بیل گاڑی کا کتا - محمد اقبال قریشی

دوستو راقم نے اب تک جس ادارے میں بھی کام کیا، ایک چیز سب میں مشترک پائی۔ وہ یہ کہ ہر ادارے میں بیل گاڑی کا کتا کسی نہ کسی روپ میں موجود ہوتا ہے۔ بہت سے یار لوگ جن کا اوڑھنا بچھونا مطالعہ اور لکھنا پڑھنا ہے، اس محاورے سے ضرور واقف ہوں گے لیکن اگر کسی کو یہ پڑھ کر الجھن ہو رہی ہے، ان کے لیے وضاحت پیش خدمت ہے

یقیناﹰ آپ نے زندگی میں کبھی نہ کبھی بیل گاڑی دیکھی ہوگی. اگر کبھی آپ نے اُس پہ غور کیا ہو تو وہ مندرجہ ذیل چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے.
گاڑی کو چلانے والا اُس کا مالک، گاڑی کو کھینچنے والا بیل، رات کے سفر کے لیے لٹکتی ہوئی ایک لالٹین اور گاڑی کے نیچے نیچے چلتا ہوا ایک کُتا.

آپ سب دوست باقی تمام چیزوں کی افادیت تو جانتے ہی ہوں گے لیکن مجھے کُتے کے متعلق بڑا تجسس تھا. پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بیل بیچارہ جب تھک جاتا ہے تو کُتا بیل کے آگے پیچھے گھوم کے بھونکتا ہے. بیل اُس کے بھونکنے کی وجہ سے دوبارہ چل پڑتا ہے، لیکن کچھ عرصہ بعدگاڑی کے نیچے نیچے چلنے والے اِس کتے کو ایک گمان ہو جاتا ہے، کہ گاڑی میں موجود جتنا بھی وزن ہے وہ اُس نے اُٹھایا ہوا ہے، بیل بے چارہ تو خواہ مخواہ پاگلوں کی طرح جھومتا چلا جا رہا ہے۔

صد ہزار بار معزرت کے ساتھ، راقم نے آج تک جتنے بھی اداروں میں کام کیا، اس کم عقل کتے کو کسی نہ کسی شکل میں اپنی دم ٹانگوں میں دبائے بیل گاڑی کے نیچے نیچے چلتا ہوا پایا۔

Comments

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی: مدیر، مترجم، ادیب، اور کہانی کار۔ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے نائب مدیر رہ چکے ہیں ۔ شکاریات، مہم جوئی اور کمپیوٹرسائنس پر مبنی ان کی تحریریں ایک عرصہ تک اردو ڈائجسٹ کے صفحات کی زینت بنتی رہیں۔ بچوں کے ادب اور درسی کتب کی تحریر و ترتیب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!