ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا - نورین تبسم

جذبات و احساسات انسانی زندگی کی پہلی علامت ہیں۔ جسمانی طور پر جیسے ہی وجود کا احساس سانس لیتا ہے، اسی لمحے سوچ کے در بھی وا ہو جاتے ہیں۔ شکمِ مادر میں دھڑکن کے ساتھ ساتھ خیال کی رو بھی پروان چڑھتی ہے۔ شعور کی آمد سے بہت پہلے لاشعور کی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں جو ایک ماہرعکس ساز کی طرح معمولی جزئیات بھی محفوظ کرتی ہیں۔ ضروری غیرضروری کی شعوری چھان پھٹک سے ماورا، انسانی ذہن بڑی چابکدستی سے، اندھیری کوٹھڑی میں رہتے ہوئے، روشنی کا ہر منظر ایک محدود وقت میں من وعن جذب کرتا چلا جاتا ہے، تاوقتیکہ روشنی کی پہلی کرن اُس کے شعور پر دستک دیتی ہے۔ اگرچہ اس وقت محض دوسروں کا شعور اسے پہچان جاتا ہے لیکن ابھی چند برس اور اس نے اپنا شعوری ڈیٹا مکمل کرنا ہوتا ہے۔

تین سال کی عمر سے، جب بچے کی لفظ سے شناسائی شروع ہوتی ہے، وہ بڑی تیزی سے لاشعور سے شعوری علم کی سیڑھیاں طے کرتا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعد میں آنے والے حالات اور تعلیم وتربیت کے پیشِ نظر لاشعوری اور شعوری ڈیٹا میں رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے۔ سائنس کی جدید تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہلے تین سال کی عمر تک بچے کے ذہن کی خالی سلیٹ پر جو نقش ٹھہر جائے وہ ساری زندگی وہیں رہتا ہے۔ بعض ممالک میں تو زمانہ حمل ملا کر نومولود کی عمرکا تعین کیا جاتا ہے۔

دُنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد بچہ اپنی شعوری حسیات کے ساتھ دُنیا کے رنگ تلاشتا ہے، لوگوں سے سیکھتا ہے، اُن کے رویوں پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ شیرخوار ہوتا ہے تو بڑوں کے رحم وکرم پر ہوتا ہے، جو کہتے ہیں مان لیتا ہے، جو دیتے ہیں لے لیتا ہے. تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس کے فیصلے حتمی نہیں مانے جاتے۔ ہر قدم پر زندگی برتنا سکھایا جاتا ہے۔ آسمانِ دنیا پر اُڑنا سیکھتا ہے۔ اپنے طور پر بھی وہ اس تجریدی تصویر کے رنگوں کو جانچتا ہے۔گزرتے پل بلوغت کے ساتھ بالغ نظری بھی عطا کرتے ہیں۔ وہ اپنی سوچ اپنے عمل میں کسی حد تک خودمختار ہوجاتا ہے۔ دین دنیا کی سمجھ آتی ہے تو اپنے کیے ہر عمل کا جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔

ہر انسان فوم کے ٹکڑے کی طرح ہے۔ ایک عمر ایسی ہوتی ہے کہ لاشعوری طور پر ہی سہی اپنے آپ کو ملنے والے اسباق جذب کرتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ رسنا شروع ہو جاتا ہے لیکن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی نہیں آتی۔ یہی انسان ہونے کی نشانی بھی ہے۔ جو جذب کیا جاتا ہے وہ اپنا اپنا مقدر ہے لیکن اُسے کس شکل میں باہر نکالنا ہے، یہ اصل امتحان ہے۔ مایوسی، محرومی اور ناانصافی اکثر اسی طور باہر نکلتی ہے۔ فرد پر ظلم بسا اوقات معاشرے پر ظلم میں بدل جاتا ہے۔ انسان اپنے شعور سے کام لے کر ترقی کی منازل طے کرتا ہے تو کبھی یہی شعور اُس کے خلافِ عقل اور ننگِ انسانیت کاموں میں مددگار بنتا ہے اور اسے شیطان سے بڑھ کر شیطان بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تیزی سے گزرتی زندگی اور کرنے کا اصل کام - بشارت حمید

انسان کے آخری سانس تک کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ زندگی میں اُس کے لاشعور کا پلڑا بھاری رہا یا شعور نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اعتدال ہر دو جگہ لازم ہے۔ کامیابی کا پیمانہ یہی ہے کہ انسان شعوری طور پر اپنی جگہ حاضر ہو۔ زندگی اوراس کی ذمہ داریاں بحسن وخوبی سرانجام دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے لاشعور کے مندر میں بجنے والی گھٹیوں کی آواز سے بھی غافل نہ ہو جو نہ صرف آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں، راہ نمائی کرتی ہیں بلکہ وقت گزرنے کے احساس سے بھی آگاہ کرتی چلی جاتی ہیں۔

