میڈیا کی کالی چادر میں چھپی پنجاب یونیورسٹی کی کہانی - ابوبکر قدوسی

میڈیا کی بات نہ کیجیے، اس نے عزت اور حیاء کی چادر اوڑھی ہی کب تھی جو اسے اترنے کی فکر رہے. رہا پاکستان ہمارا وطن ، بھلے کوئی مانے نہ مانے یہ ہمارے ان ’’میڈیائی فنکاروں‘‘ کی ترجیح کب رہا ہے؟ آج آپ نوٹ دکھائیں اور ان سے ان کی زبان خرید لیں، قلم سے تو اس طبقے کا تعلق پہلے ہی دور کا ہے، علم سے واسطہ ہی کوئی نہیں.
اس طبقے کا معیار صحافت دو چیزوں کےگرد گھومتا ہے.
ایک یہ کہ آپ جھوٹ کیسا اچھا بول سکتے ہیں؟
دوسرا آپ اونچا اورگلا پھاڑ کے کتنا بول سکتے ہیں؟

یہی حال زنانہ اینکرز کا ہے. وہاں گلا پھاڑنے کا عمل ذرا ’’دوہرا‘‘ ہو جاتا ہے، اور ظاہری صورت بھی اضافی ’’صلاحیت‘‘ ہوتی ہے. اگر آپ کو اچھی اردو نہیں آتی تو کیا ہوا؟ اگر آپ کو تاریخ کا، سیاسیات کا، جغرافیے کا رتی بھر بھی علم نہ ہو، کاہے کی فکر؟ سب چل جائے گا، بس صورت اچھی ہونی چاہیے.

میڈیا کا یہ ہلکا پن اگلے روز پنجاب یونی ورسٹی میں ہونے والے ہنگامے میں کھل کر سامنے آیا.
وہ بچہ ’ربیع الرحمن‘ جس کے بازو ٹوٹ گئے اور سر پر گہری چوٹ آئی، اسلامی جمعیت طلبہ کا تھا، دل خراش ویڈیو، بچیاں پس منظر میں چیخ رہی تھیں کہ نہ مارو، مر جائے گا، نہ مارو، لیکن انسان ایسا ہی وحشی ہوتا ہے، سو انہوں نے مارا اور خوب مارا.
اس واقعے میں میڈیا کی رپورٹنگ جانبدارانہ نہیں بلکہ ’’مجرمانہ‘‘ رہی.
کیا ہمارے میڈیا نے فیصلہ کر لیا ہے کہ محض اپنی بریکنگ نیوز، ریٹنگ اور مذہب دشمنی میں ہر وہ کام کر گزرنا ہے کہ جس سے چاہے پاکستان کی بنیادیں بھی کھوکھلی ہو جائیں؟ ملک برباد ہو جائے؟

یہ سوال کیوں نہیں اٹھا کہ ایک لسانی تنظیم کو رقص و سرود پر مبنی پروگرام کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
سوال کیوں نہیں اٹھتا کہ کیا اب تعلیمی ادارے کسی فلمی سٹوڈیو کا منظر پیش کیا کریں گے؟
انتظامیہ کی اس غیر ذمہ داری اور مجرمانہ غلفت پر ان سے باز پرس کون کرے گا؟

ہم مانتے ہیں کہ جمیعت کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے تھا، اگر کوئی رقص و موسیقی کا پروگرام ہونے جا رہا تھا تو اسے وقت سے پہلے انتظامیہ سے بات کرنا چاہیے تھی، ورنہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تھا، ایک سٹے آرڈر اس پروگرام کو بند کروا سکتا تھا. لیکن اس واقعے کے بعد میڈیا کا جو سیاہ چہرہ سامنے آیا، گو وہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن سوال تو مکرر اٹھے گا کہ جانب دارانہ رپورٹنگ کی کیا حد ہوتی ہے؟ جمیعت کی طالبات کے کیمپ پر حملہ ہوا لیکن اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا، لیکن جمعیت چونکہ ’مولویوں‘ کا سمبل ہے، مذہب کا کنایہ ہے، سو اہل مذہب کی کردار کشی کے واسطے دو روز خوب دھول اڑائی گئی.

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں جعلی اسلام کی سر بلندی - ام یحییٰ

کیا ہمارا میڈیا اپنا ضمیر، دماغ، دل اور اخلاقی قدریں اور اپنے پیشہ ورانہ امور سب چند روپوں کے عوض بیچ چکا. یا صرف جمعیت کی مخالفت میں آپ سب صحافتی اقدار پامال کر دیں گے؟
کیا محض دل کو یہ تسلی کافی ہے کہ جو مرضی دکھا لو، جو جی چاہے چھپا لو، جس کی چاہے عزت اچھال دو، جس کو چاہو مظلوم اور ظالم کر دکھاؤ، بزنس تو چل رہا ہے نا. جناب ’’برقی صحافیان‘‘ بات تو سچ ہے مگر ’’بزنس‘‘ تو اس گلی کا بھی چل رہا ہے اور کبھی آپ سے فزوں تر.

