پاکستان ایک ملٹری سٹیٹ، کتنا سچ کتنا جھوٹ؟ سنگین زادران

ہم آئی ایس آئی کے جن ایجنٹس کو پیار سے آبپارہ بوائز کہتے ہیں، انھی ایجنٹس کو امریکن سی آئی اے کے بڑے نفرت سے rouge boys یعنی بدمعاش لڑکے کہتے ہیں۔ اور پروپگینڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں آئی ایس آئی کا ضرورت سے زیادہ عمل دخل ہے اور پاکستان ایک ملٹری سٹیٹ ہے۔ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا پسِ منظر کیا ہے؟

کسی بھی ملک میں بین الاقوامی دہشت گردوں، مجرموں، اور سیکرٹ ایجنٹس کو سفارتی ویزے جاری کر کے بھیجا جاتا ہے۔ یہ لوگ سفارتی آداب اور بین الاوامی قوانین کی آڑ میں اس خاص ملک میں رہ کر گھٹیا اور گھناؤنی کاروائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کی آڑ میں جرائم دنیا کے ہر ملک میں ہوتے ہیں اور ان کا کوئی دستاویزی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اب ہوتا یوں ہے کہ سفارتی مجرموں یا جاسوسوں کی آمد سے قبل اور کبھی کبھار ان کی آمد کے بعد خفیہ ادارے ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ سفارتی سطح پر کیے جانے والے جرائم کا کبھی ثبوت نہیں چھوڑا جاتا۔ اس لیے ثبوتوں کی عدم موجودگی میں ایسے لوگوں پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر ہاتھ ڈالا جائے تو پھر امریکہ جیسے ممالک اسے جمہوریت اور سفارتی آداب کے منافی قرار دے کر پوری دنیا میں شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کنٹرولڈ بین الاقوامی میڈیا پوری شدت سے پراپگینڈہ شروع کر دیتا ہے کہ فلاں ملک سفارتی آداب کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ کنٹرولڈ میڈیا کے زریعے طاقتور ممالک اتنا زیادہ پراپگینڈہ کرواتے ہیں کہ سفارتی مجرم یا سفارتی جاسوس پکڑنے والے ملک کو کبھی کبھی لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔

ان حالات میں جو ملک ان سفارتی مجرموں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ سے یہ کرتا ہے کہ سفارتی مجرم کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں سفارتی سطح پر کی جانے والی دھشت گردی، جرائم اور جاسوسی کو روکنے کےلیے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ کیوں کہ جیسے ہی کسی سفارتی مجرم یا سفارتی جاسوس کی غیر قانونی سرگرمیاں کسی ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو پتہ لگتی ہیں وہ فوری طور پر اپنے محکمہ ء داخلہ اور محکمہ ء خارجہ کو آگاہ کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد محکمہ ء داخلہ ملک کے اندر ان سفارتی مجرموں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور محکمہ خارجہ ان مجرموں کے ملک کے ساتھ سفارتی سطح پر معاملہ اٹھاتا ہے کہ آپ کا فلاں شخص ہمارے ملک کے اندر ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اسے روک دیں نہیں تو ہم اسے ملک سے نکال دیں گے۔ عام طور پر کوئی کور ایجنٹ یعنی سفارتی مجرم یا جاسوس بے نقاب ہو جائے تو اس کا ملک اسے خود ہی واپس بلا لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحمد للہ ایکسٹینشن کی ٹینشن ختم ہوئی - سید طلعت حسین

اب پاکستان پہ آ جائیں، یہاں کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کام کرنے کا اپنا طریقہ کار رہا ہے ماضی میں۔ صدر ایوب اور صدر ضیاء چونکہ دونوں فوج سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کے دورِ اقتدار میں ہماری ایجنسیوں کو کھلی چھوٹ تھی کہ دیگر ممالک کے سفارتی عملے کے افراد اگر پاکستان میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں تو حسبِ توفیق ان کی ٹھکائی کر دی جائے, یا پھر "فوت" کر دیے جائیں۔ روس کا موجودہ صدر ولاڈی میر پیوٹن روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کا سابقہ سربراہ ہے۔ روس میں آج بھی یہی ہوتا ہے کہ سفارتی چکروں میں پڑنے کے بجائے غیر ملکی جاسوسوں کو یا تو گرفتار کیا جاتا ہے یا پھر ٹھوک دیا جاتا ہے۔ اب بالکل اسی طرح جیسے روس اپنے دفاعی معاملات میں سفارتی اقدامات کے بجائے جارحانہ اقدامات کرتا ہے ہماری ایجنسیاں صدر ایوب کے زمانے سے یہی کرتی آ رہی ہیں۔ جب پاکستان ایٹمی قوت بنا تو پاکستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کی یلغار میں غیر معمولی شدت آ گئی ردِ عمل کے طور پر ہماری دفاعی ایجنسیوں کے تادیبی اقدامات میں بھی شدت آ گئی۔ ہماری خفیہ ایجنسیز جس پر ہاتھ ڈالتیں وہ ہاتھ ملتا رہتا یا پھر اسے ہاتھ ملنے کا بھی موقع نہ ملتا۔ ہم آئی ایس آئی کے جن ایجنٹس کو پیار اسے آبپارہ بوائز کہتے ہیں، انہی ایجنٹس کو امریکن سی آئی اے کے بڑے نفرت سے rouge boys یعنی بدمعاش لڑکے کہتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ ماضی میں ان لڑکوں نے جس بھی سفارتی مجرم کی گردن پہ ہاتھ ڈالا یا تو اس کی گردن کا منکا ٹوٹا یا پھر یہاں سے سٹریچر پر ہی واپس گیا۔ یہ صورتحال طاقتور ملکوں خاص طور پر امریکہ کےلیے قابل، قبول نہیں تھی۔ کیوں کہ امریکہ وہی آنکھ مچولی پاکستان میں بھی چاہتا ہے جو دوسرے ملکوں میں کھیلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحمد للہ ایکسٹینشن کی ٹینشن ختم ہوئی - سید طلعت حسین

یعنی سفارتی عملے کا کوئی بندا غیر قانونی سرگرمیوں میں پکڑا جائے تو اسے چپ چاپ ملک بدر کر دیا جائے یا پھر سفارتی سطح پر بات چیت کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے۔ لیکن پنڈی بوائز ایسے سفارتی مجرموں کا علاج اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اس مٹی کی آبیاری اپنے خون سے کرتے ہیں اور اس ملک کا نقصان کرنے والوں کو سبق سکھانا ان کےلیے عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ دوسری بات سفارتی سطح پر ہم ریمنڈ ڈیوس اور جوئیل کاکس جیسے مجرموں کو سزا دلوانے میں ناکام ہوئے۔ سفارتی یا حکومتی حکام اگر ایسے معاملات میں مطلوبہ جرات اور دانشمندی دکھانے میں ناکام رہیں تو یہی بہتر ہوتا ہے کہ قوم کے مجرموں کو براہِ راست سزا دے دی جائے۔ ہمارے خفیہ ادارے امریکی بالادستی کو قبول کرنے کے بجائے قوم کے مجرموں کو براہِ راست سزا دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ براہِ راست سزا دینے کا عمل ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس پر امریکہ شور کرتا ہے کہ پاکستان سکیورٹی سٹیٹ ہے اور یہاں خفیہ ایجنسیاں سرکاری معاملات میں ضرورت سے زیادہ دخل دیتی ہیں۔ امریکہ کو اپنے ایجنٹس کےلیے جو زرخیزی دنیا کے کئی ممالک میں ملتی ہے یہاں ہماری ایجنسیاں وہ دسیتاب نہیں ہونے دیتی ہیں۔ ہماری ایجنسیاں دایاں ہاتھ دکھا کر بائیں کی چپیڑ جڑتی ہیں۔ ویسے بھی جب حسین حقانی جیسے لوگ برملاء اعتراف کریں کہ ہماری حکومت نے امریکی جاسوسوں کو ویزے جاری کیے تو سکیورٹی اداروں پر یہ فرض ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی سرکوبی کےلیے ہر طرح کے قانون کو بالائے طاق رکھ کے کام کریں۔ بس اتنی سی حقیقت ہے پاکستان کے ملٹری سٹیٹ ہونے کی۔

Comments

سنگین زادران

سنگین زادران

سنگین زادران خود کو ایک عام پاکستانی سمجھتے ہیں جو نظریہ پاکستان کے دفاع پاکستان کے دفاع کے برابر خیال کرتا ہے اور جدت میں روایت کو ساتھ لے کر چلنے کو بدعت خیال نہیں کرتا۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.