میڈیا، وہ اور آپ - علی عمران

ہمارے محترم بھائی نور الوہاب صاحب نے مفتی منیب الرحمن صاحب کا ایک سوال کوٹ کر کے خود بھی ایک سوال قائم کیا تھا. محترم مفتی صاحب نے سوال کیا تھا کہ غامدی صاحب بتائیں کہ داعش اور القاعدہ کو آپ بھی غلط کہتے ہیں اور ہم بھی. پھر میڈیا آپ کو دکھاتا ہے، ہمیں نہیں. آخر کیوں؟

اس پر نورالوہاب صاحب نے سوال کیا تھا کہ آخر غامدی صاحب میڈیا کے محبوب کیوں ہیں؟
اس پر عرض کیا کہ
مفتی صاحب دین کا وہی روایتی بیانیہ پیش کر رہے ہیں، جو اسلام کے شروع دن سے چلا آ رہا ہے. وہ داعش کو اگر نہیں مان رہے اور رد کر رہے ہیں، تو اسی بیانیے کی روشنی میں، جبکہ غامدی صاحب کے پاس تجدد کی کوکھ سے برآمد ہونے والا وہ بیانیہ ہے، جس کی بنیاد ہر اس چیز کو شریعت کی بنیاد فراہم کرنی ہے، جس کی طرف انسانی نفس طبعاً مچلتا ہے، مگر شریعت نے اسے گناہ قرار دیا ہے. غامدی صاحب اس گناہ کو عین حکم شرعی بنا کر اتنا ہی نہیں کہ احساسِ گناہ مٹا رہے ہیں، بلکہ اسے ایسے ہی ’’ثواب کی چیز‘‘ بنا کر پیش کر رہے ہیں، جیسے کوئی دوسری ثوابی چیز ہو سکتی ہے. دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب سرمایہ دارانہ نظم کی پرو اور پری فکر کے لیے رکاوٹ بننے والے ہر فکر اور تحریک کی ’’شرعی بنیادوں‘‘ پر تغلیط کا فریضہ انجام دے رہے ہیں. لہذا ان کا داعش کو غلط ٹھہرانا کسی اور وجہ سے ہے اور مفتی منیب الرحمن صاحب کا کسی اور وجہ سے. اور آج کے میڈیا، حکومت، اسٹیبلشمنٹ کو وہ فکر چاہیے، جس کی بنیاد پر غامدی صاحب رد کرتے ہیں، کیونکہ یہی ان کی حاجت ہے، نہ کہ وہ فکر، جس کے مفتی صاحب حامل ہیں!

اس پر برادرم سبوخ سید نے ایسی تین باتوں کا پوچھا..
ان کی فرمائش پر عاجز نے عرض کیا کہ..
تین ہی کیوں یار! تین سے زیادہ کیوں نہیں؟
بہرحال آپ نے تین کا مطالبہ کیا ہے، تو تین ہی عرض ہیں.
پہلی بات یہ کہ انسانی خواہش اور طبیعت سے سب سے زیادہ جو چیز ٹکراتی ہے، وہ سنت اور حدیث ہے، کیونکہ یہ آپ کو کہیں بھی اپنی مرضی نہیں کرنے دیتی. یہ آپ کو بتاتی ہے کہ آپ نے کھانا یوں کھانا ہے، سونا یوں ہے، چلنا یوں ہے، کپڑے یوں پہننے ہیں، سر کے بالوں تک کے بارے میں آپ کو احکام دیتی ہے. غامدی صاحب نے سب سے پہلے اسی بنیاد پر چھری چلائی اور سنت کو سنت کی فہرست سے اور تعریف سے نکال دیا.. یوں سنت کی وجہ سے جو امت کی ایک مخصوص پہچان، ایک مخصوص حلیہ، ایک الگ شناخت بنی ہوئی تھی، وہ ایک دم میں ہی بیچ سے گرجاتی ہے اور بندہ سب کچھ بن کر، سب کچھ پہن کر، سب کچھ سن کر بھی مسلمان ہی رہتا ہے. اتنا ہی نہیں، بلکہ حقیقی مسلمان..!
دوسری بات یہ کہ شریعت نے عفت اور عصمت کو بہت زیادہ توجہ دی ہے، اس کے لیے علاجاً وہ سارے رستے بند کردیے ہیں، جو اس میں بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں. ان میں سب سے اہم رستہ ہے، مخلوط ماحول کی حوصلہ شکنی کرنا اور اس کے اسباب کا سد باب کرنا، جبکہ غامدی صاحب اپنی تعلیمات سے درپردہ اسی ماحول کو پروموٹ کر رہے ہیں، غیر محرم سے مصافحہ، گرل فرینڈ کلچر کو بذریعہ ویلنٹائن ڈے پروموٹ کرنا، وغیرہ وغیرہ، ایسی تعلیمات ان کے ہاں بکثرت پائی جاتی ہیں، اور یہ پروموشن بھی قرآن و حدیث کی ’’روشنی‘‘ میں فرما رہے ہیں.
تیسری بات یہ کہ مذہب کو ریاست سے الگ کرنا اور پھر الگ رکھنا، یہ سرمایہ دارانہ نظم کے سب سے اہم ترین مقاصد میں سے ہے. جمہوریت اور پھر جمہوریت میں بھی سیکولرازم اور لبرل ازم کو خاص اسی خاطر گھڑا گیا ہے. غامدی صاحب متبادل مذہبی بیانیے کے ذریعے اسی فکر کو اسلام کے لبادے میں فروغ دے رہے ہیں.
تلک ثلاثۃ کاملۃ.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.