میں معذور سہی، لیکن - سائرہ فاروق

وہ عورت سامنے والی سیٹ پر آ کر بیٹھی، ساتھ میں سات آٹھ سال کی بچی بھی تھی؛ جس کے نیلے آسمانی رنگ کے فراک پر سفید چھوٹی بوٹی اس کے کھلتے سرخ و سفید رنگت پر کھل رہی تھی. مجھے کچھ بے چینی سی ہوئی، مگر میں نے اپنا خیال جھٹکا،
’’ذرا ساتھ ہوں ناں اتنی جگہ ہے...‘‘ اک چنگھاڑتی آواز لوکل سواریوں والی سوزوکی میں گونجی، اور اونچا بولتی اس عورت کا پہلا تاثر ہی میری نظر میں بگڑ گیا.
ساتھ والی عورت مزید آگے سرک گئی مگر اس خاتون کے ماتھے کی شکن، اور چہرے پر سجی نخوت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، اور نہ ہی میرے مشاہدے سے نکل پا رہی تھی
’’توبہ.... اے بھائی چلاؤ نہ گاڑی، کیا مارنے کا ارادہ ہے‘‘ درشتی کی انتہا پر اس کا لہجہ سن کے لگا؛ بداخلاق بھی ہیں موصوفہ .. میرا تاثر اس پر پکا ہونے لگا، اب میری نگاہ پھسلی اور بچی پر آ ٹکی اور مجھے پھر بے چینی نے گھیرا.
اس عورت کے ہاتھ میں کئی شاپنگ بیگ تھے، اور دوسرے ہاتھ سے اس نے بچی کا بازو پکڑ رکھا تھا، سوزوکی اب دھیمی رفتار سے چلنے لگی، اس عورت نے اترا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے لیے اپنا ہاتھ چھوڑا، کہ اچانک وہ بچی کھڑی ہوگئی اور باہر چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جو بروقت میں نے ناکام بنا دی. اسی اثنا میں میرا بازو بری طرح زخمی ہوگیا مگر بچی محفوظ ہوگئی، ابھی میں سنبھلی نہیں تھی کہ اس بچی نے مجھ پر حملہ کر دیا، میرا بیگ فائل نیچے گرادیا، اور غرانے لگی، اس کی رال بہنے لگی، اس عورت نے اسے پاس بٹھا کر نہ جانے کیا بولا کہ بچی شانت ہوگئی، مگر مجھے مسلسل کینہ توز نظروں سے دیکھنے لگی.
اس کی رال مسلسل بہہ رہی تھی اور نظریں مجھ پر جمی تھیں... اچانک میری بے چینی ختم ہوگئی.
اس عورت کی نگاہوں میں میرے لیے لحظہ بھر کی شکر گزاری ابھری.

یہ بچی جسمانی طور ٹھیک تھی مگر ذہنی معذوری کا شکار تھی، اس کا سر بھی معمولی طور پر چھوٹا تھا، جانے کیوں میرے شکوے دل میں بلند ہونے لگے.... کیوں اللہ جی... آخر ایسا کیوں؟
ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہے آپ کی بیٹی، اچانک ہی بے اختیار جملہ پھسلا، اندر گھٹن بڑھ گئی تھی شاید.
’’بس خوبصورت ہی ہے اور کوئی حالات نہیں‘‘ مجھے اس کے جملے نے شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا
یہ ایک بیٹی کی ماں کا وہ شدید بےحس ردعمل تھا جو اُسے اس کی سوسائٹی نے کسی طوق کی طرح گلے میں پہنا دیا تھا.
جانے کیوں اس کے بارے میں میرے تاثر میں تبدیلی آئی، وہ مجھے اب تھکی ماندی، مسلسل زندگی کے میدان میں جنگ زدہ دکھی، نہتی سپاہی لگی.
’’ایسا نہیں بولتے‘‘ میں آہستہ سےگویا ہوئی.
’’تو کیسے بولوں؟ لڑکی ذات ہے، کل میں نہ ہوئی تو.... کیا بنے گا اس کا؟ معاشرہ اس کو جینے دے گا؟ کیسے سنبھالے گی خود کو؟ کیسے بچائے گی خود کو؟‘‘ وہ تڑخ کر بولتی گئی.
یہ ایک ماں کی پریشانی تھی جو میرے سامنے کھل کے سوال پر سوال رکھ رہی تھی، اس بات سے بھی بے نیاز کہ سب سواریاں اس کی جانب متوجہ ہیں.
’’میں کمزور نہ تھی، مجھے اس نے کمزور کر دیا ہے، بیمار ہوں میں، جانے کب بلاوا آجائے... میرے بعد کون سنبھالے گا اسے؟‘‘
’’اللہ‘‘..... بے اختیار میرے منہ سے نکلا.