لاشعور انسان کے باطن کا علم ہے تو شعور گردوپیش کے حالات و واقعات کا۔ گردشِ زمانہ اور مسائل اپنے دام میں الجھا کر اپنی ذات سے بےپروا کر دیتے ہیں۔ عمر کے بڑھتے سائے میں وقت مٹھی میں دبی ریت کی طرح سرکتا ہے۔ جسمانی قوی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ وہیں لاشعور پہلے سے زیادہ طاقتور اور توانا ہونے لگتا ہے۔ یہ بات عین حق ہے کہ انسانی زندگی کا سفر ایک دائرے کا سفر ہی تو ہے، جہاں سے آغاز ہوا آخر وہیں انجام بھی ہونا ہے۔

ڈھلتی عمر میں لاشعور کی گرفت مثبت منفی دونوں اثرات رکھتی ہے۔ ڈھلتی عمر کے مثبت پہلو سے نہ صرف فرد بلکہ اُس کے آس پاس اور معاشرے پر بھی ایک خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر اس کے منفی پہلو کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔ ستم یہ کہ زیادہ تر وہ بھی جو ساری زندگی اپنےزورِ بازو پر بھروسہ کر کے دُنیا فتح کرتے چلے گئے اور آخر میں جب اپنے اندر کی دنیا میں جھانکا تو ناقدری کی باس میں لپٹی مایوسی نے بیڑیاں ڈال کر قید کر دیا۔ تنہائی کا آسیب زندگی کے بچے کچے رنگوں کو ملا کر اتنا بدرنگ کر دیتا ہے کہ گھر کا سب سے قیمتی نقش کباڑ خانے میں رکھنے کے قابل بھی نہیں لگتا۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان کی تین غلط فہمیاں - شاکراللہ چترالی

بڑھتی عمر کے منفی اثرات ہم اکثر اپنے آس پاس دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ عورت سے زیادہ مرد پر اس جنریشن گیپ کا اثر پڑتا ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ عورت ہمیشہ کی طرح اس رنگ کو بھی بڑی مہارت سے چھپا لیتی ہے، ’’کباڑخانے‘‘ میں رتی برابر جگہ ملنے کو بھی صبر و شکر سے قبول کر کے، خانہ خدا کی مثل، سرکش روحوں کو طواف پر مجبور کر دیتی ہے۔ دوسری طرف مرد ساری عمر اپنی محنت مشقت سے بنائے ہوئے شیش محل سے باہر نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ راجہ اندر کی طرح ہر وقت سجے سجائے دربار دیکھنے کا متمنی، جہاں اس کے وزراء و مشیران جی حضوری کے قیام میں کھڑے ہوں، رعایا اس کے ہر فرمان کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے۔

آخری بات!
ایک لمبے سفر کے بعد جب کوئی اپنے ٹھکانے پر پہنچتا ہے تو کسی پُرسکون جگہ بیٹھ کر وہ پیچھے رہ جانے والے راستوں، خطرناک گھاٹیوں اور مسحورکن نظاروں کے بارے میں سوچتا ضرور ہے۔ یادوں کی البم ہویا تصویر کہانی وہ ہر منظر کو دُہراتا ہے۔ کبھی خوش ہوتا ہے کبھی غمگین۔ یہی حال زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ذمہ داریاں کم اور زندگی کی رفتار سست پڑنے لگتی ہے یا پھر ’’نئی مشینری‘‘ کے سامنے اس کی وقعت کم پڑ جاتی ہے تو انسان کے پاس اپنے ساتھ گزارنے کے لیے وقت مل ہی جاتا ہے۔ کبھی وقت کم ہوتا ہے اور زندگی بہت زیادہ۔ بہت مصروف اورکبھی زندگی بہت محدود۔ بہت مختصر رہ جاتی ہے اور وقت کاٹے نہیں کٹتا۔ نیند کی دیوی جو چڑھتے سورج کی بچاری ہوتی ہے زندگی کی ڈھلتی شام میں آنکھیں چومنے سے انکار کر دیتی ہے۔ کبھی اس بےمہر وقت کو توبہ کا غسل دے کر پاک کرنے کی سعی کی جاتی ہے تو کبھی مایوسی اور تنہائی کے آسیب ہر ساتھ کا اعتبار ختم کر دیتے ہیں۔ جو بھی ہے زیادہ تر وقت تیزی سی گرتی جسمانی مشینری کو سنبھالتے گزر جاتا ہے۔

زندگی کے سفر کا پرسکون انداز میں اختتام کرنے کے لیے سب سے اہم بات جذباتی، جسمانی اوراس سے بڑھ کر مالی لحاظ سے کسی رشتے، کسی تعلق کے حوالے سے دوسرے انسان کا محتاج نہ ہونا ہے۔ کسی ساتھ کی ضرورت کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس ساتھ میں اپنی مرضی یا اختیار کی چاہ رکھنے والے اکثر دنیا سے بےنیل و مرام ہی جاتے ہیں۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں