسکولوں میں بھی ناچ رنگ شروع ہوگئے ہیں۔

یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اس حساس معاملے میں طلبہ تقسیم ہیں، پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کو کیا یہ معلوم نہیں تھا، تو ایسے متنازعہ پروگرام کی اجازت ایک قابل احترام تعلیمی ادارے میں دینا ہی فساد کو دعوت دینا ہوا۔ اگر قدامت پسندوں کو زچ کرنا ہی مقصود تھا تو ویسے ہی سیکیورٹی دینی تھی کہ سب تلملاتے رہتے اور آپ فتح یاب ہوتے۔ کلچر کے نام پر بیہودگیاں تو پورے ملک میں اور میڈیا پر ہو ہی رہی ہیں، اور یہ حکومت ان کو ڈھیل بھی دے رہی ہے۔ اب اس کی اجازت اگر تعلیمی اداروں میں بھی دی گئی تو یہ کہاں جا کر رکے گی۔ اس طرح تو مدرسوں میں بھی ناچ گانے شروع کرا دیں کہ بین المذاہب رواداری بڑھے گی۔

سوال یہ ہے کہ ریاست کیوں سوئی رہتی ہے؟ ان معاملات پر ایک واضح پالیسی بناکر اس کا اعلان ہونا چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں صرف تعلیمی سرگرمیاں اور مخصوص غیر نصابی سرگرمیاں ہی ہوں گی۔ ہر انسٹی ٹیوٹ کا ایک تقدّس ہوتا ہے، اس کے احترام کے پیرائے حکومت کو واضح کرنے چاہییں۔ حکومت ایسی قانون سازی کر دے کہ تعلیمی اداروں کی مناسب تعریف کی جائے اور ان کی کیٹیگری کے حساب سے ان کے اندر غیر نصابی سرگرمیوں کی مناسب حد بندی کر دی جائے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ آزادی اظہار کے پیرائے اور ان کی حدود کا تعیّن حکومت کی ذمّہ داری ہے۔ ایسے اقدامات فوری طور پر ہونے چاہییں کہ معاشرے کے کسی طبقے کی حق تلفی بھی نہ ہو اور اداروں کا تقدّس بھی مجروح نہ ہو۔

جس کو ناچنا گانا پسند ہے تو ناچے گائے، ہلّہ گُلّہ کرے، اس کی بہت سی جگہیں ہیں، کون روکتا ہے لیکن آپ اگر یہ اصرار کریں کہ آپ جہاں چاہیں جاکر تھرکنا شروع کردیں اور کوئی اعتراض نہ کرے، تو یہ بھی اشتعال انگیزی اورانتہا پسندی ہے۔ وہ مخصوص ادارے جہاں ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں ناچ گانے پر تو کوئی لڑنے نہیں جاتا۔ کوئی بتائے کہ آرٹس کونسل پر کسی طلبہ تنظیم نے کبھی حملہ کیا؟ اگر حکومت اپنی ذمّہ داریوں سے پہلوتہی کرے گی تو عوام کو مشتعل کرنے والے اور شیر ہوں گے۔ اسلامی شعائر اور تعلیمی اداروں کا احترام حکومت نہیں کرائے گی تو کون کرائے گا؟ یہی لاپرواہی کا طرز عمل ہم میں ہی سے لوگوں کو انتہا پسند بناتا ہے، وہ آسمان سے نہیں ٹپکتے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.