اور پھر خاموشی کا طویل وقفہ ہم دونوں کے درمیان در آیا، لمحے ہمارے درمیان بوجھل سے ہونے لگے، سوزوکی جگہ جگہ سواری کے لیے رکتی اور سفر طویل لگنے لگا.
’’جسمانی طور پر یہ صحت مند ہے، کیا اسے پیشہ ورانہ تربیت کی طرف توجہ دے رہی ہیں؟‘‘
’’ہاں سوچ رہی ہوں، پہلے عام سکول میں ڈالا تھا مگر پھر.. وہاں نہ چل سکی.‘‘
جانے کس آس پر اس نے ڈالا ہوگا، مجھے اضمحلال ہوا.
’’ادارے تو بہت اچھے ہیں یہاں، پیشہ ورانہ تعلیم بھی دی جاتی ہے، آپ اسے وہاں داخل کروائیں تاکہ یہ اپنا بوجھ اٹھا سکے، آپ کی ذمہ داری عام ماں سے زیادہ ہے، کیا آپ اس بات کو سمجھتی ہیں؟‘‘ میرے استفسار پر اس نے اثبات میں سر ہلایا.
’’آپ اسے سمت دیں، منزل تک خود پہنچے گی یہ، اس کے راستے ادھورے ہیں ابھی، خود سے نہیں چل سکے گی. آپ کو تھوڑا دور ساتھ چلنا ہے ابھی، ذرا سی محبت اور توجہ کے ساتھ، یہ اپنی زندگی جی لے گی، آپ کو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں.‘‘
’’اچھا!‘‘ وہ مسکرائی، تو مجھے لگا زندگی خوبصورت ہے.
’’پتہ ہے مجھ سے آج تک کسی نے ایسی بات نہیں کی، لوگ مجھے گنہگار سمجھتے ہیں بات کرتے کرتے اس کا چہرہ بگڑا، وہی نخوت، جھنجھلاہٹ، بیزاری زندگی کے خوبصورت چہرے کو مسخ کرنے لگی. میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا جو ہلکے سے لرز رہا تھا.
’’اس کے ساتھ کوئی اپنے بچے کھیلنے نہیں دیتا، اس کی دادی اپنے کمرے میں آنے نہیں دیتی، اس کے باپ نے پیدائش سے اب تک اس کو گود میں نہیں اٹھایا، بس خرچہ دے دیتا ہے اور باقی اس کی نگہداشت کی ذمہ داری، احساس کی ذمہ داری، ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ذمہ داری، محبت کرنے کی ذمہ داری صرف میری ہے. اس کی پیدائش کے بعد خاوند نے کمرہ الگ کر لیا کہ میری نیند خراب ہوتی ہے، کیا رات کو جاگنے کی ذمہ داری بھی صرف میری ہے؟ اب اگر یہ ایسی ہے تو کیا اس میں بھی صرف میں ہی قصور وار ہوں؟ کیا یہ میری کسی گناہ کی سزا ملی مجھے؟‘‘

یہ بھی پڑھیں:   محبت تو آج بھی زندہ ہے - مسزجمشیدخاکوانی

’’کیا آپ اسے سزا سمجھتی ہیں؟‘‘ میں اب الجھی.
’’نہیں‘‘ اس نے قطعیت سے کہا. آپ سے بات کر کے پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ یہ سزا نہیں. سزا تو وہ سارے رشتے ہیں جو انسان کو صرف نامکمل دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں، انھیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں. گاڑی نے اب رفتار پکڑی تو مجھے لگا کہ اب منزل زیادہ دور نہیں.
بازو کے درد نے شدت پکڑی، تو میں نے سسکاری سی لی، اچانک اس کی مخروطی انگلیاں میرے بازو پر پھیلیں
’’درد ہے‘‘ اس نے پیار سے پوچھا.
’’ نہیں، پہلے تھا اب نہیں‘‘ میں مسکرائی تو وہ بھی مسکرا دی.
’’زندگی خوبصورت ہے یار‘‘ مجھے پھلجھڑی سوجھی تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی
اور، پھر یوں ہوا کہ زہرا کی تصویر نے مجھے احساس دلایا کہ واقعی زندگی خوبصورت ہے، اگر آپ باہمت ہیں تو کسی بھی قسم کی ذہنی، جسمانی معذوری آپ کا راستہ نہیں روک سکتی.