اصل میں الیکٹرانک میڈیا کے مالکان ایک آدھ کو چھوڑ کر غیر صحافی ہیں، اور غیر نظریاتی تو وہ پہلے سے ہیں. ان کا نظریہ مکمل کاروبار ہے، سو خوب روپیہ بنا رہے ہیں، لیکن معاملہ روپیہ بنانے کا بھی نہیں، پہلے سے بنا ہوا ’’کالا روپیہ‘‘ بچانے کا ہے. آپ دیکھیں گے کہ بہت سے گروپ ایسے ہیں جن کے مالکان صحافی نہیں، اصل میں وہ دوسرے کاروباروں سے بے تحاشا مال بنا چکے تھے. اب اس کو محفوظ کرنے کا مرحلہ درپیش تھا، سو اس سے اچھی کیا صورت ہو سکتی تھی کہ اپنا چینل بنا لیا جائے.

رہے پرانے اور باضابطہ ورکر صحافی، وہ بھی تو اسی معاشرے کا حصہ تھے. کچھ پیٹ کے ہاتھوں مارے گئے، کچھ ’’تاریک راہوں‘‘ میں مارے گئے. اوپر سے مصیبت ہے کہ ولایتی شراب مہنگی بھی بہت ہو چکی ہے، کہاں تک صحافت کے ’’درد‘‘ کو سینے سے لگاتے. سو ان میں سے بہت سے ضمیر کے مینار پاکستان پر چڑھے، پھر کود کے خود کشی کر لی، اور اب بڑے بڑے نام سچی مچی قلم نہیں، دم سے لکھتے ہیں. آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دم صرف ہلانے کے کام آتی ہے، نہیں بھائی! کبھی کبھی لکھنے کے بھی کام آتی ہے.

بچ رہے جو ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ بےبس کونوں میں گھسے دل جلاتے ہیں. ہمارے ایک دوست ہیں، شاید تیس برس سے ایک بڑے گروپ میں ہیں. بےتحاشا امیر مالکان ان کو ذاتی طور جانتے ہیں کہ تین عشرے سے ہمارے ادارے میں ہیں. ایک بڑے اخبار کے ایک شعبے کے انچارج، دیانت داری شعار کی، سو چند ہزار روپے پر کام کر رہے ہیں، مزاج کے درویش ہیں، معاملہ چل رہا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے -اسماء طارق

دوسری طرف یہ جو چیختی چلاتی بیبیاں آپ کو نظر آتی ہیں نا، ان کی تنخواہ بسا اوقات کئی کئی لاکھ کو چھو جاتی ہے. اور اوپر کی آمدنی مستزاد کہ کسی کی مرضی سے بولو، کسی کا پول کھولو اس کے پیسے الگ، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کسی سے پوچھ لیجیے، جی ہاں! کسی بھی عام آدمی سے اس شعبے کے بارے میں رائے لیجیے، جو زبان بولے گا آپ بھی شرما جائیں گے. کیا یہ میڈیا والے نہیں جانتے کہ لوگ ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں، ان کو مکمل جھوٹا جانتے ہیں، ان کی بات پر اعتبار نہیں کرتے، اگر عزت بھی کرتے ہیں تو اس لیے کہ ان کے شر سے بچ سکیں. یقینا یہ سب جانتے ہیں، ان کو سب معلوم ہے لیکن روپے نے ان کی عزت نفس اس حد چھین لی ہے کہ گالی کھا کے بھی طمانیت محسوس کرتے ہیں.
ایک طوائف اپنے گھر کے صدر دوازے کی سیڑھیوں پر بیٹھی پان کھا رہی تھی، پیک پھینکی تو ایک نوجوان کے سفید کپڑوں پر جا گری، اس نے غضب ناک ہو کے گالی جو بکی تو طوائف مسکرا اٹھی، کہنہ برس، عمر گزار چکی، جوانی کب کی خواب ہوئی اور راتیں بے مہر ہوئیں، انگڑائی لے کر بولی: ’’جوانی یاد کروا دی ، تمہاری گالی نے‘‘
سو دوستو! جوگالی کھا کے مسکرا دیں، ان کا کیا علاج؟

پنجاب یونیورسٹی کے معاملے میں ہم جماعت اسلامی کے کارپردازان سے بھی کچھ گزارشات کریں گے. حضور زمانہ بہت بدل گیا، پانی بہت آگے نکل گیا، دریا کب کے خشک ہو چلے، اب خاک اڑے گی، آپ کے سر پر بھی پڑے گی. آپ بھی اپنی اداؤں پر غور کریں. ہر دوسرا بندہ جو آپ کی تنظیم کا حصہ نہیں، آپ سے شکوہ کناں ہے. آپ کے ورکرز کے معاملات ایسے شفاف نہیں کہ اجلی چادر کہیں. جب آپ رشد و ہدایت کی، دین کی، اصلاح کی بات کرتے ہیں تو اپنے معاملات اور کردار کو اتنا ہی اجلا کرنا ہوگا.