کیا بھارت سیکولر ملک ہے؟ احسن سرفراز

تقریباً بائیس کروڑ آبادی پر مشتمل اتر پردیش دریائے گنگا کے انتہائی زرخیز اور گنجان آباد میدانوں پر پھیلی ہوئی ریاست ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی اور رقبے کے لحاظ سے پانچویں بڑی ریاست ہے۔ یہاں مسلمان 20 فیصد پائے جاتے ہیں۔ اس کی سرحدیں نیپال کے علاوہ بھارت کی ریاستوں اتر انچل، ہماچل پردیش، ہریانہ، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ اور بہار سے ملتی ہیں۔

اتر پردیش کا انتظامی و قانونی دار الحکومت لکھنؤ ہے جبکہ اعلیٰ عدالت الہ آباد میں قائم ہے۔ یوپی بھارت کی سب سے زیادہ غلہ پیدا کرنے والی ریاست ہے۔ بھارت میں فروخت ہونے والے ہر پانچ ٹریکٹرز میں سے ایک اسی ریاست میں فروخت ہوتا ہے۔

اترپردیش قدیم اور قرون وسطی بھارت کی طاقتور سلطنتوں کا گھر تھا۔ ریاست کے دو بڑے دریاؤں، گنگا اور دریائے جمنا، الٰہ آباد میں ملتے ہیں اور پھر گنگا مشرق کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ریاست میں کئی تاریخی، قدرتی، اور مذہبی سیاحتی مقامات ہیں، جیسا کہ، آگرہ، وارانسی، دیوبند، رائے بریلی، کوسامبی، کانپور، بلیا، شراوستی ضلع، گورکھپور، اناؤ، چوری چورا میں واقع گورکھپور، کشی نگر، لکھنؤ، جھانسی، الٰہ آباد، بدایوں، میرٹھ، متھرا، جونپور، اترپردیش اور مظفر نگر۔

اتر پردیش میں پہلے ملائم سنگھ یادیو کی سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی اور ملائم سنگھ کا جواں سال بیٹا اکھلیش یادو وہاں کا وزیر اعلیٰ تھا۔ یہ حکومت اکھلیش کی محنت اور صاف ستھری ریاستی پالیسیز کی بدولت اپنی سماجی و معاشی ترقی کے حوالے سے پورے بھارت میں اپنی مثال آپ سمجھی جاتی تھی اور دلتوں، مسلمانوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے ووٹوں سے منتخب ہوئی تھی۔ لیکن پچھلے دنوں اتر پردیش میں ہونے والے الیکشنز میں حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر جو نتائج شائع کیے ہیں، اس کے مطابق بی جے پی نے 312 نشستیں جیتی ہیں۔ اس طرح 403 رکنی اسمبلی میں اس نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد 54 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ بہوجن سماج پارٹی 19 اور دیگر نے 18 نشستیں حاصل کیں. 2012ء میں سماج وادی پارٹی نے 224 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ بی ایس پی 80، بی جے پی 47 اور کانگریس 28 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔

یہاں جو سب سے اہم بات ہے کہ اس 20 فیصد مسلم آبادی والی ریاست میں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ جی ہاں ایک بھی مسلمان کو۔ یعنی یوپی میں اس کی پالیسی خالصتاً ہندو ووٹر پر انحصار، اور مسلم ووٹر کو یکسر نظر انداز کرنے کی رہی، جو کہ ’’سیکولر‘‘ بھارت میں وننگ فارمولہ ثابت ہوا۔

اب آئیے بی جے پی کی طرف سے نامزد کردہ نئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی شخصیت اور خیالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ BBC کی رپورٹ کے مطابق

’’یو پی کے نامزد وزیراعلی اور سخت گیر ہندو نظریات کے حامل بے بی جی پی کے رہنما یوگی آدتیہ ناتھ اپنے متنازع بیانات کے لیے معروف ہیں جن کے نشانے پر اکثر ملک کی اقلیتیں رہی ہیں۔ سیاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی شناخت ایک فائر برانڈ ہندو رہنما کی رہی ہے۔ وہ سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے نظریات سے کافی قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ اپنی سیاسی سفر کے آغاز سے ہی وہ نفرت انگیز بیانات دیتے رہے ہیں جن کی فہرست کافی طویل ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں ان کے ایسے بیانات کچھ اس طرح سے ہیں۔
جون 2016: جب ایودھیا میں متنازع ڈھانچہ (بابری مسجد) کو گرانے سے کوئی نہیں روک سکا تو مندر بنانے سے کون روکے گا ۔
اکتوبر 2016: مورتی و سرجن (دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو پانی میں دفنانا) سے ہونے والی آلودگی تو دکھتی ہے لیکن عید اور بقرہ عید کے دن بنارس میں ہزاروں مویشیوں کے کاٹنے سے بہنے والا خون براہ راست گنگا جی میں بہتا ہے، کیا وہ آلودگی نہیں تھی؟
اکتوبر2015 میں دلی سے متصل دادری میں گائے کی قربانی کرنے کے شبہے میں ہندوؤں نے محمد اخلاق کو ان خاندان کے سامنے قتل کر دیا تھا۔ اس قتل کے ردعمل میں یوگی نے کہا: یوپی کابینہ کے وزیر اعظم خان نے جس طرح اقوام متحدہ جانے کی بات کہی ہے، انھیں فوری طور پر برخاست کیا جانا چاہیے۔ آج ہی میں نے پڑھا کہ اخلاق پاکستان گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کی سرگرمیاں بدل گئی تھیں۔ کیا حکومت نے یہ جاننے کی کبھی کوشش کی کہ یہ شخص پاکستان کیوں گیا تھا؟ آج اس کی اتنی عزت افزائی ہو رہی ہے۔
جون 2015: وہ لوگ جو یوگا کی مخالفت کر رہے ہیں انھیں انڈیا چھوڑ دینا چاہیے۔ جو لوگ سوریہ نمسکار کو نہیں مانتے انہیں سمندر میں ڈوب جانا چاہیے۔
اگست 2015: مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھنا ایک خطرناک رجحان ہے، یہ ایک تشویش ناک بات ہے، مرکزی حکومت کو کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
فروری 2015: اگر اجازت ملے تو میں ملک کی تمام مساجد کے اندر ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھوا دوں۔ جیسے ارياورت نے آریہ بنائے ویسے ہی ہندوستان میں ہم ہندو بنا دیں گے۔ پوری دنیا میں بھگوا (ہندو) پرچم لہرا دیں گے۔ مکہ میں غیر مسلم نہیں جا سکتا ہے، ویٹیکن میں غیر عیسائی نہیں جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں ہر کوئی آ سکتا ہے۔
اگست 2014: میں لو جہاد کے تعلق سے یوگی کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا۔ اس میں وہ اپنے حامیوں سے کہتے ہیں 'ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر وہ ایک ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں تو ہم 100 مسلم لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروائیں گے۔ بعد میں یوگی نے ویڈیو کے بارے میں کہا کہ میں اس معاملے پر کوئی صفائی نہیں دینا چاہتا۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے ایسے متنازع بیانات کی فہرست کافی لمبی ہے اور جب بھی موقع ملا وہ انڈيا کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔‘‘

یہ ہے اس سیکولر بھارت کا اصل چہرہ جس کے مرکز میں گجرات کا قصائی 3 ہزار مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار مودی براجمان ہے اور اب ایک اور جنونی یوگی آدتیہ ناتھ کی صورت میں اس کی آبادی کے لحاظ سے بڑی ریاست میں وزیر اعلیٰ بننے جا رہا ہے۔ ان حالات میں ہمارے ہاں امن کی آشا کی آڑ میں ہر وقت سیکولر بھارت کے قصیدے پڑھنے والے عناصر کو اس سیکولر بھارت کے چہرے سے نقاب الٹنے کے بعد ایک جنونی ہندہ مملکت کا اصل چہرہ دیکھ لینا چاہیے۔ ہماری ریاست کے تمام عناصر کو اپنی ہمسائے میں اس جنونی حکومت کی انتہا پسند ذہنیت سے ہر وقت آگاہ رہنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں کشمیر اور پانی کے تنازعے میں اپنا مؤقف عالمی سطح پر پوری تیاری سے پیش کرنا ہوگا۔

اللہ ہمارے ملک کی قیادت کو اندرونی و بیرونی خطرات سے آگاہ رہنے اور اس کا بروقت تدارک کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com