شب کا مسافر - سخاوت حسین

شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ شفق پر سورج کی سرخ لکیر الوداع ہوتے مسافر کے آخری سلام کی طرح دور پردہ افق سے الوداعی سلام کہہ رہی تھی۔ لاہور کی سڑکوں پر اسی طرح گہما گہمی تھی۔ چنگ چی رکشے اپنے سفر پر رواں دواں تھے۔ بازاروں میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ مجھے کسی کام سے اردو بازار جانا تھا، لیکن رش تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اردو بازار کے شروع میں لگے سٹیشنری کے ریڑھے اپنے آپ میں ایک داستان تھے۔ سائیڈ پر چنے والا چنے بیچ رہا تھا۔ بڑی مشکل سے آخر اردو بازار پہنچا۔ رکشے سے اترا۔ واپسی پر مچھلی مارکیٹ سے گزرتے ہوئے بھاٹی کی طرف چل پڑا۔ دل چاہ رہا تھا کہ پٹھورے کھاؤں۔ جیب میں ہاتھ ڈالے تو ابھی کچھ پیسے بچے ہوئے تھے۔ پٹھورے کی دکان پر پہنچا اور پہلی کرسی پر ہی سکون سے ڈھ گیا۔ پٹھورے والے، پٹھورے والے وہ ہر آنے اور جانے والے کو کسی مارکیٹنگ مینیجر کی طرح اپنی طرف بلا رہا تھا۔

تبھی ایک شخص بارہ ربیع الاول کے بیجز اور اس حوالے سے کچھ چیزیں اٹھائے میرے پاس پہنچا۔ صاحب خرید لو، خرید لو صاحب۔ وہ جیسے پیچھے ہی پڑ گیا۔ جاؤ بھئی اللہ معاف کرے۔ ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ وہ تاؤ کھا گیا۔ کیسی معافی؟ میں نے آپ سے بھیک کب مانگی ہے۔ کیا آپ کو بھیگ مانگنے اور محنت کرنے والے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ مجھے اپنے جملوں کی کاٹ کا احساس ہوا۔ اس سے معافی مانگی اور اسے پٹھوروں کی پیشکش کر دی۔ جسے اس نے بڑی خوشی سے قبول کیا۔
کہاں سے آئے ہو؟
جی! وہ اتنے دھیان سے پٹھورے کھا رہا تھا جیسے کئی دن کا بھوکا ہو۔
میرا خواہ مخواہ دل چاہ رہا تھا اسے چھیڑوں۔ کہاں سے آئے ہو؟
جہاں سے سب آتے ہیں۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
سب کہاں سے آتے ہیں؟ میں نے دوبارہ اسے چھیڑا۔
اس پر میں آپ کو اپنی ماں کی ایک بات سناؤں گا۔ میں ماں سے اکثر پوچھتا تھا کہ ہم کیوں آئے ہیں دنیا میں تو وہ کہتی، اس لیے کہ ہمیں دنیا میں آنے کا سلیقہ آجائے۔ ایک وقت آتا ہے جب دنیا ہی ہم میں آجاتی ہے۔
سنو کتنا پڑھے لکھے ہو تم؟ مجھے لگا کہ وہ جاہل ہرگز نہیں، اور ماں والی بات بھی غالبا اس کی اپنی ہی تھی۔
صاحب بی اے پاس ہوں۔ کچھ کتابیں بھی پڑھ رکھی ہیں۔ پہلے والد صاحب ایک دکان کرتے تھے۔ وہ نہ چلی تو ان کی سانسیں بھی نہ چل سکیں، ان کے جاتے ہی ہماری دنیا تاریک ہو گئی۔ میں نے بمشکل بی اے کیا تھا، پڑھائی کا شوق تھا لیکن والد صاحب کی حالت دیکھ کر آگے ایم اے کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ بس پرانی کتابیں کبھی خریدتا۔ ناولز، حکایات اور دیگر کتابیں۔ جب سے دکان بند ہوئی وہ سلسلہ بھی بند ہوا۔ اس کے بعد صبح ریڑھی لگاتا ہوں چنے کی۔ ساتھ بارہ ربیع الاول قریب ہے تو اسی مناسبت سے چیزیں بیچ رہا ہوں شام کو۔
اچھا۔اس لیے شاید کہ جلدی شادی کر سکو۔ میں نے پھر اسے چھیڑا۔
نہیں ایسا کوئی ارادہ نہیں ابھی۔

