بزرگ چہروں کا مان - حیا حریم

سورہ یوسف کی تفسیر بالماثور پر تحقیق کا کچھ کام کر رہی تھی کہ اس آیت پر پہنچی جہاں زلیخا کا یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کا ذکر ہے، اس سے اگلی آیت میں اللہ فرماتے ہیں کہ یوسف نے رب کی طرف سے برہان دیکھ لی تو زلیخا کا ارادہ سمجھ گئے اور معتصم وعفیف رہے, اس برہان کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں. امام سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ’’یوسف علیہ السلام کے لیے دیوار پر ان کے والد یعقوب کا عکس ابھرا تھا جو انہیں استقامت کا اشارہ کر رہے تھے.‘‘
پڑھتے ہی اک لمحے کو میں رک گئی، بار بار یہی جملہ نظر میں گردش کرنے لگا، یوسف کے والد یعقوب کا عکس!

یوسف علیہ السلام تو نبی تھے، خدا ان کے پاس کسی فرشتے کو بھیج دیتے، انہیں دل میں القاء و الہام کر دیتے، لیکن رب نے ان کے بزرگ بابا کی صورت ہی کیوں دکھائی تھی۔
پھر مجھے وہ لڑکی یاد آئی جو مجھے ملی تو بتا رہی تھی کہ وہ عشق میں مبتلا تھی، دونوں کا گھر چھوڑ کر جانے کا ارادہ تھا، جس روز نکلنا تھا اسی شب خواب میں اس نے اپنے ابو کے سر پر کچھ سفید بال دیکھے، یہ محض خواب نہیں، خواب ہدایت تھا، وہ صبح اٹھی اور نادانی کا ارادہ ترک کر دیا. یوں اللہ نے اسے بچایا۔

ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل کے بگاڑ کی کہانیاں بہت عام سی ہوگئی ہیں، کہیں کوئی معصوم بیٹی غلط قدم اٹھاتی ہے تو آنسو بزرگ ماں باپ کے جھریوں زدہ چہرے پر بہتے ہیں، کہیں کوئی بیٹا جوانی خراب کرتا ہے تو سفید سر مزید جھک جاتے ہیں۔ آئے روز عزتیں تار تار ہورہی ہیں، تربیتیں نیلام ہو رہی ہیں، کبھی کسی کے پاؤں میں کوئی باوقار پگڑی ڈالی جاتی ہے، کبھی کوئی پاکیزہ دوپٹے ڈال کر واسطے دے رہا ہوتا ہے لیکن جنون ایسا ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا.

یوسف علیہ السلام کا قصہ میرے سامنے تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ سفید بالوں والے بوڑھے چہرے کتنے عظیم ہوتے ہیں، کتنے قریب ہوتے ہیں، جو یوسف علیہ السلام جیسے نبی کے لیے بھی فکر مند تھے. تفسیر کے صفحات پلٹتی جارہی تھی، آخری صفحے پر لکھا تھا ’’اور ان کے واقعات میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے.‘‘
ہاں یہی تو عبرت تھی، یہی تو سبق تھا، یوسف علیہ السلام کو بزرگ چہرہ دکھانے کا مقصد ہمیں ان بزرگ چہروں کا مان سلامت رکھنے کا درس تھا اور ان کا وقار بحال رکھنے کی تلقین تھی. اے کاش! کہ ہم یہ درس سمجھیں۔

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.