زہرا؛ جو پیدائشی ہاتھوں پیروں سے محروم ہونے کے باوجود زندگی کی دوڑ میں کسی سے بھی پیچھے نہیں اور اپنے ادھورے وجود کے ساتھ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر گئی.
فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کر کے دکھا دیا کہ قابلیت میں وہ کسی سے کم نہیں، اسے کسی بھی مکمل انسان کی قابلیت کی نسبت کمتر تصور نہ کیا جائے.
دنیا میں ایسے کئی نام جو معذور ہونے کے باوجود کامیاب رہے بلکہ نارمل لوگوں کے لیے اک مثال بن کر ابھرے، ان میں نمایاں مثال ہیلن کیلر کی لگی مجھے، جو دیکھنے، سننے، بولنے سے محروم تھیں اور اس پر ایک اور مشکل کہ وہ عورت بھی تھی، لیکن انھوں نے ثابت کر دیا کہ وہ باہمت خاتون ہیں، وہ ہاری نہیں. اس کے علاوہ آئن سٹائن، اسٹیفن ہاکن، تھامس ایڈیسن، کے نام اور خدمات سے ایک دنیا مستفید ہو رہی ہے، یہ زندگی کے میدان کے سچے فائٹر ہیں جو کئی بار ٹوٹیں ہوں گے، روئے ہوں گے، مگر پھر اک جنون سے کھڑے ہوئے ہوں گے. لیکن اگر انھوں نے دوبارہ ہمت پکڑی تو اس کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ سب ترقی یافتہ ممالک کے معزز معذور شہری تھے جہاں ان کے معاشرے کا رویہ مثبت تھا، تکلیف دہ نہیں تھا. ترقی پذیر ممالک میں نظر دوڑائیں تو ایسے معذور لوگوں کو معزز شہری ہی نہیں سمجھا جاتا، والدین بھی جلد اکتا جاتے ہیں، مہمان آنے پر انھیں چھپا دیا جاتا ہے، وہ انھیں باعث ندامت تصور کرتے ہیں. معاشرے میں ان سے الگ تھلگ رہنا سخت ناانصافی ہے. یہ خصوصی افراد گھر میں ناروا سلوک کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ٹھوکروں کے بھی مستحق ٹھہرتے ہیں. افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذہانت کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور انھیں ریجیکٹ اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہ عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   یورپ میں عورت کے خلاف تشدد عروج پر

ان کے گھمبیر مسائل میں بے روزگاری پہلے نمبر ہے. سفری مسائل، خصوصی اداروں تک رسائی میں مشکلات، طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی بدولت ان کی زندگی بد سے بدتر ہوجاتی ہے، ایسے میں انھیں سائیں کہہ کر گلیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں یہ سسک سسک کر جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، ان میں سے کئی پیٹ کی آگ کے آگے ہار مان کر بھکاری بن جاتے ہیں، اور پھر ستم دیکھیے کہ ہماری مزید نفرت کا شکار بھی یہی ٹھہرتے ہیں. ہم اپنے سینوں میں اتنی نفرت لے کر کیسے جی لیتے ہیں، یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں. اکثر یہ حدیث یاد آتی ہے کہ ایسے ہی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے. (مسلم 2524)

ریاست کے اولین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انھیں ناکارہ نہ سمجھے، ان کے لیے ماہوار وظائف مقرر کرے، انھیں روزگار کی سہولتیں فراہم کی جائیں، طبی سہولتیں صرف سرکاری ہسپتال میں ہی نہیں بلکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی فری ممکن بنائی جائیں، مخصوص ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے تاکہ خصوصی اداروں سے عام، یا فنی تعلیم کا حصول آسان ہو سکے. جرمنی میں ایسے بھی سکول ہیں جہاں اسپیشل بچوں کو عام بچوں کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے، اس سے نہ صرف معذور بچوں کی بہترین نشوونما ہوتی ہے بلکہ نارمل بچے ان کے ساتھ مثبت رویے کی تربیت حاصل کرتے ہیں.

معذورں سے بہیمانہ سلوک ختم ہونا چاہیے، 21ویں صدی میں بھی اتنی ٹیکنالوجی، جدت دیکھنے کے باوجود ہمارے رویے اگر آج بھی پتھر کے دور کی عکاسی کر رہے ہیں تو سوچ لینا چاہیے کہ کیا ہم جدید دور کے واقعی مہذب باشندے ہیں؟ کیا اس سوچ پر نظرثانی کی ضرورت نہیں؟ اللہ تعالٰی نے انھیں ایک کمی دی تو کئی مخفی صلاحیتوں سے بھی تو نوازا ہے، بس انھیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، انھیں تنہا مت کریں ان کے ساتھ میل جول بڑھائیں، انھیں ان کی شناخت ڈھونڈنے میں مدد کریں، انھیں آپ کی ترحم آمیز نظر سے زیادہ آپ سے محبت کی نظر کی توقع ہے، ان کی حوصلہ افزائی کریں، تحفظ دیں، سب سے بڑھ کر انھیں انسان سمجھیں، یہ کسی گناہ کی پاداش نہیں بلکہ یہ بھی اک تحفہ ہیں، اگر اللہ نے آپ کو دے دیا ہے تو اسے اپنی دنیا کا حصہ بنائیں، اثاثہ بنائیں، اور ان کے والدین کو بھی مکمل سپورٹ دیں.