اب دکاندار ہمیں گھورنے لگا تھا۔ کافی دیر ہوگئی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ چلو یار تم دلچسپ لگے ہو، کہیں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ وہ مان گیا اور ہم بھاٹی ایک کھوکھے کے باہر بیٹھ کر چائے کا انتظار کرنے لگے۔
سنو تم نے محبت کی ہے کبھی، شرماؤ مت، کبھی تو کی ہوگی۔ کوئی لڑکی پسند آئی ہوگی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کبھی کسی نے تمھاری زندگی میں چاہت کا رنگ نہ بھرا ہو۔
صاحب! تمھارے لیے محبت کی ’م‘ معجزہ، ہمارے لیے مزدوری اور موت ، تمھارے لیے محبت کی ’ح‘ حساب دل، ہمارے لیے حرکت مسلسل اور حسرت، تمھارے لیے محبت کی ’ب‘ بے خودی، ہمارے لیے بےروزگاری اور بے حسی، تمھارے لیے محبت کی ’ت‘ تلاطم ہمارے لیے تلخی اور ترجیحات۔ کیسی محبت، محبت بھی تب اچھی لگتی ہے جب پیٹ پر سکون کا اوس گرے۔

تب تک چائے آگئی تھی اور میں اس کی گہری باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ اسے مزید ٹٹولوں۔ چائے کا سپ پیتے ہوئے میں نے کہا۔
سنو محبت تو ہر حال میں خوبصورت ہے۔ محبت پھول کی مہکی ڈالی کا پیغام ہے۔ محبت وفا کا سرخ پھول ہے۔ محبت دل کی کتاب ہے۔ محبت شوخ سحاب ہے۔ محبت یادوں کا حساب ہے۔ محبت حسن کا انتساب ہے۔ محبت عقل کی رکاب ہے۔ دوست محبت ہر حال میں خوبصورت ہے۔
ہاہا، وہ ہنسا۔ صاحب! یہ جو ادب ہوتا ہے نا بڑا ہی بےادب ہوتا ہے۔ یہ مطمئن لوگوں کے چونچلے ہیں۔ جب تمھارا پیٹ بھوک سے اندر ہونا شروع ہوگا نا، تو یہ سارا ادب خود بخود باہر آجائے گا۔ وہ اب بے تکلفی پر اتر آیا تھا اور آپ کے بجائے تم کہنے لگا تھا۔
صاحب! محبت ضرورت کی پیڑ پر سجی دکھ کی کتاب ہے۔ میری ماں میری نظروں کے سامنے مری۔ جانتے ہو کیوں؟ کیوں کہ میرے پاس اس کے علاج کے پیسے نہیں تھے۔ باپ مر چکا تھا، دکان بند ہو چکی تھی، اور رشتے داروں نے بھی ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا اور ویسے بھی غریب کا کون ہوتا ہے رشتے دار۔ بس غربت ہی ہے جو اس سے رشتہ جوڑے رکھتی ہے۔ صاحب! محبت میری بےبسی کی کتاب ہے ۔ اور تم کہتے ہو نا۔ کیا ہے محبت تو سنو۔ میری بہن بن بیاہی گھر کے آنگن میں روز اپنے آنے والے دولہا کا انتظار کرتی ہے۔ ہر دستک کو خوابوں کے شہزادے کی دستک سمجھتی ہے۔ اس کی عمر انتظار میں ڈھل گئی ہے۔ جب تم محبت کی باتیں کرتے ہو تو میں سوچتا ہوں کہ میری بہن جس کے سر میں چاندی اتر آئی ہے، کیا اس معاشرے کی محبت میرے گھر کی دہلیز پر دم توڑ گئی۔ جب بھی کوئی اسے دیکھنے آتا ہے تو جہیز کی ایک لسٹ ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جس گھر میں آٹا انسان سے قیمتی ہو، وہاں جہیز کی چیزیں تو نایاب نوادرات سے قیمتی ہوں گی۔ صاحب! تمھارے سب سوالوں کا یہی جواب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دل پڑا ہے رستے میں - ڈاکٹر عزیزہ انجم

اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ پھٹی قمیض جس میں جگہ جگہ داغ کے نشانات لگے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کئی ہفتوں سے نہیں نہایا۔
جانتے ہو صاحب! میری ایک ماں تھی۔ ہفتوں کھانستی تھی۔ سب کہتے تھے اسے دائمی کھانسی ہے۔ دائمی کھانسی ہونہہ، غربت بھی دائمی، ہماری بیماریاں بھی دائمی۔ کچھ کہتے تھے ماں کو کالا یرقان ہے، ٹی بی ہے، اور پتہ نہیں کتنے نام تھے اس کی بیماری کے۔ ایک دن ہنس کر کہنے لگی۔ بیٹا شکر کر، تیری ماں کو بیماری کی وجہ سے اتنے نام مل گئے ہیں۔ اب انہی ناموں کے ساتھ مر بھی جاؤں تو کیا ہے پتر۔
لیکن صاحب! جب وہ شدید بیمار ہوئی تو میری خواہش تھی کہ مر جائے۔ یہ میری نہیں ہر ضرورت مند کی نہ چاہتے ہوئے بھی یہی خواہش ہوتی ہے۔ یہ جوہمارا سسٹم ہے نا، اس میں انسان مر تو سکتا ہے لیکن جی نہیں سکتا۔ میں مزدور شخص کس طرح پالتا اسے، کس طرح علاج کرتا۔ یہ جو سب بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں نا۔ محبت یہ ہے محبت وہ ہے.
صاحب اس ملک میں کتنے امیر لوگ ہیں۔ جانتے ہو کتنے امیر لوگ جن کے گھروں میں دس دس گاڑیاں ہیں، جن کے گھروں میں اتنا آٹا ہے کہ وہ پورے لاہور کے غریبوں کو پال سکتے ہیں، ان کے بینکوں میں اتنا پیسہ ہے کہ وہ سارے غریبوں کی غریبی دور کرسکتے ہیں۔ قرآن میں تو اللہ کہتا ہے کہ امیروں کے مال میں غریبوں اور مسکینو ں کا حصہ رکھا گیا ہے۔ ان کا خدا الگ اور ہمارا الگ کیوں ہے؟ ان کا نظام الگ اور ہمارا الگ کیوں ہے؟ کیوں یہ تضادات ہیں۔ ہم کیوں زمیں پر رینگنے والے کیڑے اورامیر روشنی کی دنیا کے ٹمٹماتے چراغ۔
جانتے ہو صاحب! اس دور میں سب سے نادر چیز کیا ہے۔ وہ ہے امارت اور پیسہ۔ یہ ہے اس سسٹم کا تحفہ ڈیموکریسی۔ ہونہہ۔ بس غریب کو کریٹ کرنے والا ڈیمو سسٹم۔ جس کی ہر شاخ پر ظلم کی داستان ہی لکھی ہے۔

میں بس اس کی باتوں کے سحر میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہماری چائے ختم ہو چکی تھی۔
سنو میرا دل کر رہا ہے اور چائے پیوں، تم پیو گے؟
وہ ہنسا۔ غریب کو چائے دو، یہی اس کی شراب ہے۔ وہ ہنستے ہوئے بولا.
میں نے لڑکے کو آواز دے کر دوبارہ چائے لانے کو کہا۔
میں سوچ رہا تھاکہ وہ لڑکا جو بی اے پاس ہے، کتنا تنگ ہے اس سسٹم سے۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ سسٹم صرف غریب ہی پیدا کر رہا ہے اور ہمیں کہا جاتا ہے اس سسٹم کی حفاظت کرنی چاہیے۔ کیوں؟ انسان سسٹم کے لیے بنے ہیں یا سسٹم انسان کے لیے۔

سنو! مسائل ہر ایک کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن۔ دوست ہم سب انسان ہی ہیں۔ سسٹم ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ خدا نے کب کہا ہے۔ یہ کیپٹلزم، یہ ڈیمو کریسی ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی ضرورتوں کے لیے بنائے ہیں نا۔ خدا نے کب کہا ہے کہ انسانوں کو اتنے گروہوں میں تقسیم کر دو۔ تم اتنے تلخ مت بنو۔ محبت اتنی بری بھی نہیں۔
میں دوبارہ گویا ہوا۔ میرا مقصد صرف اسے کریدنا ہی تھا۔
صاحب! میں مزدور آدمی ہوں۔ مجھے تو اتنا پتہ ہے۔ سب سے بڑا محلے کا ایم این اے ہے، ایم پی اے ہے، وہ کروڑ پتی ہے۔ غریب کہاں بڑا ہوتا ہے، اس کے ہاں دکھ بڑے ہوتے ہیں اور سکھ کسی تھیلسمیا ہوئے بچے کی طرح کبھی بڑھتے ہی نہیں۔
صاحب! غریب شخص کی چوکھٹ پر ضرورت محبت سے پہلے جوان ہو جاتی ہے۔ اور ہماری لڑکیاں بالوں میں چاندی سجائے محبت کو ڈھونڈتی ہیں۔ آپ غریب سے پوچھتے ہو وہ محبت میں اتنا کاہل کیوں ہے۔ تو سنو محبت بعد میں ضرورت پہلے۔ خدا نے بھی دل چھوٹا سا اور پیٹ بڑا سا بنایا ہے۔ چھوٹے سے دل کو سمجھایا جا سکتا ہے لیکن بڑے سے پیٹ کو کیسے سمجھائیں۔ محبت کے بغیر جیا تو جا سکتا ہے لیکن روٹی کے بغیر نہیں۔ سچ پوچھو تو غریب کی دہلیز پر محبت جب دستک دیتی ہے تو ضرورت دستک کو موڑ دیتی ہے۔ ہم دلوں کو توڑ کر ضرورت کی چیزیں جوڑتے ہیں، کیونکہ صاحب امیر لوگ ویسے ہمارے گھروں میں نہیں آتے۔ کوئی ان کو بتائے کہ غریبوں کے جسموں اور گھروں سے اٹھنے والی بدبو کا ذمہ دار یہ سسٹم ہے۔ یہ نظام ہے۔ یہ نظام جس نے غریب سے سوائے غربت کے ہر چیز چھین لی ہے۔ میری بہن کو کئی لوگ دیکھنے آئے، لیکن جب بھی آتے ان کی آنکھوں میں دولت کی حرص دیکھی میں نے۔ ان کا بھی کیا قصور، وہ بھی ہماری طرح غریب ہی ہیں نا اور سچ پوچھو تو غربت گدھ سے زیادہ خطرناک ہے۔ گدھ مردہ انسان کو نہیں چھوڑتا جبکہ غربت زندہ کو۔ ہم ایک دوسرے کو ہی نوچ نوچ کر کھا جا تے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بلاعنوان - رضوانہ فاروق

رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ چنگ چی کا شور اسی طرح جاری تھا۔ ساتھ سمن آباد اور یتیم خانے جانی والی بسوں اور ویگنوں کے کنڈیکٹر کا شور۔ پان شاپ پر بھی اچھا خاصا رش تھا، وجہ اس کا ٹی وی تھا اور کوئی مزاحیہ شو۔ لوگ پان منہ میں دبائے بس ہنسے جا رہے تھے۔ تھڑوں پر مزدورں نے اپنے بستر بچھا دیے تھے، اور دربار سے ملا ہوا لنگر دنیا سے بے نیاز ہو کر کھا رہے تھے۔ اب اس قبیلے میں مرد اور عورت کی قید نہیں تھی۔ آوارہ کتے بھی سائیڈ پر بے بسی کے عالم میں پھر رہے تھے۔ وہ میرے سامنے غربت کی کتاب بنا ہوا تھا جس کے ہر صفحے پر سسٹم کی سفاکیاں درج تھیں۔

اچھا سنو! تم تو صبح ریڑھی لگا تے ہو۔ شام کو چیزیں بیچتے ہو۔ پھر بھی گھر نہیں چلتا کیا؟
وہ ہنسا۔ اس کی ہنسی میں کرب تھا۔ صبح ریڑھی لگاتا ہوں۔ گھر میں تین بہنیں ہیں۔ دو بھائی ہیں۔ وہ چھوٹے ہیں ابھی۔ دو بہنیں بیمار رہتی ہیں اکثر۔ زیادہ تر پیسے ان کے علاج پر ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال میں تو اکثر ٹیسٹ کی مشینیں ہی خراب ہوتی ہیں اور جب صحیح ہوتی ہیں تو ایک ایک مہینے کی تاریخ دی جاتی ہے۔ میری ماں کے کل گیارہ بچے تھے، باقی دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے مر گئے۔ سب کہتے ہیں۔ غریب منصوبہ بندی پر عمل کیوں نہیں کرتا۔ پہلے یہ تو پوچھ لو کہ وہ منصوبہ بندی کے آپریشن اور دوائیاں بھی خرید سکتا ہے یا نہیں۔ ہمارے محلے کا ایک غریب بچہ تھا۔ جانتے ہو؟ اس کی ماں کے پاس پیراسیٹامول شربت کے پیسے بھی نہیں تھے، بیوہ تھی اور آخر علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچہ مر گیا، کیونکہ وہ کسی غریب کا بچہ تھا۔ کسی امیر کا ہوتا تو اخبارات میں سرخی لگ جاتی۔ چینلز والے آتے اور اتنا شور ہوتا۔ میری بہن بیمار ہوئی۔ اسے ہسپتا ل ایک ٹیسٹ کروانے کے لیے مجھے بیس دن لگے۔
صاحب! تم کب سے مجھ سے محبت کی باتیں کرتے ہو کہ محبت مضبوط کرتی ہے۔ تو یہ محبت امیروں کو غریبوں سے کیوں نہیں ہوتی؟ سسٹم کو ہم سے کیوں نہیں ہوتی؟ یہ محبت روز ان کی گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے حسرت سے تکتے مزدور نما بچے، روز عزت کی نیلامی کرتی وہ معصوم بچیاں، روز ضرورت کی خاطر کسی دہشت گردی میں استعمال ہونے والے وہ معصوم پھول، یہ محبت کے مستحق نہیں کیا؟ اور تم کہتے ہو محبت خوبصورت ہے۔ کیسی خوبصورتی صاحب۔ جب غریب کے گھر سے جنازہ نکلتا ہے تو دوسرا غریب خوش ہوتا ہے کہ آج کچھ اچھا کھانے کو ملے گا۔ غریب والدین کا جنازہ گروی رکھ کر چاول اور گوشت خریدتا ہے تاکہ رسم ادا ہو سکے۔

میں اس کی آنکھوں میں چھپے دکھ کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے بے رونق ہونٹ، کھردرے میلے ہاتھ، ناخن بڑھے ہوئے، بےترتیب بال۔ سچ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا دکھ ہی غریب کا دکھ ہے۔

وہ کہہ رہا تھا۔ صاحب! یہ جو دل ہے نا، بڑا ہی کمبخت ہے۔ غریب کے ہاں ضرورت کے لیے ہر وقت دھڑکتا ہے اور امیر کے ہاں ہارٹ اٹیک کے وقت بےترتیب ہو جاتا ہے۔ غریب کو ضرورتیں ترتیب سے بےترتیب کر دیتی ہیں۔ اس کے گھر کا آنگن جہاں خواہشات کے بہت بڑے گڑھے دفن ہوتے ہیں۔ جہاں ایک دن وہ بھی بےترتیب سانسوں کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے۔ یہی ہے غریب کا دکھ اور محبت۔ تمھاری دنیا کی محبت جو بہت خوبصورت ہے۔

اس کی چائے کب کی ختم ہو چکی تھی، لیکن آنکھوں کے میں چند غربت کے موتے جھلملا رہے تھے۔

Comments

سخاوت حسین

سخاوت حسین

سخاوت حسین نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے، دل میں جہاں گردی کا شوق رکھتے ہیں، افسانہ، سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں